بخیئے اُدھیڑ کر سیا کر

بخیئے اُدھیڑ کر سیا کر

تحریر:نسیم شاہد

روزانہ کی بنیاد پر ایک نیا حکم نیا فرمان آ جاتا ہے۔ کوئی وجہ بتائی جاتی ہے اور نہ جواز فراہم کیا جاتا ہے بس ایک حکم ہے، جس پر عملدرآمد کا فوری پروانہ نظر نواز ہوتا ہے۔ اب تازہ فرمان یہ جاری ہوا ہے کہ چھ ایسی یونیورسٹیاں جو کالجوں سے یونیورسٹیوں میں تبدیل کی گئی تھیں اُن کے نام سے اب ”یونیورسٹی“ ہٹا دیا گیا ہے۔ان میں گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد، گورنمنٹ کالج خواتین یونیورسٹی فیصل آباد، گورنمنٹ کالج وویمن یونیورسٹی سیالکوٹ، گورنمنٹ صادق کالج یونیورسٹی بہاولپور اور لاہور کالج فار وویمن یونیورسٹی لاہور شامل ہیں اب انہیں گورنمنٹ کالج کہا جائے گا،یونیورسٹی نہیں، تاہم ان کا یونیورسٹی سٹیٹس برقرار رہے گا، یعنی یہ ڈگری ایورارڈنگ ادارے ہوں گے۔ اب اس کے پس پردہ منطق کیا ہے، نوٹیفکیشن میں تو اِس کا بیان نہیں ہوا تاہم 6مئی2026ء کو یونیورسٹی ایکٹ میں ایک ترمیم صوبائی اسمبلی نے پاس کی تھی جس میں نام تبدیل کرنے کا فیصلہ ہوا تھا۔ اب23اکتوبر کو محکمہ ہائر ایجوکیشن نے اس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔یہ تجربات کیوں کئے جاتے ہیں ان کا فائدہ کیا ہوتا ہے یہ تو کبھی سامنے نہیں آتا،البتہ اس شق میں کتنے کروڑ روپے اب ضائع ہوں گے یہ بات بہت پکی ہے کہ ان کا حجم بہت زیادہ ہوگا۔ایک ادارے کے نام کی تبدیلی معمولی بات نہیں ہوتی،پوری سٹیشنری، پورا ریکارڈ، مین گیٹ سے لے کر ہر جگہ لگنے والے بورڈ و سندات، غرض ہر چیز نئی بنانا پڑتی ہے پھر ادارے کی شناخت کا بھی عالمی سطح پر مسئلہ بن جاتا ہے،جو طلبہ یونیورسٹی نام کی ڈگری لیکر جا چکے،اب وہ وضاحتیں دیتے رہیں گے ہم جب پڑھتے تھے، اُس وقت نام کے ساتھ یونیورسٹی بھی تھا۔ اب جو نئے داخل ہوئے ہیں انہیں ڈگری کالج والے نام کے ساتھ جاری ہو گی، گوگل سرچ میں آپ ایک حرف بھی دوسرا لکھ دیں تو شناخت بدل جاتی ہے، یہاں تو پورا نظام ہی بدل دیا گیا ہے،جس زمانے میں یہ سب کچھ ہو رہا تھا، کسی نے اعتراض نہیں کیا اور اب جو کیا گیا ہے اس پر بھی کوئی اعتراض نہیں ہو گا کہ سب اپنی دنیا میں مگن رہتے ہیں۔ گورنمنٹ کالج لاہور کے راوین تو اس فیصلے پر بہت خوش ہیں انہوں نے کبھی بھی گورنمنٹ کالج کے ساتھ یونیورسٹی کے لفظ کو خوش دِلی سے قبول نہیں کیا تھا۔اُن کے بقول گورنمنٹ کالج لاہور کی اپنی شناخت اتنی بھاری بھر کم اور درخشندہ روایات کی حامل ہے کہ اُسے کسی اضافت کی ضرورت ہی نہیں تھی، ویسے بھی اُس زمانے میں جو شہ دماغ تھے انہوں نے یہ عجوبہ تخلیق کیا تھا کہ کالج کے ساتھ یونیورسٹی لگا دیا تھا اور درمیان میں کوئی فل سٹاپ، کوئی قامہ اور اینٹر بھی نہیں تھا۔
اب جبکہ بندوبستی نظام چل پڑا تھا اور لوگ گورنمنٹ کالج کے ساتھ یونیورسٹی لگانے کے عادی ہو گئے تھے اسے بیک جنبش ِ قلم بدل دیا گیا۔ ہونا تو یہ چاہئے اب نام کی تبدیلی سے پہلے ان اداروں کے اساتذہ سے رائے لی جائے کیونکہ جب ان کالجوں کو یونیورسٹی بنایا گیا تو اُن کی شناخت بھی بدل گئی۔ وہ کالج اساتذہ سے یونیورسٹی کے اساتذہ بن گئے۔ اب انہیں دوبارہ کالج اساتذہ بنا دیا گیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ان چھ کالجوں کی حیثیت عام کالجوں جیسی نہیں۔ یہ یونیورسٹی کا درجہ رکھتے ہیں، ان کی خود مختاری اور ڈگری جاری کرنے کا اختیار اپنی جگہ موجود ہے مگر کہلائیں گے تو کالج ہی۔ کچھ حلقے یہ سوال بھی اُٹھا رہے ہیں کہ اگر یہ کالج نام کے ساتھ چلیں گے تو ان کے سربراہ کو پرنسپل کہا جائے یا وائس چانسلر۔ ایک زمانہ تھا کہ گورنمنٹ کالج لاہو کا پرنسپل بڑی بڑی یونیورسٹیوں کے وائس چانسلروں پر بھاری ہوتا تھا۔ اب وائس چانسلر سربراہ کہلائے گا تو کیا سربراہ ادارہ کی وہ عظمت ِ رفتہ واپس آ سکے گی جو پرنسپل کے نام سے ہوتی تھی۔ ان باتوں سے قطع نظر سنجیدہ سوال یہ ہے کہ اِن کالجوں کو جب یونیورسٹی کا درجہ دیا گیا تھا اس وقت ان کا معیار کیا تھا اور یونیورسٹی کے بعد کیا یہ معیار آگے بڑھ سکا یا تنزلی کا شکار ہوا۔سب سے بڑی تبدیلی یہ آئی تھی کہ اِن اداروں میں تعلیم مہنگی ہو گئی تھی۔ عام طالب علم اِن اداروں میں داخلے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ پھر تعلیمی معیار بھی نیچے آیا، اختیارات کی رسہ کشی بھی آئی۔ اساتذہ کے گروپ بھی بنے، وائس چانسلروں کو نظام چلانے کیلئے گروپ بندی کی کہیں حمایت اور کہیں مخالفت بھی کرنی پڑی۔ بڑھتے بڑھتے بات یہاں تک پہنچ گئی کہ ماضی کے ان عظیم الشان تعلیمی اداروں میں طلبہ و طالبات کے داخلے کم ہوتے گئے۔ گورنمنٹ کالج لاہور جیسا تاریخی اہمیت کا ادارہ کم میرٹ کے باوجود داخلوں کا ہدف پورا نہ کر سکا۔ کالجوں کو یونیورسٹیاں بنانے کا فیصلہ شروع دن سے متنازعہ رہا۔ یہ ایک سہل مگر بھونڈا راستہ تھا جو ہماری حکومتوں نے بڑی حد تک سیاسی مقاصد کیلئے اپنایا۔ یہ تمام ادارے بہت کامیابی سے چل رہے تھے۔ میں آپ کو گورنمنٹ ایمرسن کالج ملتان کی مثال دیتا ہوں۔ 1920ء میں قائم ہونے والے اس تاریخی کالج کو عثمان بزدار دور میں صرف سیاسی پوائنٹ سکورنگ کیلئے یونیورسٹی بنایا گیا۔اُس وقت اس میں طالب علموں کی تعداد گیارہ ہزار تھی،جو صرف ایک سال کے بعد گیارہ سو رہ گئی۔اب یہ یونیورسٹی آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہی ہے۔
یونیورسٹیوں میں داخلوں کی کمی کا سب سے بڑا سبب بڑھتی ہوئی فیسیں ہیں یہ پبلک سیکٹر یونیورسٹیاں غریب اور متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے طلبہ و طالبات کی اُمید ہوتی تھیں، پھر ان کو بھی نجی یونیورسٹیوں کی طرز پر چلایا جانے لگا، فیسیں بے تحاشہ بڑھا دی گئیں، آگے روزگار کے مواقع بھی ناپید ہو گئے۔ تیسرا یونیورسٹیوں نے ایسے پروگرام بھی متعارف نہیں کرائے جو مارکیٹ میں اہمیت رکھتے ہوں۔ سو مکھی پر مکھی مارنے کا یہ عمل نوجوانوں کو ان یونیورسٹیوں سے دور کرتا چلا گیا۔ اول ضرورت اِس پہلو پر توجہ دینے کی ہے کہ ایسا کیوں ہوا،اس کی بجائے کار پردازانِ تعلیم ایسے تجربے کر رہے ہیں جن کی ضرورت ہے اور نہ جن سے مجموعی حالات پر کوئی اثر پڑ سکتا ہے۔چلیں جی ”یونیورسٹی“ کو ان کالجز کے ناموں سے نکال دیا گیا۔ اب اس کے بعد ایجنڈا کیا ہے۔ ہر کام کا کوئی مقصد ہوتا ہے اس کام کا مقصد بھی سمجھایا جائے۔ زمیں جنبد نہ جنبد گل محمد، والی صورتحال سے نکلنے کی ضرورت ہے۔ سب سے اہم کام یہ ہے یونیورسٹیاں نصاب سازی میں وقت اور تقاضوں کے مطابق تبدیلیاں لائیں،ہر سال بے روز گاروں کی کھیپ نہ نکالیں،اُنہیں روشن مستقبل دیں یہی وقت کی ضرورت ہے۔

Leave a reply