آتش فشاں کی راکھ میں دفن حیرت انگیز خزانہ دریافت

اٹلی: ماہرین آثارِ قدیمہ نے قدیم رومی شہر پومپئی کے کھنڈرات سے تقریباً 2 ہزار سال پرانی متعدد اشیا دریافت کی ہیں، جن میں پرفیوم کی شیشے کی بوتل، میک اپ کے آلات، قدیم سکے اور بچوں کا ایک منفرد ہار شامل ہے۔
تاریخی شہر پومپئی 79 عیسوی میں کوہ ویسوویوس کے آتش فشاں پھٹنے کے نتیجے میں تباہ ہوگیا تھا۔ آتش فشاں سے نکلنے والی راکھ اور ملبے نے پورے شہر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا، جس کے باعث یہ علاقہ صدیوں تک زمین تلے دفن رہا۔
ماہرین کے مطابق یہ نوادرات ایک قدیم لکڑی کی الماری سے ملے، جو شہر کی معروف گلی ویا ڈیل ابونڈانزا کے قریب واقع ایک رہائشی مکان کے کمرے میں موجود تھی۔
دریافت ہونے والی اشیا میں چمٹی، پرفیوم کی شیشے کی بوتل، بخور دان، کانسی کی لالٹین، کھانا پکانے کے برتن اور لکڑی کا ایک ڈبہ بھی شامل ہیں۔
تاہم اس دریافت میں سب سے زیادہ دلچسپی کا باعث بچوں کا ایک ہار بنا ہے، جسے مختلف اقسام کے مواد سے تیار کیا گیا تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ قدیم رومی معاشرے میں بچے اس طرح کے ہار پہنتے تھے، جنہیں تحفظ کی علامت یا شناخت کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔
الماری سے 38 کانسی کے سکے بھی برآمد ہوئے ہیں۔ ماہرین کے خیال میں ان اشیا کی موجودگی سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس مکان میں رہنے والا شخص ممکنہ طور پر تاجر یا ہنرمند تھا۔
ماہرین آثارِ قدیمہ کے مطابق قیمتی اور روزمرہ استعمال کی اشیا کا اپنی جگہ موجود رہ جانا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ آتش فشاں پھٹنے کے دوران شہر کے رہائشیوں کو اچانک نقل مکانی کرنا پڑی اور وہ اپنا سامان وہیں چھوڑ گئے۔
واضح رہے کہ اس مکان کو پہلی مرتبہ 1912 میں آتش فشاں کی راکھ سے نکالا گیا تھا، تاہم حالیہ برسوں میں ایک خصوصی منصوبے کے تحت اس کے کمروں کی بحالی اور مزید تحقیق کا کام کیا گیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پومپئی کا بڑا حصہ اب بھی راکھ اور ملبے تلے دبا ہوا ہے اور وہاں آثارِ قدیمہ کی تلاش کا سلسلہ جاری ہے۔ نئی دریافتیں قدیم رومیوں کے رہن سہن، طرزِ زندگی اور روزمرہ معمولات کو سمجھنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔









