نیورالنک کی نئی ٹیکنالوجی، فالج اور بولنے سے محروم افراد اب سوچ کے ذریعے کمپیوٹر چلا سکیں گے

0
15
نیورالنک کی نئی ٹیکنالوجی، فالج اور بولنے سے محروم افراد اب سوچ کے ذریعے کمپیوٹر چلا سکیں گے

دماغی سگنلز کو تحریر اور آواز میں تبدیل کرنے کی ٹیکنالوجی میں اہم پیش رفت، نئی موبائل ایپ کے ذریعے فون کال کرنا بھی ممکن

ٹیکنالوجی کی دنیا میں دماغ اور کمپیوٹر کے درمیان براہِ راست رابطے کی ٹیکنالوجی ایک نئی پیش رفت کی جانب بڑھ رہی ہے۔ ایلون مسک کی کمپنی نیورالنک نے اپنے برین کمپیوٹر انٹرفیس (BCI) نظام میں مزید بہتری متعارف کرائی ہے، جس کے ذریعے جسمانی معذوری اور بولنے کی صلاحیت سے محروم افراد محض سوچ کی مدد سے کمپیوٹر استعمال اور دوسروں سے رابطہ کر سکتے ہیں۔

کمپنی کے مطابق اس ٹیکنالوجی کے ذریعے صارف اپنے ذہنی اشاروں سے کمپیوٹر کا کرسر حرکت دے سکتا ہے، مختلف آپشنز منتخب کر سکتا ہے، پیغامات لکھ سکتا ہے اور دیگر ڈیجیٹل سرگرمیاں انجام دے سکتا ہے۔

72 گھنٹے کا خصوصی تجربہ

نیورالنک نے 29 اکتوبر کو بتایا کہ اس کے انجینئرز نے بولنے کی صلاحیت بحال کرنے سے متعلق کلینیکل تحقیق میں شریک ایک فرد کے گھر پر 72 گھنٹے کا خصوصی ہیکاتھون منعقد کیا۔

اس دوران ایسے نئے فیچرز تیار کیے گئے جن کی مدد سے نظام خودکار طور پر اندازہ لگا سکتا ہے کہ صارف کب بولنے کی کوشش شروع کر رہا ہے اور کب اسے روک رہا ہے۔ اس سہولت سے بار بار ریکارڈنگ شروع یا بند کرنے کے لیے بٹن دبانے کی ضرورت کم ہو جائے گی۔

اس کے علاوہ دماغ سے موصول ہونے والے سگنلز کو حقیقی وقت میں اسکرین پر دکھانے کا نظام بھی تیار کیا گیا، جس سے دماغی سرگرمی کو سمجھنے اور ٹیکنالوجی کی کارکردگی بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔

گروک کو بھی ذہنی احکامات دینے کا تجربہ

نیورالنک کے انجینئرز نے مصنوعی ذہانت کے نظام گروک کو دماغی اشاروں کے ذریعے فعال کرنے کا ابتدائی تجربہ بھی کیا۔

اس طریقے میں صارف ذہن میں مخصوص الفاظ کا تصور کرنے کے بعد مطلوبہ کام کا ذہنی اشارہ دے سکتا ہے، جس کے نتیجے میں کمپیوٹر پر موجود اے آئی معاون کو کام کرنے کی ہدایت ملتی ہے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ تجربہ مستقبل میں انسانی سوچ اور ڈیجیٹل کارروائی کے درمیان رابطے کو مزید تیز بنانے کی جانب ایک قدم ہے۔

بلوم ایپ سے فون کال کرنا بھی ممکن

نیورالنک نے رابطے کے عمل کو آسان بنانے کے لیے بلوم (Bloom) کے نام سے ایک موبائل ایپ بھی تیار کی ہے۔

ہیکاتھون کے دوران اس ایپ کو آئی فون کے کالنگ سسٹم سے منسلک کیا گیا، جس کے ذریعے دماغی سگنلز سے تیار ہونے والی آواز براہِ راست فون کال کے مائیکروفون تک پہنچائی جا سکتی ہے۔

اس میں ایک اختیاری فیچر بھی شامل کیا گیا ہے، جس کے ذریعے کال وصول کرنے والے شخص کو بتایا جا سکتا ہے کہ کال کرنے والا معاون مواصلاتی ٹیکنالوجی استعمال کر رہا ہے۔

تجربے میں شریک ایک صارف نے بتایا کہ اس سہولت کی بدولت وہ طویل عرصے بعد اپنی اہلیہ سے فون پر دوبارہ مذاق کرنے کے قابل ہوا، جو اس ٹیکنالوجی کے روزمرہ زندگی میں ممکنہ استعمال کی ایک مثال ہے۔

ایک مریض نے ایک منٹ میں 75 الفاظ لکھے

نیورالنک نے اپنی اسپیچ ریسٹوریشن تحقیق کے ابتدائی نتائج بھی جاری کیے ہیں، جن کے مطابق اے ایل ایس (ALS) نامی اعصابی بیماری میں مبتلا ایک مریض نے دماغی سگنلز کی مدد سے پہلے ہی ہفتے میں فی منٹ 75 الفاظ تحریر کرنے کی رفتار حاصل کی۔

تحقیق میں استعمال ہونے والے نظام کے پاس تقریباً ایک لاکھ 25 ہزار الفاظ پر مشتمل ذخیرہ موجود تھا، جبکہ الفاظ کی شناخت میں غلطی کی شرح 5.8 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

یہ نتائج کمپنی کے وی او آئی سی ای (VOICE) نامی ابتدائی کلینیکل مطالعے سے متعلق ہیں، جنہیں 28 اکتوبر کو نادر پوراتیان نے نارتھ ایسٹ اے ایل ایس کنسورشیم کے سالانہ اجلاس میں پیش کیا۔

تاہم یہ اعداد و شمار فی الحال ایک مریض کے ابتدائی تجربے پر مبنی ہیں۔ ان نتائج کی آزادانہ سائنسی جانچ اور بڑے پیمانے پر آزمائش ابھی ضروری ہے، اس لیے انہیں حتمی کامیابی تصور نہیں کیا جا سکتا۔

مفلوج افراد کے لیے مستقبل میں نئی امید

نیورالنک مستقبل میں ایسی ٹیکنالوجی پر بھی کام کر رہی ہے جس کے ذریعے دماغ اور جسم کے درمیان حرکتی اور حسی سگنلز کا رابطہ بحال کرنے میں مدد مل سکے۔

اس تحقیق کا مقصد ایسے افراد کے لیے ہاتھوں کی حرکت اور چلنے پھرنے جیسی جسمانی صلاحیتوں کی بحالی کے امکانات پیدا کرنا ہے جو فالج یا دیگر اعصابی مسائل کے باعث حرکت کرنے سے محروم ہو چکے ہیں۔

حرکتی سگنلز جسم کے اعضا کو حرکت دینے میں مدد دیتے ہیں، جبکہ حسی سگنلز لمس اور دیگر احساسات کو دماغ تک پہنچاتے ہیں۔ ان دونوں نظاموں کے درمیان رابطہ بحال کرنا مستقبل کی نیوروٹیکنالوجی کا ایک اہم ہدف ہے۔

نیورالنک کی حالیہ پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ دماغی کمپیوٹر انٹرفیس ٹیکنالوجی محض تجرباتی تصور سے آگے بڑھ کر رابطے اور روزمرہ زندگی میں عملی استعمال کی جانب بڑھ رہی ہے۔ تاہم اس کے محفوظ، مؤثر اور وسیع پیمانے پر استعمال کے لیے مزید طبی تحقیق اور کلینیکل آزمائشوں کی ضرورت برقرار ہے۔

Leave a reply