
اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے مولانا فضل الرحمان کی تنقید پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ تہران میں ہونے والے اجلاس کا مقصد پاکستان کے دفاع سے متعلق کوئی معاہدہ کرنا نہیں تھا، بلکہ فیلڈ مارشل خطے میں امن کے قیام اور فریقین کے درمیان مفاہمت کے لیے کوششیں کر رہے تھے۔
قومی اسمبلی میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ تہران اجلاس میں پاکستان کے دفاع سے متعلق کوئی معاملہ زیرِ بحث نہیں تھا، اس لیے وہاں ان کی موجودگی ضروری نہیں تھی۔ ان کے مطابق فیلڈ مارشل خطے میں امن کے لیے اپنا کردار ادا کر رہے ہیں اور اس کوشش کو مثبت انداز میں دیکھنا چاہیے۔
خواجہ آصف کا یہ بیان مولانا فضل الرحمان کی جانب سے قومی اسمبلی میں کی جانے والی تنقید کے جواب میں سامنے آیا۔ مولانا فضل الرحمان نے سوال اٹھایا تھا کہ جب تہران میں دفاعی معاہدے سے متعلق سرگرمیاں ہو رہی ہیں تو وزیر دفاع کی عدم موجودگی کا کیا جواز ہے۔
وزیر دفاع نے مولانا فضل الرحمان کی سیاسی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ انہیں دوسروں پر تنقید کے ساتھ اپنے سیاسی کردار اور ماضی کا بھی جائزہ لینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان مختلف ادوار میں حکومتوں کا حصہ رہے اور مختلف سیاسی جماعتوں کے ساتھ تعاون بھی کرتے رہے ہیں۔
خواجہ آصف نے کشمیر کمیٹی کی سربراہی کا حوالہ دیتے ہوئے سوال کیا کہ مولانا فضل الرحمان نے اس عرصے کے دوران مسئلہ کشمیر کے لیے کیا عملی اقدامات کیے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی رہنماؤں کو دوسروں پر اعتراضات اٹھاتے وقت اپنی سابقہ ذمہ داریوں اور حاصل کردہ عہدوں کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔
وزیر دفاع نے مزید کہا کہ وہ ماضی میں جنرل ضیا الحق کی حمایت پر معذرت کر چکے ہیں، تاہم ہائبرڈ نظام سے متعلق ان کے مؤقف پر تنقید کے دوران ان کی پرانی تقاریر کا حوالہ دیا جاتا ہے۔ انہوں نے 2018 کے انتخابات پر اپنے تحفظات کا بھی ذکر کیا۔
خواجہ آصف نے الزام عائد کیا کہ مولانا فضل الرحمان اپنی سیاسی اہمیت بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے ایک سیاسی جماعت کا نام لیے بغیر کہا کہ ایک جماعت نے مولانا فضل الرحمان کی سیاسی سرپرستی قبول کر لی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت نے مولانا فضل الرحمان کی تقریر تحمل سے سنی، تاہم اگر ضرورت پڑی تو وہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کی حکومت کے دوران حاصل کیے گئے عہدوں اور مراعات پر بھی بات کر سکتے ہیں۔
قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران اپوزیشن ارکان کی جانب سے شور شرابا بھی کیا گیا، جبکہ کارروائی کے دوران کورم کی نشاندہی کا معاملہ بھی سامنے آیا۔








