صحت مند پنچاب اور حکومت کی کاوشیں

صحت مند پنچاب اور حکومت کی کاوشیں

تحریر:ڈاکٹر فوزیہ تبسم

چند دن پہلے ہمارے رہائشی علاقے اور ملنے والوں میں جو بھی اموات ہوئیں پتا چلا کہ کالے یرقان کی وجہ سے ہوئیں۔ غالب نے خوب کہا ہے کہ

موت کا ایک دن معین ہے

نیند کیوں رات بھر نہیں آتی

موت کے یقینی ہونے کے باوجود انسان لمبے عرصے تک صحت مند زندگی گزارنا چاہتا ہے۔ غالب صاحب کو اس زمانے میں کالے یرقان بیماری کا پتہ چل جاتا تو جو تھوڑا بہت وہ سو رہتے تھے، اس پریشانی میں مکمل طور پر بے خوابی کے مریض ہو جاتے اور شاید قیلولہ سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے۔ بات کہاں سے کہاں پہنچ گئی اور اب کرتے ہیں کالے یرقان کی بات……

کالے یرقان کی بیماری جسے عموماً ہیپاٹائٹس سی کہا جاتا ہے اس دور میں ایک نہایت خطرناک مرض تصور کیا جاتا ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں ہر دس میں سے ایک فرد اس مرض میں مبتلا ہو چکا ہے اور یہ مرض بہت تیزی سے پھیلتا جا رہا ہے۔ اس بیماری کے پھیلاؤ میں مختلف پیشوں سے تعلق رکھنے والے افراد ڈاکٹر سے لے کر حجام تک تمام ہی شامل ہیں۔ یہ بیماری کی علامتیں ظاہر ہونے کے بعد بھی بعض مریض نیم حکیم اور ٹوٹکے والوں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں جس کی وجہ سے یہ بیماری مزید مہلک صورت اختیار کر جاتی ہے اور ایسی سٹیج پر علاج کرنا بھی ناممکن ہو جاتا ہے۔ ہیپاٹائٹس کی علامتوں میں بھوک کا ختم ہوجانا، وزن کا کم ہونا،چہرے پر زردی چھا جانا اور نقاہت محسوس کرنا شامل ہیں۔ ان علامتوں کے علاوہ زرد رنگ کا پیشاب آنا بھی مرض کی علامتوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ہیپاٹائٹس سی 20سے 30سالوں میں جگر کا کینسر بن جاتا ہے اس کا علاج پھر ٹرانسپلانٹ ہی رہ جاتا ہے۔ اس مرض کے پھیلنے کے کئی طریقے ہیں جن میں خون سے خون کا Contact سب سے اہم ہے ایک ہی ریزر سے دوسرے لوگوں کی شیو یہ بیماری بڑی آسانی سے ایک شخص سے دوسرے شخص تک منتقل ہو جاتی ہے۔ یہ بیماری پھیلانے میں بعض دندان ساز بھی شامل ہیں جو اپنے اوزاروں کو بار بار مریض پر استعمال کرتے ہیں اور انہیں ٹھیک طریقے سے Sterlize نہیں کرتے۔ پینے کا گندا پانی بھی ہیپاٹائٹس کی ایک بڑی وجہ ہے۔ Tatooing کرانے والے بھی اپنے آپ کو اس شوق کی خاطر اس مرض کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں۔ ناک کان چھدوانا بھی اس بیماری کا باعث بنتا ہے۔ اس بیماری کی علامات ظاہر ہوجائیں تو وقت ضائع کئے بغیر تشخیص ٹیسٹ کروانا چاہئیں آج کل جگہ جگہ تشخیص لیبارٹریاں موجود ہیں جو غریب لوگوں کو خاص طور پر رعایت بھی دے دیتے ہیں۔ خاص طور پر چغتائی لیب والے اس میں سب سے زیادہ مستحق لوگوں کا خیال کررہے ہیں۔ غریب لوگوں کے لئے اس خطرناک بیماری کے اس قدر مہنگے ٹیسٹ کروانا بھی مشکل ہو چکے ہیں۔

ایک اور المیہ یہ ہے کہ جو دوائی ڈاکٹر مریض کو لکھ کر دیتا ہے اس کا معیار چیک کرنے کے لئے کوئی اچھی لیبارٹری پاکستان میں سرے سے موجود ہی نہیں۔کالے یرقان میں ڈاکٹر حضرات انجکشن تجویز کرتے ہیں۔ انجکشن کے بعد مریض کا بلڈ پریشر اور ٹمپریچر بڑھنا شروع ہو جاتا ہے جس سے سردرد،متلی بھی آنے لگتی ہے۔ اس انجکشن کی قیمت اس قدر زیادہ ہے کہ غریب آدمی کی قوت خرید سے باہر ہے۔ یہ مریض کو بعض اوقات ایک ماہ میں 12مرتبہ بھی لگایا جا سکتا ہے پورے علاج کا وقت 6ماہ سے دو سال تک ہو سکتا ہے۔ یہ انجکشن چائنہ اور دوسرے ممالک سے امپورٹ کیا جاتا ہے اور ہمارے ملک کی مختلف کمپنیاں یہ انجکشن Dilute کرنے کے بعد اس کی Filling اور Packing اپنی کمپنی کے نام سے کرتی ہیں مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ بعض کمپنیاں انجکشن کو اس قدر Dilute کر دیتی ہیں کہ مریض کو کئی انجکشن لگانے کے بعد بھی خاطر خواہ افاقہ نہیں ہوتا اس کی مثال کچھ یوں ہے کہ جیسے ایک کلو دودھ میں پانی کی ملاوٹ اس قدر ہو کہ دودھ کم اور پانی زیادہ ہوجائے۔ مریض اس بیماری کے انجکشن صحت مند ہونے کے لئے لگواتے ہیں مگر بعض اوقات اس کا اثر نہ ہونے کی وجہ سے مرض لاعلاج ہو جاتا ہے نجانے اس بیماری سے کتنے خاندانوں کے چراغ گل ہو چکے ہیں۔ غیر معیاری ادویات کا مسئلہ بہت ہی اہم ہے جس کا اعتراف کئی حکومتیں کر چکی ہیں۔یہ ایک سنگین مسئلہ ہے کیونکہ اس کا تعلق انسانی زندگی سے ہے اور زندگی اللہ تعالیٰ کا انمول عطیہ ہے۔غیر سند یافتہ افردا کو مریضوں کی زندگی سے کھیلنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے ان کے خلاف مروجہ قوانین کے تحت کارروائی کرنی چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ مریضوں کی مالی مشکلات دور کرنے کے لئے شہبازشریف کی طرح ہیپاٹائٹس کنٹرول سیل قئام کرنا چاہیے جہاں ان کے وزیراعلیٰ کے دور میں مفت تشخیص اور علاج ممکن تھا۔ شعبہ صحت سے وابستہ ماہرین اور ارباب و اختیار کو نہایت سنجیدگی سے اس مرض میں مبتلا مریضوں کے علاج معالجے،طریقہء علاج میں پائی جانے والی خامیوں کو ترجیحی اور ہنگامی بنیادوں پر دور کرنا چاہیے اور اس بیماری کے لئے استعمال ہونے والی ادویات کو کم قیمت پر مہیا کرنے کی طرف بھی توجہ دینی چاہیے۔ ہماری خوش قسمتی ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے کے لئے اور صحت کو اپنی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل کیا ہے۔ مریم نواز نے ہیپاٹائٹس کی سکریننگ اور مفت علاج کی فراہمی پر خاص توجہ دی ہے اور بغیر کسی مالی بوجھ کے مفت تشخیص اور علاج کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ مریم نواز نے ”چیف منسٹر پنجاب ڈیزیز پروینشن پروگرام“ کی منظوری دی ہے۔ مریم نواز جانتی ہیں کہ ہمارے ملک کی ترقی اور خوشحالی ملک میں بسنے والے افراد کی صحت اور فطری کارکردگی پر منحصر ہے۔

ڈاکٹر فوزیہ تبسم کا یہ کالم 28 اکتوبر 2026 کو روزنامہ پاکستان میں شائع ہوا ۔

Leave a reply