
ویب ڈیسک: تیز رفتاری سے چہل قدمی کرنے کی عادت طویل اور صحت مند زندگی گزارنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔ ایک طبی تحقیق کے مطابق تیزی سے چلنے والے افراد میں کسی بھی وجہ سے قبل از وقت موت کا خطرہ کم دیکھا گیا ہے۔
ناروے کی نارویجن یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے محققین کی جانب سے کی جانے والی اس تحقیق میں 4 ہزار سے زائد افراد کے طبی ریکارڈ اور چلنے کی رفتار کا جائزہ لیا گیا۔
تحقیق میں شامل افراد 1980 کی دہائی سے ایک طبی منصوبے کا حصہ تھے، جن کا مختلف وقفوں سے طبی معائنہ کیا جاتا رہا۔ بعد ازاں 2012 اور 2013 میں ان کی چہل قدمی کی رفتار جانچنے کے لیے خصوصی آلات کی مدد لی گئی۔
محققین نے شرکا کی چلنے کی رفتار، روزانہ اٹھائے جانے والے قدموں اور صحت سے متعلق دیگر عوامل کا جائزہ لیا۔ اس کے بعد تقریباً 12 سال تک ان کی صحت کی صورتحال کا مشاہدہ کیا گیا۔ تجزیے میں عمر، جنس، تعلیم، تمباکو نوشی، خوراک، جسمانی وزن، بلڈ پریشر اور دائمی بیماریوں جیسے عوامل کو بھی شامل کیا گیا۔
نتائج کے مطابق تیز رفتاری سے چلنے والے افراد میں 12 سال کے دوران کسی بھی وجہ سے موت کا خطرہ 23 فیصد تک کم پایا گیا۔
تحقیق کے مطابق جو افراد ایک سیکنڈ میں تقریباً 1.2 میٹر کا فاصلہ طے کرتے ہیں، ان میں قبل از وقت موت کا خطرہ نمایاں طور پر کم ہوسکتا ہے۔ اسی طرح ایک منٹ میں تقریباً 112 قدم چلنے والے افراد میں یہ خطرہ 17 سے 18 فیصد تک کم دیکھا گیا۔
محققین کے مطابق چلنے کی رفتار کسی فرد کی مجموعی جسمانی صحت کا اہم اشارہ ہوسکتی ہے۔ جب جسمانی صحت متاثر ہوتی ہے تو بعض اوقات اس کا اثر سب سے پہلے چلنے کی رفتار پر ظاہر ہوتا ہے۔ تیز رفتاری سے چلنے کی صلاحیت بہتر جسمانی فعالیت اور بیماریوں پر بہتر کنٹرول کی عکاسی بھی کرسکتی ہے۔
تاہم، تحقیق میں سامنے آنے والا تعلق اس بات کا قطعی ثبوت نہیں کہ صرف تیز چلنے سے موت کا خطرہ لازماً اتنی ہی شرح سے کم ہوجاتا ہے۔
تحقیق کے نتائج طبی جریدے جاما نیٹ ورک اوپن (JAMA Network Open) میں شائع ہوئے۔









