خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کا فیصلہ دہشتگردی کے بڑھتے واقعات کے باعث کیا گیا: وفاقی وزرا

0
33
خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کا فیصلہ دہشتگردی کے بڑھتے واقعات کے باعث کیا گیا: وفاقی وزرا

اسلام آباد: وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں دہشتگردی کے بڑھتے واقعات کے تناظر میں آئینی اختیارات کے تحت ہنگامی اقدامات کیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ قومی سلامتی کے معاملے پر وفاق اور صوبے کی الگ الگ حکمت عملی مؤثر ثابت نہیں ہو سکتی۔

اسلام آباد میں غیر ملکی صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے وفاقی وزرا نے دعویٰ کیا کہ وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا حکومت اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ساتھ دہشتگردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی مرتب کرنے کے لیے متعدد مذاکرات کیے، تاہم اختلافات کے باعث کوئی حتمی اتفاق رائے نہ ہو سکا۔

ایمرجنسی کے لیے آئینی راستہ موجود ہے، وزیر قانون

اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ آئین پاکستان کے آرٹیکلز 232 اور 234 میں غیر معمولی حالات سے نمٹنے کے لیے طریقۂ کار موجود ہے، جس کے تحت وزیراعظم کے مشورے پر صدر مملکت ہنگامی اقدامات کر سکتے ہیں۔

ان کے مطابق ان آئینی شقوں کا مقصد ریاست کو غیر معمولی حالات سے نمٹنے کے لیے قانونی اختیار فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں شہریوں، پولیس، سیکیورٹی اہلکاروں اور سرکاری اداروں کے ملازمین نے بڑی قربانیاں دی ہیں، اس لیے عوام کی جان و مال کا تحفظ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔

وزیر قانون نے خیبر پختونخوا میں دہشتگردی کے واقعات میں اضافے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ان کے پیش کردہ اعداد و شمار کے مطابق 2021 سے 2024 کے دوران صوبے میں 2,911 واقعات رپورٹ ہوئے، جبکہ بعد کے عرصے میں یہ تعداد تقریباً 8,600 تک پہنچ گئی۔

تاہم، بریفنگ میں دونوں ادوار کی مکمل مدت اور اعداد و شمار کی تفصیلی درجہ بندی واضح نہیں کی گئی۔

وفاق اور صوبے کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت نہ ہو سکی

وزیر قانون کے مطابق وفاقی حکومت نے سیاسی اختلافات دور کرنے کے لیے مختلف جماعتوں کے رہنماؤں پر مشتمل کمیٹی بھی تشکیل دی تھی۔ ان مذاکرات میں پی ٹی آئی، پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے نمائندوں نے حصہ لیا، جبکہ اسپیکر قومی اسمبلی نے بات چیت میں سہولت فراہم کی۔

انہوں نے کہا کہ بعض معاملات پر پیش رفت ہوئی، لیکن اختلافات کے باعث مذاکرات کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچ سکے۔ ان کا مؤقف تھا کہ ایمرجنسی جیسے اقدامات حکومت کی پہلی ترجیح نہیں ہوتے اور موجودہ فیصلے کی وجہ سیاسی اختلافات نہیں بلکہ دہشتگردی کی صورت حال ہے۔

افغان سرزمین کے استعمال پر وفاق اور صوبے میں اختلافات

وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ حکومت کی کوشش دہشتگردی کے خلاف قومی سطح پر متفقہ پالیسی تشکیل دینا تھی، نہ کہ پی ٹی آئی یا خیبر پختونخوا حکومت کے خلاف سیاسی کارروائی کرنا۔

ان کے مطابق وفاقی حکومت افغان عبوری حکام سے مسلسل مطالبہ کر رہی ہے کہ پاکستان مخالف سرگرمیوں کے لیے افغان سرزمین استعمال نہ ہونے دی جائے اور دہشتگرد تنظیموں کی محفوظ پناہ گاہوں کا خاتمہ کیا جائے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ افغانستان سے متعلق خیبر پختونخوا حکومت کا مؤقف وفاقی حکومت سے مختلف رہا۔ ان کے بقول مذاکرات کے دوران ایک معاہدے پر اتفاق بھی ہوا، تاہم وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے بعد میں اسے قبول نہیں کیا۔

عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ قومی ایکشن پلان اور اعلیٰ سطح کی اپیکس کمیٹیوں کے ذریعے دہشتگردی کے خلاف اقدامات کا جائزہ لیا جاتا ہے، لیکن ان کے مطابق صوبائی سطح پر رابطوں اور مشترکہ حکمت عملی کے نفاذ میں مشکلات پیش آئیں۔

دہشتگردی اور ہلاکتوں کے اعداد و شمار پیش

وزیر اطلاعات نے خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورت حال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کے بعض علاقوں، خصوصاً جنوبی اضلاع میں دہشتگردوں کے اثر و رسوخ سے متعلق اطلاعات موجود ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ان کے پیش کردہ اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں صوبے میں دہشتگردی کے 3,774 واقعات پیش آئے، جبکہ ستمبر 2026 تک 2,857 واقعات رپورٹ ہوئے۔

بریفنگ میں ان اعداد و شمار کے ماخذ، درجہ بندی اور مختلف ادوار کے تقابل کی مکمل تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

عطا اللہ تارڑ نے پولیس کی استعداد بڑھانے، جدید آلات فراہم کرنے، تربیت بہتر بنانے اور فرانزک سہولتوں کو فروغ دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

پولیس اور انسداد دہشتگردی کے نظام کو مضبوط بنانے پر زور

وزیر اطلاعات نے کہا کہ صوبے کو قومی مالیاتی کمیشن کے تحت 2010 سے اب تک تقریباً 800 ارب روپے فراہم کیے جا چکے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اس کے باوجود انسداد دہشتگردی کے محکمے کو مضبوط بنانے، سیف سٹی منصوبوں، نگرانی کے کیمروں، فرانزک لیبارٹری اور جدید پولیس آلات کی فراہمی پر مزید پیش رفت کیوں نہیں ہوئی۔

انہوں نے گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی رجسٹریشن کے مؤثر نظام کو بھی ضروری قرار دیا اور کہا کہ اس سے مشتبہ گاڑیوں کی شناخت اور دہشتگردی کے واقعات کی تحقیقات میں مدد مل سکتی ہے۔

عطا اللہ تارڑ نے صوبے میں تعلیم، صحت، انتظامی کارکردگی اور بنیادی عوامی خدمات کی فراہمی پر بھی تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ بدامنی نے شہریوں کے روزگار، معمولات زندگی اور معاشی سرگرمیوں کو متاثر کیا ہے۔

بارہ اضلاع کے لیے نئے انتظامی ڈھانچے کا اعلان

وفاقی وزیر اطلاعات کے مطابق خیبر پختونخوا کے 12 اضلاع کے لیے ایریا ریپریزنٹیٹو اینڈ ڈیولپمنٹ کونسل کے نام سے نیا مشاورتی اور ترقیاتی انتظامی ڈھانچہ قائم کیا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ اس نظام میں چیئرمین، وائس چیئرمین، ارکان اور ترجمان شامل ہوں گے، جبکہ یحییٰ اخونزادہ ایڈیشنل چیف سیکریٹری کی حیثیت سے ایڈمنسٹریٹر کے فرائض انجام دیں گے۔

ان کے مطابق نئے انتظامی ڈھانچے میں پولیس، قانون نافذ کرنے والے اداروں، انسداد منشیات، قانونی امور، قبائلی معاملات اور انسانی حقوق سے متعلق شعبوں کو بھی نمائندگی دی جائے گی۔ کونسل کی تشکیل میں علاقائی و قبائلی توازن اور صنفی نمائندگی کو مدنظر رکھنے کا دعویٰ بھی کیا گیا۔

عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ اس انتظام میں مختلف شعبوں کے تجربہ کار افراد شامل ہوں گے اور اس کا مقصد امن و امان بہتر بنانا، دہشتگردی کے خلاف اقدامات میں رابطہ کاری بڑھانا اور عوامی خدمات کی فراہمی کو مؤثر بنانا ہے۔

وفاقی حکومت کا مؤقف: عوام کا تحفظ اولین ترجیح

وفاقی وزرا نے بریفنگ میں اس بات پر زور دیا کہ دہشتگردی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان تعاون ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

حکومت نے اپنے فیصلوں کا دفاع آئینی اختیارات اور سیکیورٹی صورت حال کی بنیاد پر کیا، جبکہ بریفنگ میں پیش کیے گئے بعض اعداد و شمار اور سیاسی دعوؤں کی آزادانہ تصدیق کے لیے تفصیلی شواہد فراہم نہیں کیے گئے۔

Leave a reply