لائبہ کے خواب، 93 لاکھ کا دھوکا اور ایف آئی اے سے انصاف کی امید

کچھ سانحات صرف ایک گھر کا چراغ نہیں بجھاتے، پورے معاشرے کے ضمیر کو جھنجھوڑ دیتے ہیں۔ لائبہ اعجاز کی المناک موت بھی ایسا ہی ایک واقعہ ہے۔ ایک ہونہار طالبہ، جس نے انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد سے گولڈ میڈل حاصل کیا، اپنے بہتر مستقبل کے خواب آنکھوں میں سجائے بیٹھی تھی۔ وہ امریکہ جا کر اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا چاہتی تھی، اپنے والدین کی امیدوں پر پورا اترنا چاہتی تھی، مگر مبینہ فراڈ نے اس کے خوابوں کو ایسی کاری ضرب لگائی جس کا دکھ اب ایک خاندان ہی نہیں، پورا معاشرہ محسوس کر رہا ہے۔ لائبہ کا خواب صرف اس کا اپنا خواب نہیں تھا، اس میں ایک باپ کی محنت اور ایک ماں کی قربانیاں بھی شامل تھیں۔ خبروں کے مطابق لائبہ کے خاندان نے اس کے روشن مستقبل کے لیے اپنی استطاعت سے بڑھ کر وسائل جمع کیے۔ والد نے پلاٹ فروخت کیا، والدہ کے زیورات گروی رکھے گئے اور خاندان نے اپنی جمع پونجی بیرون ملک تعلیم کے حصول کی امید پر داؤ پر لگا دی۔ الزام ہے کہ امریکہ کا ویزا اور اسکالرشپ دلوانے کے نام پر 93 لاکھ روپے وصول کیے گئے، جبکہ جعلی داخلہ خطوط، اسکالرشپ دستاویزات اور فیس کی رسیدوں کے ذریعے خاندان کو دھوکے میں رکھا گیا۔جب حقیقت سامنے آئی تو لائبہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئی اور اس کی زندگی المناک طور پر ختم ہوگئی۔ اس سانحے کی مکمل قانونی اور طبی تفصیلات تحقیقات سے سامنے آئیں گی، لیکن یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ ہمارے نوجوانوں کے خوابوں سے کھیلنے والوں کو کب تک معصوم خاندانوں کی محنت لوٹنے کا موقع ملتا رہے گا؟ یہاں ہمیں ایک لمحے کے لیے رک کر سوچنا ہوگا۔ بیرون ملک تعلیم حاصل کرنا کوئی جرم نہیں، بہتر مستقبل کی خواہش رکھنا کوئی غلطی نہیں۔ جرم اس اعتماد سے کھیلنا ہے جو والدین اپنی اولاد کے مستقبل کے لیے کسی شخص پر کرتے ہیں۔ اگر کسی نوجوان کی تعلیمی کامیابی، والدین کی عمر بھر کی کمائی اور ایک خاندان کی امیدیں جعلی دستاویزات کے ذریعے لوٹی جا سکتی ہیں تو یہ محض مالی فراڈ نہیں، ہمارے نظام کے لیے ایک سنجیدہ سوال ہے۔ اس افسوس ناک واقعے میں ایک اہم پیش رفت ملزم کی گرفتاری ہے۔ اطلاعات کے مطابق اسلام آباد پولیس نے مرکزی ملزم محمد نعمان کو گرفتار کیا، جبکہ ایف آئی اے نے نعمان اور فاطمہ سرور کے خلاف مبینہ فراڈ کا مقدمہ درج کیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے بھی واقعے کا نوٹس لیا اور متعلقہ حکام کو کارروائی کی ہدایت کی۔ یہ پیش رفت قابلِ ذکر ہے، تاہم اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب تحقیقات مکمل ہوں، تمام حقائق سامنے آئیں، ملوث افراد کو قانون کے مطابق سزا ملے اور ممکنہ طور پر لوٹی گئی رقم کی بازیابی کے لیے مؤثر کوششیں کی جائیں۔اس موقع پر میں ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے ڈاکٹر عثمان انور اور ان کی ٹیم کی توجہ اور کارروائی کو سراہنا چاہتا ہوں۔ ڈاکٹر عثمان انور سے میرا تعلق برسوں پر محیط ہے۔ میں نے انہیں اپنے پولیس کیریئر میں ایس پی سے لے کر آئی جی پولیس تک مختلف ذمہ داریوں میں کام کرتے دیکھا ہے۔ میرا ذاتی مشاہدہ رہا ہے کہ سنگین مقدمات میں وہ اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھتے تھے جب تک ملزمان کی گرفتاری کے لیے بھرپور کوششیں نہ ہوجائیں۔ یہی توقع آج بھی ان سے وابستہ ہے کہ لائبہ کے کیس میں انصاف کے تمام تقاضے پورے کیے جائیں گے۔ یہ بات بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ ماضی میں ایف آئی اے کے بارے میں عام شہریوں کی یہ شکایت سننے کو ملتی تھی کہ ان کی شنوائی نہیں ہوتی اور وہ دفتروں کے چکر لگاتے رہتے ہیں۔ ڈاکٹر عثمان انور کی قیادت میں ادارے کو زیادہ متحرک، جواب دہ اور عوامی شکایات کے لیے حساس بنانے کی کوششوں کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے۔ کسی بھی ادارے کی حقیقی کامیابی صرف گرفتاریوں کی تعداد نہیں، بلکہ یہ ہے کہ ایک عام شہری کو انصاف ملے، اس کی شکایت سنی جائے اور بااثر یا پیشہ ور فراڈیوں کو قانون سے بالاتر نہ سمجھا جائے۔ تاہم لائبہ کا مقدمہ ہمیں محض ایک گرفتاری پر مطمئن ہونے کی اجازت نہیں دیتا۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ بیرون ملک تعلیم اور ویزا دلوانے کے نام پر کام کرنے والے کنسلٹنٹس کی جانچ پڑتال، رجسٹریشن اور نگرانی کا مؤثر نظام بنایا جائے۔ طلبہ اور والدین کو ادائیگی سے پہلے متعلقہ یونیورسٹی سے داخلے اور اسکالرشپ کی براہِ راست تصدیق کرنے کی ترغیب دی جائے۔ جعلی دستاویزات تیار کرنے اور عوام کو دھوکا دینے والوں کے خلاف بروقت کارروائی کی جائے تاکہ کسی اور گھر کو ایسی آزمائش سے نہ گزرنا پڑے۔ لائبہ واپس نہیں آسکتی۔ اس کے والدین کا دکھ کسی سرکاری بیان یا گرفتاری سے ختم نہیں ہوگا۔ لیکن اگر اس کا سانحہ ایک مؤثر نظام کی تشکیل، کئی خاندانوں کے تحفظ اور انصاف کی فراہمی کا سبب بن جائے تو شاید اس کے خوابوں کی روشنی دوسروں کے راستے منور کر سکے۔لائبہ کے لیے انصاف صرف ملزمان کو گرفتار کرنے کا نام نہیں؛ یہ اس نظام کو بہتر بنانے کا عہد بھی ہے جس میں کسی بیٹی کا مستقبل دھوکے کی نذر نہ ہو
یونس باٹھ کا یہ کالم روزنامہ پاکستان میں 12 اکتوبر 2026 کو شائع ہوا ۔








