خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کی منظوری، 12 اضلاع کے لیے خصوصی اقدامات کی تجویز

0
9
خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کی منظوری، 12 اضلاع کے لیے خصوصی اقدامات کی تجویز

اسلام آباد: وفاقی کابینہ نے خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورت حال کے پیش نظر ایمرجنسی اور گورنر راج سے متعلق اقدامات کی منظوری دے دی ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق ان اقدامات کا مقصد صوبے میں سیکیورٹی کی صورت حال بہتر بنانا، انتظامی معاملات کو مؤثر بنانا اور دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خطرات سے نمٹنا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اسلام آباد میں ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں صوبے کی مجموعی سیکیورٹی صورت حال کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ آصف، وزیر داخلہ محسن نقوی اور دیگر وفاقی وزرا نے شرکت کی۔

مولانا فضل الرحمان سے رابطے کی کوشش

ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ نے حتمی پیش رفت سے قبل سیاسی مشاورت کا ایک اور دور کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسی سلسلے میں اجلاس کے دوران نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے رابطہ کیا۔

اجلاس میں خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات اور انسداد دہشت گردی کے اقدامات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وفاقی حکومت کی جانب سے صوبائی سطح پر سیکیورٹی حکمت عملی اور انتظامی کارکردگی سے متعلق تحفظات سامنے آئے۔

سابق فاٹا اور 12 اضلاع میں ہنگامی اقدامات

حکومتی ذرائع کے مطابق سابق قبائلی علاقوں اور ان سے ملحقہ اضلاع میں آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق اقدامات کی منظوری دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ دہشت گردی سے زیادہ متاثرہ 12 اضلاع کے لیے خصوصی سیکیورٹی حکمت عملی تیار کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔

ان اضلاع میں کرم، اپر وزیرستان، لوئر وزیرستان، شمالی وزیرستان، باجوڑ، مہمند، خیبر، اورکزئی، بنوں، لکی مروت، ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان شامل ہیں۔

ذرائع کے مطابق گورنر راج نافذ ہونے کی صورت میں صوبے کے انتظامی امور گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کے تحت چلائے جانے کا امکان ہے۔

پارلیمانی اجلاس منگل کو طلب

مجوزہ اقدامات پر آئینی کارروائی آگے بڑھانے کے لیے پارلیمان کے دونوں ایوانوں کا اجلاس منگل کو طلب کیے جانے کی اطلاع ہے۔ ان اجلاسوں میں صوبے کی سیکیورٹی صورت حال اور وفاقی حکومت کے مجوزہ اقدامات پر غور کیا جائے گا۔

Leave a reply