سعودی عرب میں سری لنکن شہری کوتوہینِ رسالت کے مقدمے میں سزائے موت

0
57
سعودی عرب میں سری لنکن شہری کوتوہینِ رسالت کے مقدمے میں سزائے موت

ریاض: سعودی عرب میں مبینہ طور پر فیس بک پر توہینِ رسالت سے متعلق مقدمے میں ایک 24 سالہ سری لنکن شہری کی سزا پانچ سال قید سے بڑھا کر سزائے موت کر دی گئی ہے۔

سری لنکن شہری انوجن سیواراسا ستمبر 2025 میں روزگار کے لیے سعودی عرب پہنچا تھا۔ اطلاعات کے مطابق رواں سال جولائی میں سوشل میڈیا پر مذہبی موضوع سے متعلق ایک بحث کے دوران اس کی جانب سے فیس بک پر ایسا تبصرہ کیا گیا جسے سعودی حکام نے توہین آمیز قرار دیا، جس کے بعد اسے حراست میں لے لیا گیا۔

خاندانی ذرائع کے مطابق انوجن نے بعد میں مذکورہ تبصرہ حذف کر دیا تھا اور معذرت بھی کی تھی۔ تاہم تبصرے کا اسکرین شاٹ اس کے سعودی آجر تک پہنچا، جہاں سے معاملہ متعلقہ حکام کے علم میں آیا۔

ابتدائی طور پر الاحساء کی فوجداری عدالت نے کیس کو سائبر کرائم قوانین کے تحت نمٹاتے ہوئے انوجن کو پانچ سال قید اور 30 لاکھ سعودی ریال جرمانے کی سزا سنائی تھی۔ عدالت نے اس کا موبائل فون ضبط کرنے اور فیس بک اکاؤنٹ بند کرنے کا حکم بھی دیا تھا۔

انوجن کی جانب سے سزا میں کمی کے لیے اپیل دائر کی گئی، تاہم سعودی استغاثہ نے بھی عدالت سے رجوع کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ مقدمے کو سائبر کرائم کے بجائے شریعت کے تحت توہینِ رسالت کے کیس کے طور پر دیکھا جائے۔

17 ستمبر کو اپیل کورٹ نے استغاثہ کی درخواست منظور کرتے ہوئے مقدمے کی نوعیت تبدیل کر دی اور پانچ سالہ قید کی سزا کو سزائے موت میں تبدیل کر دیا۔

سری لنکن حکومت نے واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنے شہری کو قانونی اور سفارتی معاونت فراہم کرنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کر رہی ہے۔ سری لنکا کے وزیر خارجہ وجیتا ہیراتھ کے مطابق حکومت اعلیٰ سعودی عدالت میں مزید قانونی کارروائی کے امکانات کا جائزہ لے رہی ہے، جبکہ انوجن کے قانونی اخراجات بھی حکومت برداشت کرے گی۔

سری لنکن حکام کی جانب سے سعودی حکومت سے سزا پر نظرثانی، معافی یا سزا میں کمی کی درخواست کیے جانے کا امکان ہے۔ ذرائع کے مطابق سری لنکا کے صدر کی طرف سے بھی سعودی فرمانروا سے رحم کی اپیل متوقع ہے۔

ریاض میں موجود سری لنکن سفارتخانہ بھی کیس کی مسلسل پیروی کر رہا ہے اور سعودی حکام سے رابطے میں ہے۔ دو سینئر سری لنکن وکلا نے مقامی قانونی ٹیم کے ساتھ مل کر مقدمے میں معاونت کی پیشکش بھی کی ہے۔

دوسری جانب انوجن کے اہل خانہ نے سری لنکن حکومت سے فوری اور مؤثر سفارتی مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔ خاندان کا کہنا ہے کہ انہیں 28 ستمبر کے بعد سے انوجن کی خیریت کے حوالے سے کوئی تازہ اطلاع نہیں ملی۔

سری لنکن حکام نے اہل خانہ کو سفارتی کوششوں کے دوران احتیاط برتنے اور کیس سے متعلق مزید عوامی بیانات دینے سے گریز کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

واقعے نے سری لنکا میں تشویش پیدا کر دی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب بڑی تعداد میں سری لنکن شہری روزگار کے سلسلے میں سعودی عرب میں مقیم ہیں۔ سری لنکن حکومت انوجن سیواراسا کے لیے قانونی اور سفارتی ذرائع سے ریلیف حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

Leave a reply