سائبیریا میں پھیپھڑوں کے طاعون کا مشتبہ کیس، امریکا روس کی مدد کو تیار

روس کے سائبیریا خطے میں پھیپھڑوں کے طاعون کے ایک مشتبہ کیس کے بعد حکام نے احتیاطی اقدامات شروع کر دیے ہیں، جبکہ امریکا نے ضرورت پڑنے پر روس کو تعاون فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکا صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے اور اگر ضرورت پیش آئی تو روس کی مدد کرے گا۔ ان کے مطابق انہیں واقعے کی اطلاع حال ہی میں ملی ہے اور اس معاملے پر روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے تاحال بات نہیں ہوئی۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی صورتحال کو فوری طور پر بڑے خطرے کی علامت قرار نہیں دیا، تاہم ان کا کہنا ہے کہ معاملے کی مسلسل نگرانی ضروری ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق اسے دستیاب ابتدائی اور غیر سرکاری معلومات کی بنیاد پر عام لوگوں کے لیے موجودہ صحت کا خطرہ کم محسوس ہوتا ہے۔
ارکتسک میں احتیاطی اقدامات
روسی علاقے ارکتسک میں طاعون سے متعلق ایک تحقیقی ادارے سے وابستہ خاتون کی مشتبہ پھیپھڑوں کے طاعون سے موت کے بعد ایک اسپتال میں قرنطینہ کے اقدامات کیے گئے ہیں۔ حکام نے متاثرہ خاتون سے رابطے میں رہنے والے افراد کی طبی نگرانی بھی شروع کر دی ہے۔
روسی میڈیا رپورٹس کے مطابق مرنے والی خاتون کی عمر 28 سال تھی اور وہ لیبارٹری ٹیکنیشن کے طور پر کام کرتی تھیں۔ بعض رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ تقریباً 200 افراد کو طبی نگرانی میں رکھا گیا ہے۔
روسی ادارے روسپوتریب نادزور کے مطابق خاتون کو ابتدا میں نامعلوم وجہ سے نمونیا کی تشخیص ہوئی تھی۔ بعد ازاں کیے گئے ٹیسٹوں میں ایسے جراثیم کی موجودگی ثابت نہیں ہوئی جو براہ راست ان کی پیشہ ورانہ سرگرمیوں سے منسلک ہوں۔
پڑوسی علاقے بوریاٹیا کے گورنر نے بھی اس سے قبل سوشل میڈیا پر بتایا تھا کہ ارکتسک میں ایک خاتون کی موت ممکنہ طور پر طاعون کے باعث ہوئی ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ نے روسی حکام پر زور دیا ہے کہ وہ واقعے سے متعلق درست اور قابلِ اعتماد معلومات جلد عوام کے سامنے لائیں۔
پھیپھڑوں کا طاعون کتنا خطرناک ہے؟
پھیپھڑوں کا طاعون ایک سنگین بیکٹیریائی بیماری ہے جو Yersinia pestis نامی جراثیم سے ہوتی ہے۔ یہ جراثیم عموماً جنگلی یا چھوٹے جانوروں اور ان سے وابستہ پسوؤں میں پائے جاتے ہیں۔
پھیپھڑوں کو متاثر کرنے والی اس قسم میں مریض کے کھانسنے یا سانس لینے کے دوران جراثیم پر مشتمل ذرات دوسرے افراد تک منتقل ہونے کا امکان موجود ہوتا ہے۔
ماہرین کے مطابق بیماری کی بروقت تشخیص اور مناسب اینٹی بایوٹک علاج سے مریض کے صحت یاب ہونے کے امکانات موجود ہوتے ہیں، تاہم علاج میں تاخیر خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔
فی الحال روسی حکام کی جانب سے اس کیس کی حتمی تصدیق سامنے نہیں آئی، جبکہ عالمی ادارہ صحت نے بھی دستیاب معلومات کی بنیاد پر عام آبادی کے لیے خطرے کو کم قرار دیا ہے۔









