
اسلام آباد: پاکستان میں زندگی بچانے والی متعدد اہم ادویات کی دستیابی متاثر ہونے کا انکشاف ہوا ہے، جبکہ فارماسیوٹیکل صنعت کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ 100 سے زائد ادویات مارکیٹ میں شدید قلت کا شکار ہیں۔
فارما مینوفیکچررز کے مطابق گزشتہ تقریباً دو برس کے دوران کئی ادویات کی پیداوار مرحلہ وار بند ہوئی ہے۔ صنعت کا مؤقف ہے کہ پیداواری لاگت، خام مال اور دیگر اخراجات میں اضافے کے باوجود بعض ادویات کی قیمتیں پرانی سطح پر برقرار ہیں، جس کے باعث ان کی تیاری معاشی طور پر مشکل ہو گئی ہے۔
پاکستان فارماسیوٹیکل مینوفیکچرنگ ایسوسی ایشن کے سابق چیئرمین توقیر الحق کے مطابق ادویات کی قیمتوں میں نظرثانی کے لیے جمع کرائے گئے متعدد ہارڈ شپ کیسز طویل عرصے سے زیر التوا ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ڈرگ پرائسنگ پالیسی 2018 کے تحت ایسے کیسز پر مقررہ مدت میں فیصلہ ہونا چاہیے، تاہم گزشتہ دو برس کے دوران کئی درخواستوں پر پیش رفت نہ ہونے کے باعث بعض کمپنیوں نے نئی درخواستیں جمع کرانا بھی محدود کر دیا ہے۔
فارما صنعت کے مطابق مارکیٹ میں دستیابی متاثر ہونے والی ادویات کی تعداد اس وقت تقریباً 105 سامنے آ رہی ہے، تاہم اصل تعداد اس سے زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ متعدد کیسز ابھی متعلقہ حکام کے سامنے پیش ہی نہیں کیے گئے۔
صنعتی نمائندوں نے حکومت پر زور دیا ہے کہ ادویات کی قیمتوں میں ہر دوا کے پیداواری اخراجات اور مارکیٹ کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے جائزہ لیا جائے۔ ان کے مطابق مقصد محض قیمتیں بڑھانا نہیں بلکہ ان ادویات کی قیمتوں کو قابلِ عمل سطح پر لانا ہے جنہیں موجودہ نرخوں پر تیار کرنا مالی طور پر ممکن نہیں رہا۔
فارما صنعت نے خبردار کیا ہے کہ ضروری ادویات کی سرکاری و قانونی چینلز کے ذریعے دستیابی متاثر ہونے سے مریض غیر معیاری، جعلی یا اسمگل شدہ ادویات کی جانب جانے پر مجبور ہو سکتے ہیں، جس سے صحت عامہ کے مسائل میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
پی پی ایم اے کے سینئر وائس چیئرمین کامران ناصر کے مطابق ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان اور ڈرگ پرائسنگ کمیٹی نے بعض ہارڈ شپ کیسز کا جائزہ لینے کے بعد قیمتوں میں تبدیلی کی سفارشات تیار کی تھیں، تاہم حتمی منظوری کے لیے بھیجی گئی سمریاں طویل عرصے سے زیر التوا ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ادویات کی قیمتوں کے تعین میں تکنیکی نوعیت کے معاملات کے باعث متعلقہ ریگولیٹری ادارے کو زیادہ اختیار دینے پر غور کیا جانا چاہیے۔
کامران ناصر کے مطابق حکومت اور فارما صنعت کے نمائندوں کے درمیان حالیہ ملاقاتوں میں اس معاملے کو وزیراعظم کے سامنے رکھنے اور ادویات کی قیمتوں کے ریگولیٹری اختیار سے متعلق موجودہ طریقہ کار پر نظرثانی کی تجویز زیر بحث آئی ہے۔
فارما صنعت کا کہنا ہے کہ قیمتوں کا تعین کرتے وقت پڑوسی ممالک میں متعلقہ ادویات کی قیمتوں، مقامی پیداواری لاگت اور سپلائی کے اخراجات کو بھی مدنظر رکھا جاتا ہے۔
صنعتی نمائندوں کے مطابق کمپنیوں کو پیداواری عمل، ملازمین، ملک گیر ترسیل اور مستقبل کی سرمایہ کاری کے اخراجات پورے کرنے کے لیے مناسب منافع کی گنجائش بھی درکار ہوتی ہے، بصورت دیگر بعض ادویات کی مسلسل پیداوار برقرار رکھنا مشکل ہو سکتا ہے۔









