امریکی دفاعی راز خطرے میں؟ چین سے متعلق معلومات لیک ہونے کا دعویٰ

0
10
امریکی دفاعی راز خطرے میں؟ چین سے متعلق معلومات لیک ہونے کا دعویٰ

واشنگٹن: امریکی محکمہ دفاع کے ایک حساس اہلکاروں کے ڈیٹا سسٹم میں سائبر سکیورٹی کی خلاف ورزی کے نتیجے میں 30 لاکھ سے زائد افراد کے ریکارڈ غیر مجاز رسائی کی زد میں آ گئے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق غیر مجاز افراد نے اکتوبر 2025 سے جولائی 2026 کے دوران ڈیفنس مین پاور ڈیٹا سینٹر سے منسلک ایک انفارمیشن سسٹم تک رسائی حاصل کی۔
امریکی حکام کے مطابق واقعے سے تقریباً 27 لاکھ 60 ہزار زندہ افراد جبکہ 2 لاکھ 94 ہزار ایسے افراد کے ریکارڈ متاثر ہوئے جو وفات پا چکے ہیں۔ مجموعی طور پر متاثرہ ریکارڈز کی تعداد تقریباً 30 لاکھ 54 ہزار بتائی گئی ہے۔
متاثرہ معلومات میں بعض افراد کے نام، تاریخ پیدائش، رابطے کی تفصیلات اور سوشل سیکیورٹی نمبرز شامل تھے۔ کچھ ریکارڈز میں فوجی ملازمت یا ذمہ داریوں سے متعلق معلومات بھی موجود تھیں۔ حکام کے مطابق ہر شخص کے ریکارڈ میں ایک جیسی معلومات شامل نہیں تھیں۔
کچھ میڈیا رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی سامنے آیا ہے کہ مبینہ طور پر چین سے متعلق امریکی جنگی منصوبوں جیسی حساس معلومات بھی لیک ہوئی ہیں، تاہم ان دعوؤں کی تاحال سرکاری سطح پر حتمی تصدیق نہیں کی گئی۔
ڈیفنس مین پاور ڈیٹا سینٹر امریکی محکمہ دفاع کے بڑے اہلکاروں کے ریکارڈز میں سے ایک ہے، جس میں فوجی و سویلین ملازمین، سابق اہلکاروں، ریٹائرڈ افراد، کنٹریکٹرز اور فوجی خاندانوں سے متعلق وسیع پیمانے پر معلومات محفوظ ہیں۔
حکام کے مطابق سکیورٹی کمزوری ایک فائل شیئرنگ سسٹم میں موجود تھی، جس کی نشاندہی 16 جولائی 2026 کو ہوئی اور اس کے بعد اسے درست کر دیا گیا۔ ابتدائی معلومات کے مطابق غیر مجاز رسائی کئی ماہ تک جاری رہی۔
رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کچھ حساس معلومات انکرپٹڈ حالت میں محفوظ نہیں تھیں، جس نے امریکی حکام کے لیے قومی سلامتی اور انسدادِ جاسوسی کے حوالے سے تشویش پیدا کی ہے۔ تاہم پینٹاگون کے مطابق فی الحال ایسا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا کہ چوری شدہ معلومات کو کسی نقصان دہ مقصد کے لیے استعمال کیا گیا ہو۔
ادھر پینٹاگون میں حساس معلومات کے مبینہ اخراج سے متعلق ایک الگ تحقیقات بھی جاری ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق جوائنٹ اسٹاف سے وابستہ تقریباً 50 فوجی اہلکاروں کے پولی گراف ٹیسٹ بھی کیے گئے تھے۔ یہ کارروائی میڈیا میں سامنے آنے والی ان معلومات کے بعد کی گئی جن میں ایران کے ساتھ جنگ کے دوران امریکی اسلحے اور گولہ بارود کے ذخائر سے متعلق تفصیلات شامل تھیں۔
حکام نے ابھی تک یہ نہیں بتایا کہ ڈیٹا تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے والے افراد کون تھے، ان کا مقصد کیا تھا یا آیا معلومات کسی غیر ملکی حکومت یا انٹیلی جنس ادارے تک منتقل کی گئیں۔
متاثرہ افراد کے لیے پینٹاگون کی جانب سے ایک سال تک مفت کریڈٹ مانیٹرنگ اور شناخت کے تحفظ کی سہولت فراہم کیے جانے کی بھی اطلاع ہے۔ واقعے کے مکمل سکیورٹی اثرات کا تعین تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی ممکن ہوگا۔

Leave a reply