ریڑھ کی ہڈی کی کمزور کثافت ذہنی صلاحیت میں کمی سے منسلک، تحقیق

0
0
ریڑھ کی ہڈی کی کمزور کثافت ذہنی صلاحیت میں کمی سے منسلک، تحقیق

ویب ڈیسک: ایک نئی طویل مدتی تحقیق میں ریڑھ کی ہڈی کی ہڈیوں کی کثافت اور عمر کے ساتھ ذہنی صلاحیت میں آنے والی تبدیلیوں کے درمیان ممکنہ تعلق سامنے آیا ہے۔

محققین نے 700 سے زائد عمر رسیدہ افراد کے سینے کے سی ٹی اسکینز کا تجزیہ کیا۔ مصنوعی ذہانت کی مدد سے ان اسکینز میں ریڑھ کی ہڈی کے مہروں کی ہڈیوں کی کثافت کا جائزہ لیا گیا، جس کے بعد تقریباً پانچ سال تک شرکا کی یادداشت، سوچنے کی صلاحیت اور مجموعی ذہنی کارکردگی کو مانیٹر کیا گیا۔

تحقیق کے مطابق جن افراد میں ریڑھ کی ہڈی کی ہڈیوں کی کثافت نسبتاً کم تھی، ان میں وقت کے ساتھ ذہنی کارکردگی میں کمی کا رجحان زیادہ دیکھا گیا۔ یہ تعلق عمر، جنس، جسمانی سرگرمی اور دل کی صحت سمیت بعض دیگر عوامل کو مدنظر رکھنے کے بعد بھی موجود رہا۔

دماغی اسکینز کے تجزیے میں کم ہڈیوں کی کثافت اور سفید مادے میں بعض تبدیلیوں کے درمیان بھی تعلق پایا گیا۔ سفید مادہ دماغ کے مختلف حصوں کے درمیان رابطہ قائم رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

خاص طور پر کارپس کیلوسم سمیت دماغ کے ان حصوں میں تبدیلیوں کا مشاہدہ کیا گیا جو یادداشت، توجہ، فیصلہ سازی اور پیچیدہ ذہنی سرگرمیوں سے وابستہ ہیں۔

ذیابیطس کے مریضوں میں تعلق زیادہ نمایاں

تحقیق کا ایک اہم مشاہدہ یہ تھا کہ ہڈیوں کی کم کثافت اور ذہنی کارکردگی میں کمی کا تعلق ذیابیطس کے شکار افراد میں نسبتاً زیادہ نمایاں تھا۔

محققین کے مطابق ممکن ہے کہ ہڈیوں کی کمزوری اور دماغی عمر بڑھنے کے پیچھے بعض مشترکہ عوامل موجود ہوں، جن میں جسم میں طویل عرصے تک جاری رہنے والی سوزش، ناقص غذا، کم جسمانی سرگرمی اور مجموعی جسمانی کمزوری شامل ہوسکتی ہے۔

تاہم ماہرین نے واضح کیا ہے کہ اس تحقیق سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ کمزور ہڈیاں براہ راست یادداشت یا ذہنی صلاحیت میں کمی کا سبب بنتی ہیں۔

مزید تحقیق کی ضرورت

تحقیق کی قیادت جانز ہاپکنز یونیورسٹی سے وابستہ ڈاکٹر شادپور دیمہری نے کی۔ محققین کے مطابق نتائج اس امکان کی جانب اشارہ کرتے ہیں کہ ہڈیوں کی صحت کو کسی فرد کی مجموعی عمر رسیدگی اور دماغی صحت کے ایک اضافی اشارے کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید مصنوعی ذہانت کی مدد سے ایسے طبی اسکینز سے بھی اضافی معلومات حاصل کی جاسکتی ہیں جو اصل میں ہڈیوں یا دماغ کی صحت کا جائزہ لینے کے لیے نہیں کیے گئے تھے۔

تاہم اس طریقے کو معمول کے طبی استعمال میں شامل کرنے سے قبل مختلف آبادیوں، مریضوں کے گروپس اور اسکیننگ ٹیکنالوجیز پر مزید تحقیق ضروری ہے۔

محققین کے مطابق موجودہ شواہد کو احتیاط سے سمجھنے کی ضرورت ہے کیونکہ تحقیق میں دیکھا گیا تعلق محدود تھا اور ذہنی کارکردگی کے تمام ٹیسٹوں میں یکساں نتائج سامنے نہیں آئے۔

Leave a reply