سعودی عرب،امن، حرمین اور امتِ مسلمہ کی امید

سعودی عرب کا قومی دن محض ایک ریاست کے قیام اور قومی تشخص کی تجدید کا دن نہیں بلکہ پوری مسلم دنیا کیلئے ایک ایسی سرزمین کی یاد تازہ کرنے کا موقع ہے جسے اللہ تعالیٰ نے حرمین شریفین کی نسبت سے غیر معمولی روحانی مقام عطا کر رکھا ہے۔ 23 ستمبر کا دن سعودی عوام کیلئے اپنی قومی وحدت، ترقی اور استحکام کے عزم کی تجدید کا دن ہے، جبکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے سعودی عرب کی اہمیت اس سے کہیں زیادہ ہے۔ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی وجہ سے سعودی عرب ہر مسلمان کے دل میں ایک خاص مقام رکھتا ہے۔
آج سعودی عرب جدید ترقی، معاشی استحکام، سفارتی اثر و رسوخ اور علاقائی اہمیت کے حوالے سے بھی دنیا کے اہم ممالک میں شمار ہوتا ہے لیکن سعودی عرب کی اصل اہمیت صرف اس کی معاشی قوت یا جغرافیائی حیثیت میں نہیں، بلکہ اس کردار میں ہے جو وہ مسلم دنیا کے اجتماعی معاملات میں ادا کرتا ہے۔ حرمین شریفین کی خدمت، حج و عمرہ کے انتظامات، اسلامی دنیا کے مختلف ممالک کے ساتھ تعلقات، علاقائی امن کیلئے سفارتی کوششیں اور انسانی امداد کے میدان میں سعودی کردار اسے مسلم امہ کیلئے ایک اہم مرکز بناتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب کا امن اور استحکام صرف سعودی عوام کی ضرورت نہیں بلکہ پوری امت مسلمہ اور خطے کے امن سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔ بالخصوص مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی سلامتی ہر مسلمان کیلئے عقیدت اور جذبات کا معاملہ ہے۔ حرمین شریفین کی طرف اٹھنے والی ہر خطرناک پیش رفت پر عالم اسلام میں تشویش پیدا ہونا ایک فطری امر ہے۔ایسے وقت میں جب سعودی عرب ایک مرتبہ پھر حوثی ملیشیا کے میزائل اور ڈرون حملوں کا سامنا کر رہا ہے، عالمی برادری کیلئے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ شہری آبادی، شہری تنصیبات اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانا کسی بھی صورت قابل قبول نہیں۔ سعودی وزارت خارجہ نے 8 ستمبر کو بتایا کہ ابہا، خمیس مشیط، جازان اور نجران میں شہری اور اقتصادی اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں 73 شہری زخمی ہوئے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔ سعودی عرب نے اپنے دفاع، اپنی خودمختاری اور اپنے شہریوں کے تحفظ کے حق پر زور دیا۔ حالیہ حملوں میں صورتحال مزید تشویشناک ہوئی۔ 19 ستمبر کو ریاض کے علاقے میں حوثیوں کی جانب سے حملے کا دعویٰ سامنے آیا، جبکہ سعودی حکام کے مطابق ریاض کی طرف داغا گیا بیلسٹک میزائل فضائی دفاعی نظام نے روک لیا۔ اسی دوران ینبع میں آرامکو کی تنصیب کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا۔یہ حملے صرف سعودی عرب کی سرحدوں تک محدود مسئلہ نہیں۔ بحیرہ احمر اور باب المندب میں تجارتی جہاز رانی کو لاحق خطرات عالمی تجارت، توانائی کی ترسیل اور خطے کے امن پر براہ راست اثر انداز ہوتے ہیں۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے 18 ستمبر کو سعودی عرب پر جاری حوثی حملوں، شہریوں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصانات اور بحیرہ احمر و باب المندب میں تجارتی جہاز رانی کو لاحق خطرات کی شدید مذمت کی۔ سلامتی کونسل نے سعودی عرب کے اپنے دفاع کے فطری حق کو بھی تسلیم کیا۔
یو این جنرل اسمبلی کا 81واں اجلاس ، طارق فاطمی کا اہم سفارتی کردار
اس پس منظر میں سعودی عرب کے مؤقف کو سمجھنا ضروری ہے۔ ریاض کا کہنا ہے کہ ریاست کی خودمختاری، شہریوں اور قومی تنصیبات کا تحفظ اس کی بنیادی ذمہ داری ہے اور اسے بین الاقوامی قانون کے مطابق اپنے دفاع کیلئے ضروری اقدامات کا حق حاصل ہے۔ خلیجی تعاون کونسل نے بھی سعودی عرب پر حوثی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ خلیجی ممالک سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہیں اور اس کی سرزمین، سلامتی اور قومی مفادات کے تحفظ کیلئے کیے جانے والے اقدامات کی حمایت کرتے ہیں۔
پاکستانی عوام کیلئے سعودی عرب سے تعلق محض سفارتی یا معاشی تعلق نہیں۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مذہبی، تاریخی، عوامی اور برادرانہ رشتے کئی دہائیوں پر محیط ہیں۔ لاکھوں پاکستانی ہر سال سعودی عرب کا سفر کرتے ہیں، بالخصوص حج اور عمرہ کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب میں موجود پاکستانی کمیونٹی دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک انسانی پل کا کردار ادا کرتی ہے۔پاکستان نے ہمیشہ حرمین شریفین کے تقدس، سعودی عرب کی خودمختاری اور اس کی سلامتی کو اہمیت دی ہے۔ ایسے حالات میں جب سعودی سرزمین پر شہری علاقوں اور بنیادی تنصیبات کو حملوں کا سامنا ہو پاکستان سمیت مسلم دنیا کی ذمہ داری ہے کہ وہ دہشت گردی، تشدد اور شہریوں کو نشانہ بنانے کی واضح مذمت کرے اور خطے میں امن و استحکام کیلئے سفارتی کوششوں کی حمایت کرے۔ سعودی عرب کی اہمیت کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ وہ مسلم دنیا کے مختلف ممالک کے ساتھ رابطے اور سفارت کاری میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔ فلسطین، شام، یمن، لبنان اور دیگر علاقائی مسائل پر سعودی سفارت کاری اور اس کی بین الاقوامی سرگرمیاں مشرق وسطیٰ کے سیاسی منظرنامے پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ سعودی عرب کا استحکام پورے خلیج اور وسیع تر خطے کے استحکام سے جڑا ہوا ہے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ یمن کا بحران صرف عسکری طاقت سے حل نہیں ہوسکتا۔ مستقل امن کے لیے سیاسی مذاکرات، یمنی عوام کی خواہشات، علاقائی سلامتی اور انسانی ضروریات کو سامنے رکھنا ہوگا۔
پنجاب نیا نصاب منظور، کتابوں کا بوجھ 25 فیصد کم کرنے کا فیصلہ
قومی دن کے موقع پر سعودی عرب کی سب سے بڑی کامیابی صرف بلند عمارتیں، جدید شہر، معاشی منصوبے یا ترقیاتی پروگرام نہیں بلکہ وہ استحکام بھی ہے جس کے ذریعے لاکھوں مسلمان اطمینان کے ساتھ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کا سفر کرتے ہیں۔ حرمین شریفین کی خدمت ایک ایسی ذمہ داری ہے جس کی اہمیت کسی بھی سیاسی یا معاشی پیمانے سے نہیں ناپی جاسکتی۔آج جب سعودی عرب اپنے قومی دن کی خوشیاں منا رہا ہے، عالم اسلام کی خواہش یہی ہونی چاہیے کہ سعودی عرب امن، ترقی اور استحکام کے سفر کو جاری رکھے۔ حوثیوں سمیت کسی بھی فریق کی طرف سے شہریوں، مقدس مقامات، توانائی کے بنیادی ڈھانچے یا بین الاقوامی جہاز رانی کو نشانہ بنانا خطے کے امن کے لیے نقصان دہ ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ حملوں کا سلسلہ روکا جائے، شہریوں کا تحفظ یقینی بنایا جائے اور اختلافات کا حل طاقت کے بجائے مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے تلاش کیا جائے۔
لانگ مارچ مؤخر کیے جانے تک پی ٹی آئی سے مذاکرات نہیں ہوسکتے: رانا ثنااللہ
سعودی عرب کے قومی دن پر دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مملکتِ سعودی عرب کو امن، سلامتی، استحکام اور مزید ترقی عطا فرمائے، حرمین شریفین کو ہر قسم کے خطرے سے محفوظ رکھے، اور امت مسلمہ کو باہمی اتحاد، امن اور خوشحالی کی راہ پر گامزن فرمائے۔ آمین
محمد علی یزدانی کا یہ کالم روزنامہ پاکستان میں 24 ستمبر 2026 کو شائع ہوا ۔









