وفاقی بجٹ 2026-27 آج پیش ہوگا، تنخواہ دار طبقے اور پنشنرز کے لیے ریلیف متوقع

0
28
وفاقی بجٹ 2026-27 آج پیش ہوگا، تنخواہ دار طبقے اور پنشنرز کے لیے ریلیف متوقع

اسلام آباد: حکومت آج مالی سال 2026-27 کا وفاقی بجٹ قومی اسمبلی کے خصوصی اجلاس میں پیش کرے گی۔ مجوزہ بجٹ کا حجم 175 کھرب روپے رکھا گیا ہے، جبکہ بجٹ پیش ہونے سے قبل وفاقی کابینہ کے اجلاس میں بجٹ دستاویزات کی منظوری دی جائے گی۔

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کابینہ کو بجٹ کی اہم تجاویز سے آگاہ کریں گے اور بعد ازاں قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کریں گے۔ قومی اسمبلی میں پیشی کے بعد بجٹ تجاویز سینیٹ میں بھی زیر غور آئیں گی۔

ذرائع کے مطابق نئے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے اور پنشنرز کے لیے مختلف ریلیف اقدامات شامل کیے جا سکتے ہیں۔ تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کے ساتھ ساتھ انکم ٹیکس کے نظام میں نرمی کی تجاویز بھی زیر غور ہیں۔

اطلاعات کے مطابق تنخواہ دار افراد کے لیے تقریباً 60 ارب روپے کے ٹیکس ریلیف کا منصوبہ بنایا گیا ہے، جبکہ انکم ٹیکس سلیب کی تعداد 6 سے بڑھا کر 8 کرنے کی تجویز بھی سامنے آئی ہے۔ زیادہ آمدن رکھنے والے ملازمین کے لیے خصوصی ریلیف پیکیج پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔

حکومت نے آئندہ مالی سال کے دوران روزگار کے مواقع بڑھانے کا ہدف مقرر کیا ہے اور تقریباً 20 لاکھ نئی ملازمتیں پیدا کرنے کے عزم کا اظہار کیا گیا ہے۔

ترقیاتی منصوبوں کے لیے پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام (PSDP) کے تحت ایک ہزار ارب روپے مختص کیے جانے کی منظوری پہلے ہی دی جا چکی ہے۔ معاشی ترقی کی شرح 4 سے 4.1 فیصد کے درمیان رکھنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ مہنگائی کی شرح 8.2 سے 8.4 فیصد کے درمیان رہنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

شعبہ وار اہداف میں صنعت کے لیے 4 فیصد، زراعت کے لیے 3.6 فیصد اور خدمات کے شعبے کے لیے 4.2 فیصد ترقی کا ہدف شامل ہے۔

محصولات کے حوالے سے ایف بی آر کے لیے 152 کھرب 67 ارب روپے کی ٹیکس وصولیوں کا ہدف متوقع ہے، جبکہ پیٹرولیم لیوی سے 17 کھرب 27 ارب روپے حاصل کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق دفاعی اخراجات کے لیے تقریباً 30 کھرب روپے مختص کیے جانے کی تجویز ہے۔ دوسری جانب قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لیے 78 کھرب 24 ارب روپے رکھے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

عالمی تجارت کے شعبے میں برآمدات کا ہدف 32.8 ارب ڈالر اور درآمدات کا تخمینہ 70 ارب ڈالر لگایا گیا ہے، جس کے نتیجے میں تجارتی خسارہ تقریباً 37 ارب ڈالر رہنے کی توقع ہے۔

Leave a reply