چاروں صوبوں کے فضائی اثاثے، حقیقت کیا ہے؟

لاہور: 22 ستمبر 2026 — پنجاب کی وزیرِ اعلیٰ مریم نواز شریف کی جانب سے سرکاری گلف اسٹریم طیارے کے استعمال کے دفاع کے بعد چاروں صوبوں کے فضائی اثاثے ایک بار پھر زیرِ بحث آگئے ہیں۔ صوبائی حکام کے مطابق تمام صوبوں کے پاس فضائی سفری سہولت موجود ہے، تاہم ان کے زیرِ استعمال طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کی نوعیت، تعداد اور صلاحیت ایک دوسرے سے مختلف ہے۔
پنجاب کے پاس اس وقت سب سے نمایاں فضائی اثاثہ گلف اسٹریم G500 ہے، جس کی مالیت وزیرِ اعلیٰ کے مطابق تقریباً 9 ارب روپے ہے۔ یہ طیارہ 2025 میں پاکستان پہنچا تھا۔ صوبائی حکومت کے پاس اس کے علاوہ Hawker 400XP بھی موجود ہے، جو پہلے سے سرکاری بیڑے کا حصہ ہے۔
مریم نواز شریف نے حالیہ دورۂ لندن کے دوران سرکاری طیارے کے استعمال پر ہونے والی تنقید کے جواب میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ یہ طیارہ ان کی ذاتی ملکیت نہیں بلکہ پنجاب حکومت کا اثاثہ ہے۔ ان کے مطابق دیگر صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کو بھی سرکاری فضائی سہولیات دستیاب ہیں۔
خیبر پختونخوا کے پاس ایک ہیلی کاپٹر
خیبر پختونخوا کے فضائی اثاثوں میں کوئی فکسڈ وِنگ طیارہ شامل نہیں۔ صوبائی حکام کے مطابق حکومت کے پاس AS-350 B3 ماڈل کا ایک سنگل انجن ہیلی کاپٹر موجود ہے، جسے 2010 میں خریدا گیا تھا۔
حکام کے مطابق ہیلی کاپٹر میں تقریباً تین مسافروں کے بیٹھنے کی گنجائش ہے اور یہ اب تک تقریباً 700 گھنٹے پرواز کر چکا ہے۔ صوبائی حکومت کا ایک دوسرا ہیلی کاپٹر ماضی میں سیلاب سے متعلق امدادی سرگرمیوں کے دوران حادثے کا شکار ہوچکا ہے۔
صوبائی چیف سیکریٹری کے مطابق وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا کے لیے کوئی الگ سرکاری طیارہ مختص نہیں، تاہم انہیں صوبائی ہیلی کاپٹر استعمال کرنے کی سہولت حاصل ہے۔
بلوچستان کے پاس طیارہ اور دو ہیلی کاپٹر
بلوچستان حکومت کے فضائی بیڑے میں ایک Learjet 45XR طیارہ اور دو ہیلی کاپٹر شامل ہیں۔ صوبائی حکام کے مطابق Learjet 45XR سال 2012 سے استعمال کیا جا رہا ہے اور اس میں سات افراد کے سفر کی گنجائش ہے۔
صوبائی حکومت نے اپنے فضائی اثاثوں کے انتظام کے لیے بلوچستان ایوی ایشن کے نام سے کمپنی بھی قائم کر رکھی ہے، جس کے ذریعے یہ اثاثے منظم کیے جاتے ہیں۔
بلوچستان کے دو ہیلی کاپٹروں میں Mi-171 بھی شامل ہے، جو 2016 میں خریدا گیا تھا، تاہم حکام کے مطابق اس وقت گراؤنڈ ہے۔ اس میں تقریباً 14 افراد سفر کرسکتے ہیں۔
دوسرا طیارہ نما فضائی اثاثہ Cessna Caravan ہے، جو 2007 میں تیار ہوا تھا اور اس میں تقریباً آٹھ مسافروں کی گنجائش ہے۔
سندھ کے پاس Learjet اور دو ہیلی کاپٹر
سندھ حکومت کے مطابق صوبے کے پاس Learjet 45 اور دو ہیلی کاپٹر موجود ہیں۔ Learjet 45 سنہ 2006 میں تیار ہوا تھا۔
صوبائی حکام کے مطابق دونوں ہیلی کاپٹر 1992 میں سرکاری بیڑے میں شامل کیے گئے تھے۔ ان میں سے ایک میں تقریباً تین سے چار جبکہ دوسرے میں چھ سے سات افراد کے سفر کی گنجائش بتائی گئی ہے۔
سندھ حکومت کے طیارے کو اس وقت محدود بین الاقوامی پرواز کی اجازت حاصل ہے اور حکام کے مطابق موجودہ اجازت کے تحت یہ دبئی تک پرواز کرسکتا ہے۔
پنجاب کا فضائی بیڑا سب سے زیادہ زیرِ بحث
پنجاب کا گلف اسٹریم G500 حالیہ دنوں میں سیاسی اور عوامی بحث کا مرکز بنا ہوا ہے۔ طیارہ پہلے امریکا میں N144S رجسٹریشن کے ساتھ استعمال ہوتا رہا ہے۔
صوبائی حکومت کی جانب سے طیارے کو ابتدا میں ایئر پنجاب کے مجوزہ منصوبے سے جوڑا گیا تھا، تاہم بعد میں حکومتی حکام نے واضح کیا کہ اسے وزیرِ اعلیٰ اور صوبائی حکومت کے سرکاری سفری مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
یوں چاروں صوبوں کے فضائی اثاثوں کا جائزہ لیا جائے تو پنجاب کے پاس دو فکسڈ وِنگ طیارے، بلوچستان کے پاس ایک طیارہ اور دو ہیلی کاپٹر، سندھ کے پاس ایک طیارہ اور دو ہیلی کاپٹر جبکہ خیبر پختونخوا کے پاس ایک ہیلی کاپٹر موجود ہے۔
صوبائی حکومتوں کے فضائی بیڑوں میں موجود اثاثوں کی تعداد اور نوعیت مختلف ہونے کے باوجود ان کا استعمال سرکاری سفر، انتظامی امور اور ہنگامی حالات سمیت مختلف مقاصد کے لیے کیا جاتا ہے۔









