
کوہاٹ: خیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ میں پولیس لائنز کی مسجد پر ہونے والے دہشت گرد حملے کی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق حملے میں ملوث خودکش بمبار کی شناخت مطیع اللہ کے نام سے ہوئی ہے، جسے افغان شہری بتایا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق حملے میں ملوث ایک اور دہشت گرد کی شناخت کا عمل جاری ہے۔ سیکیورٹی فورسز نے کارروائی مکمل کرتے ہوئے حملے میں شریک تمام 8 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا ہے۔
پولیس کے مطابق حملے میں مجموعی طور پر 23 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں 17 پولیس اہلکار اور 6 عام شہری شامل ہیں، جبکہ 100 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ جاں بحق ہونے والوں میں پولیس کے افسران بھی شامل ہیں۔
حکام کے مطابق حملے کے بعد کلیئرنس آپریشن کی نگرانی ایڈیشنل آئی جی کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ نے کی، جو کارروائی کے دوران خود بھی زخمی ہوئے۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ حملے میں افغان شہری کی مبینہ شمولیت سے ایک مرتبہ پھر افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گرد کارروائیوں کے لیے استعمال کیے جانے کے خدشات سامنے آئے ہیں۔
حکام کے مطابق حالیہ عرصے میں پاک افغان سرحد پر دہشت گردوں کی دراندازی کی متعدد کوششیں بھی ناکام بنائی گئی ہیں۔ غلام خان کے قریب سرحد پار سے داخل ہونے کی کوشش کرنے والے 15 مبینہ دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا، جبکہ جنوبی وزیرستان کے شوال کے علاقے میں بھی کارروائی کے دوران 5 دہشت گرد مارے گئے۔
سیکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ سرحدی علاقوں میں فتنہ الخوارج سے وابستہ عناصر کی نقل و حرکت پر نظر رکھی جا رہی ہے اور ان کی دراندازی کی کوششوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔
پاکستانی حکام طویل عرصے سے افغانستان کی سرزمین پر موجود دہشت گرد گروہوں کی سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ پاکستانی عسکری حکام کا مؤقف ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گرد کارروائیوں کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے۔
دوسری جانب اقوام متحدہ اور مختلف عالمی اداروں کی رپورٹس میں بھی افغانستان میں متعدد مسلح اور دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی کا ذکر کیا گیا ہے۔ چینی مندوب فو کونگ نے بھی افغانستان میں داعش اور فتنہ الخوارج سمیت مختلف دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔









