
گردوں کی بیماری کی تشخیص ہوتے ہی بہت سے افراد ڈائیلاسس کے بارے میں فکرمند ہوجاتے ہیں، تاہم ہر مریض کو ڈائیلاسس کی ضرورت نہیں ہوتی۔ دائمی گردوں کی بیماری (CKD) مختلف مراحل میں آگے بڑھتی ہے اور ابتدائی مرحلے میں گردے محدود نقصان کے باوجود اپنا کام جاری رکھ سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق بیماری کی بروقت تشخیص، اس کی بنیادی وجہ کا علاج اور طرزِ زندگی میں مناسب تبدیلیاں گردوں کی کارکردگی کو زیادہ عرصے تک برقرار رکھنے میں مدد دے سکتی ہیں۔ بیماری کے آخری مرحلے میں ہی بعض مریضوں کو ڈائیلاسس یا گردے کی پیوند کاری کی ضرورت پیش آتی ہے۔
گردوں کی بیماری اکثر خاموش رہتی ہے
دائمی گردوں کی بیماری کے ابتدائی مراحل میں عموماً نمایاں علامات ظاہر نہیں ہوتیں۔ یہی وجہ ہے کہ صرف طبیعت ٹھیک محسوس ہونے کی بنیاد پر گردوں کی صحت کے بارے میں فیصلہ نہیں کیا جاسکتا۔
شوگر اور بلند فشارِ خون کے مریضوں میں گردوں کی بیماری کا خطرہ زیادہ ہوسکتا ہے، اس لیے ایسے افراد کے لیے ڈاکٹر کے مشورے سے خون اور پیشاب کے ٹیسٹ باقاعدگی سے کروانا اہم ہے۔
زیادہ پانی پینا ہر مسئلے کا حل نہیں
گردوں کی بیماری سے متعلق ایک عام تاثر یہ ہے کہ زیادہ پانی پینے سے گردے کا نقصان ختم ہوسکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ایسا ضروری نہیں۔
جسم کو مناسب مقدار میں پانی درکار ہوتا ہے، لیکن پہلے سے موجود گردوں کے نقصان کو صرف پانی زیادہ پینے سے ختم نہیں کیا جاسکتا۔ بعض ایسے مریض جن کی بیماری کافی بڑھ چکی ہو، انہیں پانی اور دیگر مائعات کی مقدار بھی ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق رکھنا پڑ سکتی ہے۔
گردے متاثر ہوں تو جسم کے دیگر نظام بھی متاثر ہوسکتے ہیں
گردوں کا کام صرف پیشاب بنانا نہیں بلکہ جسم میں مختلف معدنیات اور دیگر اہم اجزا کا توازن برقرار رکھنا بھی ہے۔
گردوں کی کارکردگی کم ہونے کی صورت میں بلڈ پریشر، خون کے سرخ خلیوں اور کیلشیم، پوٹاشیم اور فاسفورس کی سطح متاثر ہوسکتی ہے۔ گردوں کی بیماری کے ساتھ دل اور خون کی شریانوں سے متعلق پیچیدگیوں کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔
اسی لیے گردوں کے مریضوں کے لیے صرف ایک ٹیسٹ کے نتیجے پر توجہ دینے کے بجائے مجموعی صحت کی نگرانی بھی ضروری ہے۔
تشخیص کے بعد بھی علاج اور احتیاط ممکن ہے
CKD کی تشخیص کا مطلب یہ نہیں کہ بیماری کے بعد مزید کچھ نہیں کیا جاسکتا۔ بیماری کی وجہ اور مرحلے کے مطابق علاج سے اس کی رفتار کو سست کرنے اور پیچیدگیوں کے امکانات کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
ڈاکٹر کی تجویز کردہ ادویات کا باقاعدگی سے استعمال، متوازن غذا، مناسب جسمانی سرگرمی، بلڈ پریشر اور شوگر کو کنٹرول میں رکھنا، سگریٹ نوشی سے اجتناب اور مقررہ وقفوں سے طبی معائنہ اہم اقدامات ہیں۔
CKD اور اچانک گردوں کی خرابی میں فرق
دائمی گردوں کی بیماری اور ایکیوٹ کڈنی انجری (AKI) دو مختلف صورتحال ہیں۔ CKD میں گردوں کو طویل عرصے کے دوران نقصان پہنچتا ہے، جبکہ AKI میں گردوں کی کارکردگی اچانک متاثر ہوسکتی ہے۔
AKI کی صورت میں اگر بنیادی وجہ کی بروقت تشخیص ہوجائے اور مناسب علاج شروع کردیا جائے تو بعض مریضوں میں گردوں کی کارکردگی میں دوبارہ بہتری آسکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق گردوں کی بیماری سامنے آنے کے بعد سب سے اہم مرحلہ اس کی وجہ، بیماری کے درجے اور گردوں کی موجودہ کارکردگی کا تعین کرنا ہے۔ خاص طور پر ذیابیطس اور ہائی بلڈ پریشر کے مریض باقاعدہ طبی معائنوں کے ذریعے بیماری کا جلد پتا لگا سکتے ہیں، جس سے بروقت اقدامات ممکن ہوجاتے ہیں۔









