پاکستان میں ضرورت سے زیادہ ادویات تجویز کیے جانے کا انکشاف

0
14
پاکستان میں ضرورت سے زیادہ ادویات تجویز کیے جانے کا انکشاف

اسلام آباد: پاکستان میں مریضوں کو ایک نسخے میں عالمی معیار کے مقابلے میں کہیں زیادہ ادویات تجویز کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ ایک حالیہ تحقیق کے مطابق ملک میں فی نسخہ ادویات کی اوسط تعداد 4.2 تک پہنچ گئی ہے، جو عالمی ادارہ صحت کے تجویز کردہ معیار سے نمایاں طور پر زیادہ ہے۔

ہیلتھ سروسز اکیڈمی اسلام آباد کے ماہرین کی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ عالمی ادارہ صحت کے مطابق ایک نسخے میں ادویات کی اوسط تعداد تقریباً 1.6 سے 1.8 ہونی چاہیے۔

تحقیق کے مطابق پشاور کے ایک بڑے اسپتال میں صورتحال مزید تشویش ناک رہی، جہاں ایک نسخے میں اوسطاً 10.56 ادویات تجویز کیے جانے کا ریکارڈ سامنے آیا۔

مطالعے میں یہ بھی سامنے آیا کہ پاکستان میں صرف تقریباً ایک چوتھائی ادویات جنیرک نام سے تجویز کی جاتی ہیں، جبکہ عالمی صحت کے اصولوں کے تحت جنیرک نام کے استعمال کو ترجیح دی جاتی ہے۔

اینٹی بائیوٹکس کے حوالے سے بھی پاکستان میں شرح عالمی معیار سے زیادہ پائی گئی۔ تحقیق کے مطابق تقریباً 45 فیصد نسخوں میں اینٹی بائیوٹکس شامل تھیں، جبکہ عالمی سطح پر اس شرح کو تقریباً 20 سے 26.8 فیصد تک رکھنے کی سفارش کی جاتی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ 27 فیصد سے زائد نسخوں میں انجیکشن بھی تجویز کیے گئے، جبکہ تجویز کردہ ادویات میں سے تقریباً 72 فیصد ہی قومی ضروری ادویات کی فہرست میں شامل تھیں۔

ماہرین کے مطابق غیر ضروری ادویات کا رجحان صرف کسی ایک قسم کے اسپتال تک محدود نہیں بلکہ بنیادی مراکز صحت سے لے کر بڑے تدریسی اسپتالوں تک دیکھا جا رہا ہے۔

تحقیق سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ بعض مریض جلد صحت یابی کی توقع میں خود بھی اینٹی بائیوٹکس اور انجیکشن استعمال کرنے پر زور دیتے ہیں، جبکہ فارماسیوٹیکل کمپنیوں کی مارکیٹنگ بھی جنیرک ادویات کے کم استعمال کی ایک وجہ قرار دی گئی ہے۔

ماہرین نے زور دیا کہ ادویات تجویز کرنے سے متعلق رہنما اصولوں پر مؤثر عمل درآمد، غیر ضروری نسخوں کی حوصلہ شکنی اور اینٹی بائیوٹکس کے محتاط استعمال کے لیے عملی اقدامات کیے جانا ضروری ہیں۔

Leave a reply