شہباز شریف کا سعودی ولی عہد سے رابطہ، حوثی حملوں کی مذمت

0
6
شہباز شریف کا سعودی ولی عہد سے رابطہ، حوثی حملوں کی مذمت

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کیا اور سعودی عرب میں شہری و اقتصادی تنصیبات کو نشانہ بنانے والے حوثی حملوں کی شدید مذمت کی۔

وزیراعظم نے سعودی قیادت اور عوام کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں کشیدگی اور ایسے حملے امن و استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔ ان کے مطابق علاقائی عدم استحکام کے عالمی معیشت اور توانائی کے تحفظ پر بھی منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

شہباز شریف نے سعودی ولی عہد کی قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ مشکل علاقائی صورتحال میں شہزادہ محمد بن سلمان دانش مندانہ انداز میں معاملات کو آگے بڑھا رہے ہیں۔

وزیراعظم کے مطابق پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے اور امن و استحکام کے فروغ کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور وہ خود اس مقصد کے لیے کردار ادا کرتے رہیں گے۔

دوسری جانب سعودی حکام نے یمن کی جانب سے ملک کے جنوبی علاقے جازان پر میزائل حملے کی اطلاع دی ہے۔ سعودی محکمہ سول ڈیفنس کے مطابق میزائل طوال گورنریٹ میں گرا، جس کے نتیجے میں دو افراد زخمی ہوئے جبکہ ایک مسجد سمیت بعض عمارتوں اور گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔

سعودی حکام نے حملے سے قبل ممکنہ خطرے کے پیش نظر متعلقہ علاقوں میں احتیاطی انتباہ بھی جاری کیا تھا۔

یمن میں حوثی تحریک اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کی حمایت کرنے والی فورسز کے درمیان لڑائی میں بھی شدت دیکھی جا رہی ہے۔ جھڑپوں کا مرکز طائز اور مارب کے اطراف کے علاقے بتائے جاتے ہیں، جہاں حوثی جنگجو پیش قدمی کی کوشش کر رہے ہیں۔

مارب کو یمنی حکومت کے لیے انتہائی اہم علاقہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ خطہ توانائی کے وسائل، فوجی تنصیبات اور حکومتی فورسز کے لیے اہم لاجسٹک حیثیت رکھتا ہے۔ مبصرین کے مطابق اگر حوثی مارب پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہوگئے تو یمنی حکومت کی شمالی علاقوں میں پوزیشن مزید کمزور ہوسکتی ہے اور توانائی کے اہم وسائل پر حوثیوں کا اثر و رسوخ بڑھ سکتا ہے۔

Leave a reply