حوثی حملوں پر پاکستان کا مؤقف، معاہدۂ مکّہ کے تحت دفاعی ذمہ داریاں نبھانے کا اعلان

0
22
حوثی حملوں پر پاکستان کا مؤقف، معاہدۂ مکّہ کے تحت دفاعی ذمہ داریاں نبھانے کا اعلان

اسلام آباد: پاکستان نے کہا ہے کہ سعودی عرب کے خلاف کسی بھی مسلح جارحیت کی صورت میں مکّہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرے گا، تاہم حوثیوں کے خلاف براہِ راست فوجی کارروائی کے حوالے سے فی الحال کوئی باضابطہ مشاورت جاری نہیں۔

دفتر خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے ہفتہ وار بریفنگ میں بتایا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دفاعی معاہدہ نافذ العمل ہے اور اس کی شقوں کے مطابق ضروری کردار ادا کیا جائے گا۔

ترجمان کے مطابق معاہدے میں مزید ممالک کو شامل کرنے کے حوالے سے اس وقت کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان موجود دوطرفہ دفاعی و دیگر معاہدے اپنی جگہ برقرار ہیں، جبکہ سہ فریقی دفاعی معاہدے کا مکمل آپریشنل طریقہ کار ابھی تشکیل دیا جانا باقی ہے۔

سعودی عرب کی سرحدوں پر حوثیوں کے ممکنہ میزائل اور ڈرون حملوں کے حوالے سے ترجمان نے کہا کہ فی الوقت حوثیوں کے خلاف براہِ راست عسکری کارروائی کی کوئی تجویز زیرِ غور نہیں۔

اس سے قبل وزیر دفاع خواجہ آصف بھی کہہ چکے ہیں کہ معاہدۂ مکّہ بنیادی طور پر دفاعی نوعیت کا ہے۔ ان کے مطابق کسی رکن ملک پر مسلح حملے کو تینوں ممالک کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا اور ایسی صورت میں معاہدے کی دفاعی شقیں حرکت میں آ سکتی ہیں۔

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ اگر یمن سے کیے جانے والے حملے سعودی حدود تک پہنچتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی اور سیاسی وعدوں کے مطابق کردار ادا کرے گا۔ تاہم انہوں نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ سفارتی کوششوں کے ذریعے کشیدگی کم کی جائے گی اور سعودی عرب کو کسی نئے تنازع میں ملوث ہونے سے بچایا جا سکے گا۔

وزیر دفاع کے مطابق معاہدے کا مقصد کسی ملک کے خلاف جارحانہ کارروائی کرنا نہیں بلکہ مشترکہ دفاع کے ذریعے ممکنہ حملہ آور کے لیے مؤثر روک تھام پیدا کرنا ہے۔

Leave a reply