
مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور خطے میں ہونے والے حالیہ حملوں نے عالمی مالیاتی منڈیوں میں بے یقینی بڑھا دی ہے۔ صورتحال کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ جاری ہے اور برینٹ کروڈ 100 ڈالر فی بیرل کی سطح کے قریب پہنچ گیا ہے۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت میں مزید ایک ڈالر سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد اس کے مستقبل کے سودے تقریباً 99.50 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے۔ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) بھی تقریباً 95 ڈالر فی بیرل کے قریب جا پہنچا۔
ماہرین کے مطابق اگر خطے میں کشیدگی برقرار رہی یا تیل کی سپلائی متاثر ہوئی تو قیمتیں 100 ڈالر کی نفسیاتی حد عبور کرسکتی ہیں۔ تیل کی مہنگی قیمتیں عالمی سطح پر مہنگائی کے دباؤ میں اضافے کا باعث بن سکتی ہیں۔
ایشیائی مارکیٹس میں ملا جلا رجحان
خام تیل کی بڑھتی قیمتوں اور مہنگائی کے خدشات کے باعث ایشیا کی بیشتر اسٹاک مارکیٹس میں محتاط رویہ دیکھا گیا۔ ہانگ کانگ کے ہینگ سینگ انڈیکس میں کمی ہوئی، جبکہ آسٹریلوی مارکیٹ بھی معمولی دباؤ میں رہی۔
اس کے برعکس جاپان، جنوبی کوریا اور تائیوان کی مارکیٹس میں ٹیکنالوجی، چِپ اور مصنوعی ذہانت سے وابستہ کمپنیوں کے حصص میں خریداری کے باعث نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
جاپان کا نکی انڈیکس تقریباً 0.6 فیصد، جنوبی کوریا کا کوسپی 1.6 فیصد جبکہ تائیوان کا ٹی اے آئی ای ایکس تقریباً 0.6 فیصد اضافے کے ساتھ بند ہوا۔
سرمایہ کاروں کی نظریں امریکی مہنگائی کے اعداد و شمار پر
مارکیٹ میں موجودہ غیر یقینی صورتحال کے دوران سرمایہ کار امریکا کے آئندہ افراطِ زر کے اعداد و شمار کا انتظار کر رہے ہیں۔ ان اعداد و شمار سے عالمی سطح پر شرح سود کے مستقبل کے حوالے سے مزید اشارے ملنے کی توقع ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوا تو اس کے نتیجے میں مہنگائی پر قابو پانے کے لیے مرکزی بینکوں کو شرح سود زیادہ عرصے تک بلند رکھنے کا دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
ین کی قدر میں بھی اضافہ
دوسری جانب جاپانی ین نے ڈالر کے مقابلے میں اپنی قدر میں مزید بہتری دکھائی۔ حالیہ دنوں میں ین کی قدر میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کی ایک وجہ جاپان کے مرکزی بینک کی جانب سے نسبتاً سخت مالیاتی پالیسی کے امکانات کو قرار دیا جارہا ہے۔
یورو معمولی اضافے کے ساتھ جبکہ برطانوی پاؤنڈ تقریباً مستحکم رہا۔
ماہرین کے مطابق آنے والے دنوں میں مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال، تیل کی قیمتیں، امریکی افراطِ زر کے اعداد و شمار اور بڑے مرکزی بینکوں کے فیصلے عالمی مالیاتی منڈیوں کی سمت متعین کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔









