دنیا کا پہلا قدرتی طور پر تحلیل ہونے والا غبارہ تیار

0
35
دنیا کا پہلا قدرتی طور پر تحلیل ہونے والا غبارہ تیار

لندن: برطانیہ کے سائنس دانوں نے ایسا ماحول دوست پارٹی غبارہ تیار کرنے کا دعویٰ کیا ہے جو استعمال کے بعد قدرتی طور پر تحلیل ہو سکتا ہے۔

امپیریل کالج لندن سے وابستہ محققین کے مطابق نئے غبارے کو ’’بایولون‘‘ کا نام دیا گیا ہے اور تجربات میں اسے تقریباً نو ماہ کے عرصے میں قدرتی طور پر تحلیل ہونے کے قابل پایا گیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ روایتی ربڑ کے غباروں کو زیادہ مضبوط اور لچک دار بنانے کے لیے کیمیائی عمل سے گزارا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں ان کے ماحول میں مکمل طور پر تحلیل ہونے کا عمل طویل ہو سکتا ہے۔ بعض صورتوں میں ایسے کیمیائی اجزا بھی موجود ہو سکتے ہیں جو ماحول کے لیے نقصان دہ ثابت ہوں۔

نئے غبارے کی تیاری میں قدرتی ربڑ استعمال کیا گیا ہے، تاہم اسے مضبوط بنانے کے لیے روایتی نقصان دہ کیمیائی اضافی مادوں سے گریز کیا گیا ہے۔ محققین کے مطابق اس طریقے سے غبارہ اپنی مطلوبہ خصوصیات برقرار رکھتے ہوئے استعمال کے بعد زیادہ تیزی سے قدرتی ماحول میں تحلیل ہو سکتا ہے۔

غباروں کا فضلہ سمندری حیات کے لیے خطرہ

ماہرین ماحولیات کے مطابق پارٹیوں اور تقریبات میں بڑے پیمانے پر استعمال ہونے والے غبارے، خصوصاً ’’بالون آرچز‘‘ جیسے ڈیزائن، استعمال کے بعد کچرے کی شکل اختیار کر لیتے ہیں اور اگر یہ سمندر یا قدرتی ماحول میں پہنچ جائیں تو جنگلی حیات کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔

ایک سائنسی تحقیق میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ غباروں کے ٹکڑے سمندری پرندوں کے لیے خاص طور پر خطرناک ہو سکتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق دیگر سخت پلاسٹک کے مقابلے میں غبارے کے ٹکڑے نگلنے والے پرندوں کے ہلاک ہونے کا امکان نمایاں طور پر زیادہ پایا گیا۔

ماحولیاتی کارکن طویل عرصے سے کھلے آسمان میں غبارے چھوڑنے کی مخالفت کرتے رہے ہیں، کیونکہ یہ بعد میں زمین یا سمندر میں گر کر جانوروں اور پرندوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔

محققین کا کہنا ہے کہ مارکیٹ میں بعض غباروں کو مکمل طور پر تحلیل ہونے والا قرار دیا جاتا ہے، تاہم صرف ’’بایوڈی گریڈیبل‘‘ کا لیبل اس بات کی ضمانت نہیں دیتا کہ کوئی مصنوعات واقعی مکمل طور پر قدرتی ماحول میں تحلیل ہو جائے گی۔

دیگر مصنوعات میں بھی استعمال کا امکان

تحقیقی ٹیم کے مطابق بایولون کی تیاری کا بنیادی تصور مستقبل میں غباروں کے علاوہ دیگر قدرتی ربڑ اور لیٹیکس مصنوعات کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

ممکنہ شعبوں میں طبی دستانے، جراحی کے لیے استعمال ہونے والی لیٹیکس مصنوعات، بعض طبی آلات اور لباس شامل ہیں۔

محققین کو امید ہے کہ یہ ماحول دوست غبارہ آئندہ دو برس کے دوران تجارتی سطح پر دستیاب ہو جائے گا، جس کے بعد روایتی غباروں کے مقابلے میں ماحول پر کم اثر ڈالنے والا متبادل صارفین کو فراہم کیا جا سکے گا۔

Leave a reply