پانی کی سیاست نہیں، پانی کی حکمتِ عملی چاہیے

پاکستان میں سیلاب اب کوئی غیر معمولی واقعہ نہیں رہا۔ ہر مون سون کے ساتھ بارشیں آتی ہیں، دریاؤں میں طغیانی بڑھتی ہے، ندی نالے خطرناک صورت اختیار کرتے ہیں اور ملک کے مختلف حصوں میں تباہی کے مناظر سامنے آ جاتے ہیں۔ کہیں گھر ڈوبتے ہیں، کہیں کھڑی فصلیں تباہ ہوتی ہیں، کہیں رابطہ سڑکیں ٹوٹ جاتی ہیں اور کہیں غریب خاندان برسوں کی جمع پونجی سے محروم ہو جاتے ہیں۔
سب سے افسوس ناک بات یہ ہے کہ ہم اس صورتحال کو ایک مستقل قومی مسئلے کے بجائے ہر سال آنے والی ایک نئی ہنگامی صورتحال سمجھتے ہیں۔ سیلاب آتا ہے تو امدادی کیمپ لگتے ہیں، راشن تقسیم ہوتا ہے، متاثرین کیلئے اعلانات ہوتے ہیں، چند دن خبریں چلتی ہیں اور پھر پانی اترنے کے ساتھ ہماری اجتماعی توجہ بھی ختم ہو جاتی ہے۔
اگلی بارش تک۔
سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کے پاس سیلاب سے نمٹنے کیلئے کوئی طویل المدت حکمتِ عملی ہے؟ کیا ہم اضافی پانی کو تباہی کے بجائے اپنے مستقبل کیلئے ذخیرہ نہیں کر سکتے؟ اور کیا پانی کی کمی اور پانی کی زیادتی، دونوں مسائل کا ایک مربوط حل تلاش نہیں کیا جا سکتا؟
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کو صرف زیادہ پانی کا مسئلہ درپیش نہیں، بلکہ پانی کو سنبھالنے کی صلاحیت کا مسئلہ بھی درپیش ہے۔
بارش بہت زیادہ ہو تو سیلاب آ جاتا ہے اور بارش کم ہو تو خشک سالی اور پانی کی قلت کا شور شروع ہو جاتا ہے۔ یعنی جس پانی کو ایک موسم میں ہم آفت سمجھتے ہیں، چند ماہ بعد اسی پانی کیلئے پریشان ہوتے ہیں۔ یہ تضاد اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اصل بحران صرف قدرتی نہیں بلکہ انتظامی اور منصوبہ بندی کا بھی ہے۔
یہاں بڑے آبی ذخائر کی بحث ناگزیر ہو جاتی ہے۔ پاکستان میں ڈیموں کا معاملہ طویل عرصے سے سیاسی اور صوبائی اختلافات کی زد میں ہے۔ بعض منصوبوں پر صوبوں کے حقیقی تحفظات ہیں جنہیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ پانی کی تقسیم، زرعی ضروریات، ماحولیات، مقامی آبادیوں کے حقوق اور صوبائی اعتماد جیسے معاملات انتہائی اہم ہیں۔
لیکن کسی منصوبے پر اختلاف کا مطلب یہ نہیں ہونا چاہیے کہ پورا ملک پانی ذخیرہ کرنے کی بحث ہی چھوڑ دے۔
اگر ایک مخصوص ڈیم پر اتفاق نہیں تو دوسرے ممکنہ مقامات کا جائزہ لیا جائے۔ بڑے ذخائر کے ساتھ چھوٹے اور درمیانے درجے کے ڈیم بنائے جائیں۔ بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کے منصوبے شروع کیے جائیں۔ شہروں میں برساتی پانی کو ضائع ہونے سے روکنے کیلئے مؤثر نظام بنایا جائے۔ سیلابی ریلوں کو محفوظ آبی ذخائر، جھیلوں یا دیگر مناسب مقامات تک منتقل کرنے کیلئے جدید انفراسٹرکچر تیار کیا جائے۔
ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ پانی کا انتظام صرف ڈیم بنانے کا نام نہیں۔
شہری منصوبہ بندی بھی پانی کی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔ جب شہروں میں قدرتی نالے، برساتی گزرگاہیں اور آبی راستے تعمیرات کی زد میں آ جائیں تو معمول سے زیادہ بارش بھی شہری سیلاب پیدا کر سکتی ہے۔ اسی طرح جنگلات میں کمی، زمین کے بے ہنگم استعمال اور ناقص نکاسیِ آب کا نظام بھی سیلاب کے اثرات کو کئی گنا بڑھا دیتا ہے۔
لہٰذا پاکستان کو ایک ایسی جامع قومی پالیسی درکار ہے جس میں ڈیم، نہری نظام، شہری نکاسی، بارش کا پانی، زیرِ زمین پانی، زراعت، جنگلات اور سیلابی انتظام سب ایک دوسرے سے جڑے ہوں۔
سب سے اہم بات قومی اتفاقِ رائے ہے۔
پانی کو اگر صوبائی سیاست کا مستقل میدان بنا دیا جائے گا تو کوئی بھی منصوبہ آسانی سے آگے نہیں بڑھ سکے گا۔ دوسری طرف اگر کسی صوبے کے جائز خدشات کو محض سیاسی مخالفت قرار دے کر مسترد کیا گیا تو اعتماد مزید کم ہوگا۔
راستہ دونوں انتہاؤں کے درمیان ہے۔
تمام صوبوں کو اعتماد میں لے کر، شفاف اعداد و شمار سامنے رکھ کر، ماہرین کی مدد سے اور ماحولیاتی و سماجی اثرات کا غیر جانب دارانہ جائزہ لے کر فیصلے کیے جائیں۔ پانی کی تقسیم کے موجودہ اصولوں اور صوبائی حقوق کا احترام کرتے ہوئے مستقبل کی ضروریات کیلئے نئی حکمتِ عملی بنائی جائے۔
ہمیں یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ ہر ڈیم ہر سیلاب نہیں روک سکتا اور ہر سیلاب کا حل صرف ڈیم نہیں۔ لیکن اس حقیقت کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ ذخیرہ کرنے کی محدود صلاحیت، کمزور شہری منصوبہ بندی اور ناقص پانی کے انتظام کی قیمت پاکستان بار بار ادا کر رہا ہے۔
ایک طرف سیلابی پانی تباہی مچا کر سمندر میں چلا جاتا ہے، دوسری طرف خشک موسم میں ہمارے زرعی اور شہری مراکز پانی کی قلت کا سامنا کرتے ہیں۔ یہ صورتحال کسی بھی سنجیدہ ملک کیلئے ناقابلِ قبول ہونی چاہیے۔
دنیا بدل رہی ہے۔ موسمیاتی تبدیلی نے بارشوں کے انداز، درجہ حرارت اور پانی کے بہاؤ کو مزید غیر یقینی بنا دیا ہے۔ ایسے ماحول میں پرانے طریقوں پر انحصار کافی نہیں ہوگا۔ ہمیں مستقبل کی ضروریات کو سامنے رکھ کر پانی کے ہر قطرے کی قدر کرنا ہوگی۔
یہ بحث بھی اب ختم ہونی چاہیے کہ پانی کا منصوبہ کس صوبے کا ہے۔ اصل سوال یہ ہونا چاہیے کہ منصوبہ سائنسی اعتبار سے کتنا مؤثر ہے، اس کے نقصانات کیا ہیں، فوائد کیسے تقسیم ہوں گے اور ہر صوبے کے حقوق کو کس طرح محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔
اگر کوئی منصوبہ نقصان دہ ہے تو اسے روکنے کی دلیل اعداد و شمار اور شواہد پر ہونی چاہیے۔ اور اگر کوئی منصوبہ ملک کے مفاد میں ہے تو اسے صرف سیاسی مخالفت کی بنیاد پر دفن نہیں ہونا چاہیے۔
سیلاب کسی سیاسی جماعت کا مخالف نہیں ہوتا۔ وہ کسی صوبے کی سرحد پر رک نہیں جاتا۔ پانی کو نہ سیاسی نعروں کی سمجھ ہے، نہ صوبائی تعصبات کی۔
اس لیے پانی کے معاملے میں بھی ہمیں سیاست سے زیادہ حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔
پاکستان کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم ہر سال سیلاب آنے کے بعد امداد تقسیم کرنے والی قوم بننا چاہتے ہیں یا ایسی ریاست بننا چاہتے ہیں جو بارش اور دریاؤں کے پانی کو پہلے سے منصوبہ بندی کے ذریعے اپنی معاشی طاقت میں تبدیل کرے۔
آج کا اضافی پانی اگر محفوظ کر لیا جائے تو کل کی ضرورت پوری ہو سکتی ہے۔ آج اگر سیلابی خطرہ کم کر لیا جائے تو کل انسانی جانیں، فصلیں اور بستیاں محفوظ رہ سکتی ہیں۔
پانی کو دشمن نہ بنائیں، اسے قومی اثاثہ سمجھیں۔
کیونکہ مسئلہ یہ نہیں کہ پاکستان میں پانی کم ہے یا زیادہ۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم پانی کو کتنا سمجھتے، کتنا محفوظ کرتے اور کتنی دور اندیشی سے استعمال کرتے ہیں۔








