
اسلام آباد: پاکستان میں سلیپر بس سروس بند کیے جانے کی اطلاعات سوشل میڈیا پر تیزی سے گردش کر رہی ہیں، جس کے باعث مسافروں اور ٹرانسپورٹرز میں تشویش پائی جا رہی ہے۔
سوشل میڈیا پر بعض صارفین اور بس آپریٹرز کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ سلیپر بسوں کی بکنگ دستیاب نہیں رہی، جبکہ کچھ مسافروں نے پہلے سے کی گئی بکنگ سے متعلق بھی شکایات کا اظہار کیا ہے۔ تاہم اب تک وفاقی یا صوبائی حکومت کی جانب سے سلیپر بس سروس پر مکمل پابندی کا کوئی باضابطہ نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق معاملہ تمام سلیپر بسوں پر پابندی کے بجائے ان گاڑیوں سے متعلق ہے جنہیں مقامی سطح پر پرانے بس ڈھانچوں میں تبدیلیاں کرکے سلیپر بسوں میں تبدیل کیا گیا ہے۔
بس ٹرانسپورٹ سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ متعلقہ حکام کی جانب سے گاڑیوں کے فٹنس اور حفاظتی معیار کو بنیاد بنایا جا رہا ہے۔ بعض اطلاعات کے مطابق ایسی بسیں جو مقررہ فٹنس اور ہائی وے سیفٹی تقاضوں پر پوری نہیں اترتیں، انہیں موٹروے پر سفر سے روکا جا رہا ہے۔
ٹرانسپورٹرز کا مؤقف ہے کہ اگر مقامی طور پر تیار کی گئی سلیپر بسوں میں کوئی تکنیکی یا حفاظتی خامی موجود ہے تو حکومت واضح طور پر مطلوبہ معیار جاری کرے تاکہ مالکان اپنی گاڑیوں کو مقررہ ضوابط کے مطابق بہتر بنا سکیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ٹرانسپورٹ کمپنیوں نے سلیپر بس سروس کے لیے بڑی سرمایہ کاری کر رکھی ہے، اس لیے اچانک کارروائی کے بجائے انہیں واضح قواعد اور مناسب وقت دیا جانا چاہیے۔
دوسری جانب سوشل میڈیا صارفین نے بھی سلیپر بس سروس کو طویل فاصلے کے سفر کے لیے نسبتاً آرام دہ اور کم خرچ ذریعہ قرار دیتے ہوئے حکومت سے صورتحال واضح کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
کچھ بکنگ پلیٹ فارمز سے متعلق صارفین نے یہ بھی بتایا کہ انہیں سلیپر بسوں کے روٹس یا بکنگ میں تبدیلی کے پیغامات موصول ہوئے، تاہم ان اطلاعات کی آزادانہ طور پر سرکاری سطح پر تصدیق نہیں ہوسکی۔
فی الحال دستیاب معلومات کی بنیاد پر یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ پاکستان بھر میں تمام سلیپر بسوں پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ بظاہر کارروائی ان بسوں تک محدود ہے جن کے بارے میں فٹنس، ساخت یا حفاظتی ضوابط کی خلاف ورزی کے خدشات موجود ہیں۔
حتمی صورتحال حکومتی یا متعلقہ ٹریفک و موٹروے حکام کی جانب سے باضابطہ وضاحت یا نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد ہی واضح ہوسکے گی۔









