جنگ کا کوئی آخری محاذ نہیں؟

دنیا ایک ایسے خطرناک دور میں داخل ہوتی دکھائی دے رہی ہے جہاں جنگیں اب صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہتیں۔ ایک میزائل حملہ دوسرے حملے کو جنم دیتا ہے، دفاعی تیاری اگلی کارروائی کا جواز بنتی ہے اور ایک علاقائی تنازع رفتہ رفتہ عالمی طاقتوں کی کشمکش میں تبدیل ہونے لگتا ہے۔ ایران، اسرائیل، امریکا، غزہ، روس اور یوکرین کے درمیان پیدا ہونے والی موجودہ صورت حال اسی بڑے بحران کی مختلف کڑیاں ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف مزید کارروائی کی بات نے ایک بنیادی سوال پھر سامنے لا کھڑا کیا ہے: آخر جنگ ختم کہاں ہوتی ہے؟
اگر کسی ریاست کی دفاعی تنصیبات کو تباہ کیا جائے، پھر وہ ریاست اپنی دفاعی صلاحیت بحال کرنے کی کوشش کرے اور اسی بحالی کو دوبارہ حملے کی وجہ قرار دیا جائے تو یہ سلسلہ کہاں جا کر رکے گا؟ کسی بھی ملک کے لیے اپنی سرحدوں اور شہریوں کے دفاع کی صلاحیت بحال کرنا ایک فطری ریاستی ضرورت ہے۔ اگر اسی ضرورت کو مستقل حملوں کا جواز بنا دیا جائے تو جنگ ایک وقتی واقعہ نہیں رہتی بلکہ ایک مستقل سیاسی اور عسکری نظام بن جاتی ہے۔
یہاں اصل مسئلہ صرف میزائلوں، ریڈاروں یا فوجی تنصیبات کا نہیں بلکہ جنگ کے مقصد کا ہے۔ اگر مقصد کسی مخصوص عسکری صلاحیت کو محدود کرنا ہے تو اس کی حد کیا ہوگی؟ اور اگر مقصد کسی ریاست کو طویل عرصے تک کمزور رکھنا ہے تو کیا فضائی حملے واقعی اس مقصد کو مستقل طور پر حاصل کر سکتے ہیں؟
تاریخ کا تجربہ بتاتا ہے کہ فوجی طاقت کسی ملک کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا سکتی ہے، دفاعی صلاحیت کو عارضی طور پر مفلوج کر سکتی ہے اور معاشی مشکلات بڑھا سکتی ہے، لیکن کسی قوم کے سیاسی ارادے اور مزاحمت کو محض بمباری سے ختم کرنا آسان نہیں ہوتا۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بیرونی دباؤ ریاست کے اندر سخت گیر قوتوں کو مزید مضبوط کر دیتا ہے۔
اس پورے بحران کا سب سے تکلیف دہ پہلو انسانی جانوں کا ضیاع ہے۔ جنگی بیانات میں شہری ہلاکتیں اکثر اعدادوشمار بن کر رہ جاتی ہیں، لیکن ہر عدد کے پیچھے ایک خاندان، ایک گھر اور کئی ادھورے خواب ہوتے ہیں۔ ایک عمارت کا منہدم ہونا صرف ایک فوجی یا شہری تنصیب کا نقصان نہیں؛ اس کے ساتھ کسی خاندان کی زندگی کا وہ حصہ بھی دفن ہو جاتا ہے جسے دوبارہ تعمیر نہیں کیا جا سکتا۔
اقوام متحدہ کی جانب سے شہریوں کے تحفظ اور تحمل کی اپیلیں اسی لیے اہم ہیں۔ بین الاقوامی انسانی قانون کا بنیادی اصول یہ ہے کہ جنگ میں بھی شہریوں کو نشانہ بنانے سے گریز کیا جائے اور فوجی کارروائی میں ضرورت، تناسب اور امتیاز کے اصولوں کی پابندی کی جائے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ عالمی اداروں کی اخلاقی اپیلیں اس وقت بے اثر دکھائی دینے لگتی ہیں جب بڑی طاقتیں اپنے سیاسی اور عسکری مفادات کو قانون اور سفارت کاری پر ترجیح دینے لگیں۔
اسرائیلی قیادت کی جانب سے ایرانی حکومت کو تبدیل کرنے کے ارادوں کا اظہار بحران کو ایک نئی سطح پر لے جاتا ہے۔ کسی دوسرے ملک کی حکومت گرانے کو جنگی مقصد بنانا محض عسکری کارروائی نہیں بلکہ ایک ریاست کے سیاسی مستقبل میں براہِ راست مداخلت کا اعلان ہے۔
یہاں ایک اہم سبق عراق، لیبیا اور دیگر بحرانوں سے بھی ملتا ہے: حکومت کا کمزور ہونا ریاست کے مستحکم ہونے کی ضمانت نہیں۔
اگر کسی حکومت کو گرا بھی دیا جائے تو اس کے بعد پیدا ہونے والا سیاسی خلا کون پُر کرے گا؟ نئی حکومت کون بنائے گا؟ ادارے کس کے پاس رہیں گے؟ مختلف مسلح گروہوں کو کون روکے گا؟ اور سب سے بڑھ کر، کیا عوام اس تبدیلی کو اپنی مرضی کی سیاسی تبدیلی سمجھیں گے یا بیرونی مداخلت؟
ان سوالات کے واضح جواب کے بغیر حکومت گرانے کی حکمت عملی ایک خطرناک تجربہ بن سکتی ہے۔
غزہ کی صورت حال بھی اسی بڑے تضاد کی عکاس ہے۔ دنیا ایک طرف شہریوں کے تحفظ، انسانی امداد اور دو ریاستی حل کی بات کرتی ہے، جبکہ دوسری طرف زمینی حقائق میں فوجی کنٹرول اور علاقے پر قبضے کی توسیع کی باتیں سامنے آتی ہیں۔ کسی خطے کے مستقبل کا فیصلہ اگر وہاں رہنے والے لوگوں کی سیاسی مرضی کے بجائے فوجی طاقت اور جغرافیائی کنٹرول سے ہونے لگے تو امن کا تصور کمزور پڑ جاتا ہے۔
ایران کے گرد عالمی طاقتوں کی صف بندی بھی تشویش میں اضافہ کر رہی ہے۔ روس کی سیاسی حمایت اور ایران کے ساتھ اس کی اسٹرٹیجک قربت اس بحران کو محض ایران اور اسرائیل یا ایران اور امریکا کے درمیان تنازع نہیں رہنے دیتی۔ دوسری طرف روس اور یوکرین کی جنگ پہلے ہی عالمی توانائی، خوراک اور سلامتی کے نظام کو متاثر کر چکی ہے۔
اگر مشرقِ وسطیٰ کا بحران بھی اسی عالمی کشمکش کے ساتھ جڑ جاتا ہے تو اس کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہیں گے۔ توانائی کی قیمتیں، سمندری تجارت، عالمی معیشت اور کئی ممالک کی داخلی سیاست بھی اس کی زد میں آ سکتی ہے۔
سب سے زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ دنیا بحرانوں کو الگ الگ خانوں میں دیکھ رہی ہے۔ ایران کا بحران ایک طرف، غزہ دوسری طرف، روس یوکرین جنگ الگ اور عالمی توانائی کا مسئلہ الگ۔ حقیقت میں یہ سب ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔
توانائی کی عالمی منڈی میں کسی بڑے خلل سے یورپ متاثر ہوگا، مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی سے سمندری راستے خطرے میں پڑ سکتے ہیں، روس یوکرین جنگ کی شدت عالمی توانائی کے فیصلوں کو بدل سکتی ہے اور بڑی طاقتوں کی باہمی صف بندی ہر نئے بحران کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے۔
اس لیے اصل ضرورت مزید ہتھیاروں کی نہیں بلکہ ایک ایسے سیاسی راستے کی ہے جو فریقین کو مسلسل انتقامی کارروائی کے چکر سے باہر نکال سکے۔
جنگ بندی صرف اس وقت مؤثر ہوتی ہے جب اس کے ساتھ قابلِ اعتماد نگرانی، شہریوں کے تحفظ کی ضمانت، انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی اور مذاکرات کا واضح راستہ موجود ہو۔ محض یہ کہنا کافی نہیں کہ جنگ ختم ہونی چاہیے؛ فریقین کو ایسا سیاسی بندوبست بھی درکار ہوتا ہے جس میں انہیں اپنی سلامتی کے بارے میں کچھ یقین ہو۔
ایران کے معاملے میں بھی بنیادی سوال یہی ہے کہ کیا فوجی دباؤ تہران کو مذاکرات کی طرف لائے گا یا مزید سخت ردعمل پیدا کرے گا؟ کیا حکومت گرانے کی دھمکی کسی بہتر سیاسی مستقبل کی ضمانت دے سکتی ہے؟ کیا غزہ میں مزید فوجی کنٹرول اسرائیل کو مستقل سلامتی دے سکتا ہے؟ اور کیا عالمی طاقتیں انسانی جانوں، توانائی کے عدم استحکام اور علاقائی تباہی کو اپنے تزویراتی مقاصد کی قابلِ قبول قیمت سمجھ سکتی ہیں؟
ان سوالات کے جواب بموں اور میزائلوں میں نہیں ہیں۔
امن کسی ایک فریق کی مکمل فتح اور دوسرے کی مکمل شکست کا نام نہیں۔ پائیدار امن اس وقت پیدا ہوتا ہے جب مخالف فریق ایک دوسرے کی سلامتی کے وجود کو تسلیم کرتے ہوئے سیاسی راستہ اختیار کریں۔
دنیا کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ جنگ کو معمول بنانا ہے یا سفارت کاری کو۔
کیونکہ جنگ کا سب سے خطرناک لمحہ ہمیشہ پہلا میزائل نہیں ہوتا۔ اس سے زیادہ خطرناک وہ لمحہ ہے جب مسلسل حملے، شہری ہلاکتیں اور تباہی لوگوں کو معمول کی چیز محسوس ہونے لگیں۔
ریاستیں شاید دشمن کی تنصیبات تباہ کر سکتی ہیں، فوجی صلاحیت کو نقصان پہنچا سکتی ہیں اور وقتی برتری حاصل کر سکتی ہیں۔ لیکن اگر اسی عمل میں بین الاقوامی قانون، شہریوں کا تحفظ اور امن کی امید بھی تباہ ہو جائے تو ایسی فتح کی قیمت اتنی بھاری ہوتی ہے کہ آخرکار فتح اور شکست کے درمیان فرق ہی مٹ جاتا ہے۔
آج دنیا کو ایک اور حملے سے زیادہ ایک ایسے سیاسی فیصلے کی ضرورت ہے جو یہ تسلیم کرے کہ ہر جنگ کا کوئی نہ کوئی اختتام ہونا چاہیے۔
اور اگر جنگ کے اختتام کا راستہ پہلے سے طے نہ کیا جائے تو ہر نیا حملہ دراصل اگلی جنگ کی ابتدا بن سکتا ہے۔









