ٹیسلا کی بغیر اسٹیئرنگ وہیل روبوٹیکسی زیرِ تحقیق

0
0
ٹیسلا کی بغیر اسٹیئرنگ وہیل روبوٹیکسی زیرِ تحقیق

واشنگٹن: امریکی وفاقی حکام نے ٹیسلا کی نئی خودکار روبوٹیکسی ’’سائبر کیب‘‘ کے حفاظتی سرٹیفکیشن کے عمل کا جائزہ شروع کر دیا ہے۔

نیشنل ہائی وے ٹریفک سیفٹی ایڈمنسٹریشن (NHTSA) اس بات کی جانچ کر رہا ہے کہ ٹیسلا نے سائبر کیب کو وفاقی موٹر وہیکل سیفٹی قوانین کے مطابق قرار دیتے ہوئے درست قانونی اور تکنیکی بنیاد اختیار کی یا نہیں۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ٹیسلا نے آسٹن، ٹیکساس میں سائبر کیب کی محدود تجارتی سروس شروع کی ہے۔ دو نشستوں پر مشتمل اس گاڑی میں روایتی ڈرائیونگ کنٹرولز موجود نہیں، جن میں اسٹیئرنگ وہیل، بریک اور ایکسیلیریٹر پیڈلز شامل ہیں، جبکہ روایتی سائیڈ مررز بھی نہیں دیے گئے۔

امریکی قانون کے تحت گاڑی تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی گاڑیوں کی وفاقی حفاظتی معیاروں سے مطابقت کی خود تصدیق کرنا ہوتی ہے۔ تاہم اگر کسی گاڑی کے بارے میں یہ خدشہ سامنے آئے کہ وہ مقررہ حفاظتی تقاضوں پر پوری نہیں اترتی تو NHTSA تحقیقات کر سکتا ہے۔

حکام یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ ٹیسلا نے سائبر کیب کی سرٹیفکیشن کے لیے کون سا طریقہ اختیار کیا اور کن حفاظتی ضوابط کو اس مخصوص گاڑی پر قابلِ اطلاق نہ سمجھا گیا۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ امریکی حکومت خود بھی خودکار گاڑیوں سے متعلق بعض موجودہ قواعد میں تبدیلی پر غور کر رہی ہے۔ NHTSA نے حال ہی میں خودکار گاڑیوں میں بریک پیڈل سے متعلق ایک لازمی شرط ختم کرنے کی تجویز پیش کی تھی۔ تاہم جب تک قانون میں تبدیلی نہیں ہوتی، موجودہ حفاظتی تقاضے نافذ رہیں گے۔

NHTSA کے سربراہ جوناتھن موریسن کے مطابق ادارہ خودکار گاڑیوں کی محفوظ ترقی اور استعمال کی حمایت کرتا ہے، تاہم وفاقی ریگولیٹر کی حیثیت سے قوانین پر عمل درآمد یقینی بنانا بھی اس کی بنیادی ذمہ داری ہے۔

ٹیکساس کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جمعے کی صبح تک ریاست میں ٹیسلا کی 420 خودکار گاڑیاں رجسٹرڈ تھیں، جن میں سائبر کیب کی تعداد 45 تھی۔

امریکی قوانین کے تحت ایسی خودکار گاڑیوں کے لیے الگ وفاقی منظوری ضروری نہیں جو موجودہ قواعد میں بیان کردہ انسانی کنٹرولز پر پورا اترتی ہوں۔ لیکن ان گاڑیوں کے لیے جن میں اسٹیئرنگ وہیل یا دیگر لازمی انسانی کنٹرول موجود نہ ہوں، محدود تعداد میں خصوصی اجازت کا طریقہ موجود ہے۔

قانون کے مطابق NHTSA ایک گاڑی ساز کمپنی کو سالانہ زیادہ سے زیادہ 2,500 ایسی گاڑیاں چلانے کی اجازت دے سکتا ہے۔ جولائی میں ایمیزون کے ذیلی ادارے زوکس کو اس نوعیت کی بغیر اسٹیئرنگ وہیل روبوٹیکسی کے محدود تجارتی استعمال کی اجازت دی گئی تھی۔

حکام کے مطابق ٹیسلا نے سائبر کیب کے لیے اس خصوصی اجازت کی درخواست نہیں دی۔ یہی نکتہ موجودہ تحقیقات میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے کہ کمپنی نے روایتی ڈرائیونگ کنٹرولز کے بغیر گاڑی کو کس قانونی بنیاد پر وفاقی حفاظتی معیاروں کے مطابق قرار دیا۔

ٹیسلا نے تاحال تحقیقات پر کوئی باضابطہ تبصرہ نہیں کیا۔

واضح رہے کہ تحقیقات کا آغاز اس بات کا ثبوت نہیں کہ ٹیسلا نے قانون کی خلاف ورزی کی ہے۔ امریکی حکام فی الحال یہ تعین کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ سائبر کیب کی سرٹیفکیشن موجودہ وفاقی قوانین اور حفاظتی تقاضوں کے مطابق تھی یا نہیں۔

Leave a reply