امریکا کا سعودی عرب کو 5 ارب ڈالر کے دفاعی سازوسامان کی فروخت کا فیصلہ

واشنگٹن: امریکا نے سعودی عرب کو تقریباً 5 ارب ڈالر مالیت کے جدید بم، گائیڈنس کٹس اور دیگر فوجی سازوسامان فروخت کرنے کی منظوری دے دی۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق مجوزہ معاہدے میں سعودی عرب کو جوائنٹ ڈائریکٹ اٹیک میونیشنز ایکسٹینڈڈ رینج (JDAM-ER) فراہم کرنے کا منصوبہ شامل ہے۔ ان ہتھیاروں کا مقصد سعودی عرب کی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانا اور اسے خطے میں موجودہ و مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کے قابل بنانا ہے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس ممکنہ دفاعی تعاون سے سعودی عرب کی اپنی سرزمین کے تحفظ کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔ اس کے علاوہ خلیجی خطے میں امریکی اور دیگر اتحادی افواج کے زیر استعمال دفاعی نظام کے ساتھ سعودی عرب کی باہمی مطابقت اور تعاون بھی بہتر ہوگا۔
محکمہ خارجہ کے مطابق مجوزہ فروخت امریکا کے خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کے مفادات سے بھی مطابقت رکھتی ہے، جبکہ اس سے سعودی عرب کی سکیورٹی، جو امریکا کا بڑا نان نیٹو اتحادی ہے، مزید مستحکم ہوگی۔
رپورٹس کے مطابق ایران کے خلاف رواں سال فروری کے اختتام پر شروع ہونے والی امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ کارروائیوں کے بعد سعودی عرب کو ایرانی فورسز اور یمن کے ایران نواز حوثیوں کی جانب سے ڈرون اور میزائل حملوں کے خدشات کا سامنا رہا ہے۔
امریکا نے سعودی عرب کے لیے تقریباً 750 ملین ڈالر مالیت کے AGT-150 انجنوں کی ممکنہ فروخت کی بھی منظوری دی ہے۔
علاوہ ازیں واشنگٹن نے خطے کے دیگر ممالک کے لیے بھی دفاعی معاہدوں کی منظوری دی ہے۔ عمان کے لیے F-16 طیاروں کی دیکھ بھال اور معاونت کی مد میں تقریباً 188 ملین ڈالر جبکہ عراق کے لیے 150 ملین ڈالر مالیت کے Bell 412EPX ہیلی کاپٹروں کی ممکنہ فروخت کی منظوری دی گئی ہے۔









