مستقبل آ گیا، مگر کس کے لیے؟

ہمیں ترقی چاہیے۔ ایسی ترقی جو پاکستان کے شہروں کو جدید بنائے، صنعتوں کو وسعت دے، تعلیم کے نئے راستے کھولے، صحت کے نظام کو بہتر کرے اور ہمیں دنیا کی بدلتی ہوئی معیشت کا حصہ بنائے۔ ہمیں مصنوعی ذہانت سے بھی خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے۔ دنیا جس رفتار سے بدل رہی ہے، اس رفتار کو نظرانداز کرنا کسی بھی ملک کے لیے نقصان دہ ہوگا۔
لیکن ترقی کے اس سفر میں ایک سوال ایسا ہے جسے ہم جتنا نظرانداز کریں گے، اتنا ہی اہم ہوتا جائے گا: اس ترقی میں عام آدمی کہاں کھڑا ہے؟
آج مصنوعی ذہانت صرف سائنس فکشن کی کہانی نہیں رہی۔ مشینیں معلومات کا تجزیہ کررہی ہیں، زبانوں کا ترجمہ کررہی ہیں، بیماریوں کی تشخیص میں ڈاکٹروں کی مدد کررہی ہیں، فصلوں کے بارے میں پیش گوئی کررہی ہیں اور کاروبار و حکومت کے کئی کام پہلے سے زیادہ تیزی سے انجام دیے جارہے ہیں۔ آنے والے برسوں میں یہ تبدیلی مزید گہری ہوگی۔
یہ تبدیلی پاکستان کے لیے ایک بڑا موقع بھی ہے اور ایک بڑا امتحان بھی۔
موقع اس لیے کہ نئی ٹیکنالوجی ہماری کمزور معیشت کو نئی سمت دے سکتی ہے۔ نوجوان دنیا بھر کے لیے کام کرسکتے ہیں، چھوٹے کاروبار جدید ذرائع سے بڑی منڈیوں تک پہنچ سکتے ہیں، کسان بہتر معلومات کی مدد سے پیداوار بڑھا سکتے ہیں اور سرکاری ادارے زیادہ شفاف اور تیز رفتار ہوسکتے ہیں۔
امتحان اس لیے کہ اگر اس ترقی کا فائدہ صرف ان لوگوں تک محدود رہا جن کے پاس پہلے ہی وسائل، تعلیم اور جدید ٹیکنالوجی تک رسائی موجود ہے تو معاشی اور سماجی فاصلے مزید بڑھ سکتے ہیں۔
ہم ایک ایسے ملک میں مصنوعی ذہانت کی بات کررہے ہیں جہاں لاکھوں بچے اب بھی معیاری تعلیم سے محروم ہیں۔ ہم ڈیجیٹل معیشت کا خواب دیکھ رہے ہیں مگر بہت سے نوجوانوں کے پاس جدید ہنر سیکھنے کے لیے مناسب سہولتیں موجود نہیں۔ ہم نئی صنعتوں اور سرمایہ کاری کی بات کرتے ہیں مگر ایک عام گھرانے کے لیے روزمرہ اخراجات پورے کرنا بھی مشکل ہوتا جارہا ہے۔
یہ تضاد ہمیں رک کر سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔
ترقی کا مطلب صرف یہ نہیں کہ شہر میں نئی عمارت کھڑی ہوگئی، نئی سڑک بن گئی یا کسی منصوبے پر اربوں روپے خرچ ہوگئے۔ ترقی اس وقت معنی رکھتی ہے جب اس کا اثر عام انسان کی زندگی میں نظر آئے۔
ایک ملک اس وقت حقیقی معنوں میں ترقی کرتا ہے جب ایک مزدور کو اپنے بچوں کے مستقبل کے بارے میں مسلسل خوف نہ ہو۔ جب ایک بیماری پورے خاندان کو قرض میں نہ ڈبو دے۔ جب ایک طالب علم صرف اس لیے پیچھے نہ رہ جائے کہ اس کا تعلق کسی غریب گھرانے یا دور دراز علاقے سے ہے۔ جب ایک نوجوان روزگار کے لیے اپنا ملک چھوڑنے کو واحد راستہ نہ سمجھے۔
یہیں سے ریاست کی ذمہ داری شروع ہوتی ہے۔
اگر مصنوعی ذہانت مستقبل میں بہت سے موجودہ کاموں کی نوعیت بدلنے والی ہے تو حکومت کو آج ہی سوچنا ہوگا کہ متاثر ہونے والے کارکنوں کے لیے کیا حکمت عملی ہوگی۔ صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ نئی ٹیکنالوجی روزگار کے نئے مواقع پیدا کرے گی۔ ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ پرانے روزگار سے محروم ہونے والا شخص نئے روزگار کے قابل کیسے بنے گا۔
اس کے لیے فنی تعلیم، دوبارہ تربیت، ڈیجیٹل ہنر، روزگار کی نئی شکلوں اور مضبوط سماجی تحفظ کی ضرورت ہوگی۔
ایک مزدور جو تیس سال سے ایک مخصوص کام کررہا ہے، اس سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ اگلی صبح وہ مصنوعی ذہانت کی معیشت میں ماہر بن کر مارکیٹ میں داخل ہوجائے گا۔ تبدیلی کے عمل میں انسان کو وقت، تربیت اور سہارا دینا ریاست اور معاشرے دونوں کی ذمہ داری ہے۔
ہمیں یہ بھی طے کرنا ہوگا کہ ٹیکنالوجی کس مقصد کے لیے استعمال ہوگی۔
اگر مصنوعی ذہانت صرف بڑی کمپنیوں کے منافع میں اضافے کا ذریعہ بنے گی تو اس کا فائدہ محدود ہوگا۔ لیکن اگر یہی ٹیکنالوجی کسان کو موسم اور فصل کے بارے میں بہتر معلومات دے، ڈاکٹر کو دور دراز مریض کی تشخیص میں مدد دے، استاد کو بہتر تعلیمی مواد فراہم کرے، طالب علم کو عالمی معیار کا علم مہیا کرے اور عام شہری کو سرکاری دفتر کے غیر ضروری چکروں سے نجات دلائے تو ٹیکنالوجی حقیقی معنوں میں عوامی طاقت بن سکتی ہے۔
ہمیں ایک ایسے ڈیجیٹل پاکستان کی ضرورت ہے جس میں ٹیکنالوجی امیر اور غریب کے درمیان نئی دیوار نہ بن جائے بلکہ دونوں کے درمیان فاصلے کم کرے۔
آج ایک بڑے شہر کے مہنگے اسکول میں پڑھنے والے بچے کو دنیا کے بہترین تعلیمی وسائل تک رسائی حاصل ہوسکتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایک دور افتادہ گاؤں کے بچے کو وہی موقع کب ملے گا؟
اگر ٹیکنالوجی واقعی مستقبل ہے تو اس مستقبل پر ہر بچے کا حق ہونا چاہیے۔
غریب آدمی کو صرف امداد کا محتاج سمجھنا بھی ہماری ایک بڑی غلطی ہے۔ وہ خیرات کا امیدوار نہیں، اپنے حق کا شہری ہے۔ اسے معیاری تعلیم چاہیے، مستقل روزگار چاہیے، قابلِ رسائی علاج چاہیے اور ایسا معاشی ماحول چاہیے جس میں اس کی محنت اسے عزت کے ساتھ زندگی گزارنے کے قابل بنا سکے۔
ہمیں یہ فرق سمجھنا ہوگا کہ فلاح اور خیرات ایک چیز نہیں۔
ایک ریاست اپنے شہری کو وقتی مدد دے کر اپنا فرض پورا نہیں کرتی۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ وہ ایسے مواقع پیدا کرے جن کے ذریعے ایک غریب خاندان مستقل طور پر اپنی حالت بدل سکے۔
دنیا کی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ صنعتی اور تکنیکی انقلاب ہمیشہ نئی دولت پیدا کرتے ہیں، مگر نئی دولت کی منصفانہ تقسیم خود بخود نہیں ہوتی۔ اس کے لیے قانون، ادارے، مزدوروں کے حقوق، تعلیم اور سماجی پالیسی کی ضرورت ہوتی ہے۔
مصنوعی ذہانت بھی اسی طرح ایک بڑا معاشی انقلاب ثابت ہوسکتی ہے۔ یہ بے پناہ دولت پیدا کرسکتی ہے، مگر یہ دولت کس کے پاس جائے گی، یہ ایک سیاسی اور سماجی سوال بھی ہے۔
اگر ٹیکنالوجی کی ملکیت چند بڑی کمپنیوں اور طاقتور اداروں تک محدود رہی تو دولت کا ارتکاز بڑھ سکتا ہے۔ لیکن اگر حکومتیں تعلیم، صحت، تحقیق، چھوٹے کاروبار اور عوامی خدمات میں ٹیکنالوجی کا استعمال بڑھائیں تو یہی انقلاب لاکھوں لوگوں کی زندگی بہتر کرسکتا ہے۔
اس لیے مسئلہ ٹیکنالوجی نہیں، ٹیکنالوجی تک رسائی اور اس کے فوائد کی تقسیم ہے۔
ہمیں جدید شہر بھی چاہئیں اور مضبوط سرکاری اسکول بھی۔ ہمیں عالمی معیار کے اسپتال بھی چاہئیں اور ایسا نظامِ صحت بھی جس میں غریب مریض علاج کے اخراجات سے خوفزدہ نہ ہو۔ ہمیں سرمایہ کاری بھی چاہیے اور ایسا روزگار بھی جس میں محنت کرنے والا انسان اپنے خاندان کو باعزت زندگی دے سکے۔
ترقی کی رفتار اہم ہے، مگر اس کی سمت اس سے بھی زیادہ اہم ہے۔
ہم یہ فخر ضرور کریں کہ پاکستان نئی ٹیکنالوجی اپنا رہا ہے، مصنوعی ذہانت میں آگے بڑھ رہا ہے، نئی صنعتیں قائم کررہا ہے اور دنیا کی معیشت میں اپنا حصہ بڑھا رہا ہے۔ لیکن اس فخر کے ساتھ ہمیں یہ سوال بھی پوچھنا چاہیے کہ اس سب کا فائدہ عام پاکستانی تک کس رفتار سے پہنچ رہا ہے۔
کیونکہ ایک ملک کی اصل ترقی اس کے بلند ترین ٹاور میں نہیں، اس کے عام شہری کے چہرے پر نظر آتی ہے۔
اگر ایک غریب باپ اپنے بچے کی تعلیم کے بارے میں پُرسکون ہے، اگر ایک بیمار شخص علاج کے لیے اپنی جمع پونجی ختم کرنے پر مجبور نہیں، اگر ایک نوجوان کو اپنے مستقبل کے لیے ملک چھوڑنا ضروری محسوس نہیں ہوتا اور اگر ایک مزدور اپنی محنت کے بدلے عزت کے ساتھ زندگی گزار سکتا ہے تو یہی ترقی کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔
ہمیں آگے بڑھنا ہے۔ بہت تیزی سے بڑھنا ہے۔ مصنوعی ذہانت کو اپنانا ہے، نئی صنعتیں قائم کرنی ہیں، تعلیم اور صحت کو جدید بنانا ہے اور دنیا کے ساتھ مقابلہ کرنا ہے۔
مگر اس دوڑ میں ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ترقی کا مقصد مشینوں کو زیادہ طاقتور بنانا نہیں، انسان کی زندگی کو زیادہ بہتر بنانا ہے۔
آخرکار تاریخ ہم سے یہ نہیں پوچھے گی کہ ہمارے پاس کتنی جدید مشینیں تھیں۔ وہ یہ سوال کرے گی کہ جب ہمارے پاس ترقی کے مواقع آئے تو ہم نے ان کا فائدہ کتنے انسانوں تک پہنچایا۔
اور شاید پاکستان کے مستقبل کا سب سے اہم سوال یہی ہے:
ہم ترقی تو کررہے ہیں، لیکن اس ترقی کے سفر میں عام آدمی کہاں کھڑا ہے؟









