
دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے چلنے والے نگرانی کے نظام تیزی سے عام ہو رہے ہیں۔ ایسے کیمروں کا استعمال مختلف مقامات پر لوگوں کی شناخت اور نقل و حرکت کی نگرانی کے لیے کیا جا رہا ہے۔
اسی بڑھتی ہوئی ڈیجیٹل نگرانی کے تناظر میں ایک منفرد شرٹ تیار کی گئی ہے، جس کا مقصد اے آئی پر مبنی کیمروں کے لیے اسے پہننے والے شخص کی شناخت مشکل بنانا ہے۔
اس ڈیزائن کو تیار کرنے والے سائمن ویکرٹ کے مطابق اے آئی سسٹمز بڑی تعداد میں تصاویر سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کی مدد سے انسانوں کو شناخت کرنا سیکھتے ہیں۔ یہ نظام انسانی شکل اور مخصوص بصری پیٹرنز کو بنیاد بنا کر کسی فرد کی موجودگی کا اندازہ لگاتے ہیں۔
ویکرٹ کا کہنا ہے کہ اسی طریقہ کار کی کمزوری کو سامنے رکھتے ہوئے ’’ڈیجیٹل کیموفلاج‘‘ نامی شرٹ تیار کی گئی۔ اس کے ڈیزائن میں ایسے غیر معمولی اور نمایاں پیٹرنز استعمال کیے گئے ہیں جو بعض اے آئی وژن سسٹمز کو الجھن میں ڈال سکتے ہیں۔
شرٹ دیکھنے میں بھی خاصی منفرد اور رنگ برنگی ہے، تاہم اس کے تخلیق کار کے مطابق اس کا مقصد خوبصورتی کے بجائے مشین وژن کے نظام کو چیلنج کرنا ہے۔
سائمن ویکرٹ نے مختلف اے آئی سسٹمز پر اس ڈیزائن کو آزمانے کا دعویٰ کیا ہے اور ان کے مطابق بعض تجربات میں سسٹمز شرٹ پہننے والے شخص کو درست طور پر شناخت کرنے میں ناکام رہے۔
یہ تجربہ اس سوال کو بھی اجاگر کرتا ہے کہ مصنوعی ذہانت پر مبنی نگرانی کے بڑھتے ہوئے استعمال کے دور میں افراد اپنی بصری شناخت اور نجی زندگی کے تحفظ کے لیے ٹیکنالوجی کا مقابلہ کس حد تک کر سکتے ہیں۔









