مندر گرا یا کچھ اور ہوا؟ نارووال واقعے نے نیا رخ اختیار کرلیا

مندر گرا یا کچھ اور ہوا؟ نارووال واقعے نے نیا رخ اختیار کرلیا

تحریر:

نارووال: پنجاب کے ضلع نارووال کے علاقے اڈا سراج میں واقع قدیم ہندو مندر کے ایک حصے کے گرنے سے متعلق سوشل میڈیا اور بھارتی میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں پر پنجاب حکومت نے وضاحت جاری کردی۔
صوبائی وزیر برائے اقلیتی امور سردار رمیش سنگھ اروڑا کے مطابق مندر کو کسی انسانی کارروائی کے ذریعے منہدم کیے جانے کا دعویٰ درست نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے خود جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور صورتحال کا جائزہ لیا۔
رمیش سنگھ اروڑا نے بتایا کہ حالیہ شدید بارشوں اور طوفانی موسم کے باعث مندر کی پرانی عمارت کا ایک حصہ متاثر ہو کر گر گیا، جسے دانستہ انہدام قرار دینا حقائق کے منافی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اقلیتوں کے مذہبی مقامات اور ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے حکومت اقدامات کر رہی ہے۔ ان کے مطابق ہندو، سکھ اور مسیحی سمیت تمام اقلیتی برادریاں پاکستان کی برابر کی شہری ہیں اور ان کے مذہبی حقوق کا احترام ریاست کی ذمہ داری ہے۔
دوسری جانب متروکہ وقف املاک بورڈ کے حکام نے بھی مندر کی عمارت کو انتہائی قدیم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بارشوں کے نتیجے میں عمارت کا کچھ حصہ منہدم ہوا۔
پنجاب حکومت کے مطابق مندر کی زمین کسی فرد یا ادارے کو لیز پر نہیں دی گئی۔ حکومت نے متاثرہ حصے کی بحالی اور تعمیرِ نو کا کام بھی جلد شروع کرنے کا عندیہ دیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کو اقلیتوں کے خلاف کارروائی کے طور پر پیش کرنا حقائق کو مسخ کرنے کے مترادف ہے، جبکہ حکومت صورتحال کی نگرانی اور مندر کی بحالی کے لیے اقدامات جاری رکھے گی۔

Leave a reply