ٹکراؤ کی سیاست کا انجام کیا ہوگا؟

اسلام آباد: پاکستان کی سیاست ایک بار پھر شدید کشیدگی، باہمی عدم اعتماد اور سیاسی محاذ آرائی کے گرد گھومتی دکھائی دے رہی ہے۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اختلافات مسلسل بڑھنے کے باعث سیاسی مقابلہ اب محض اختلافِ رائے تک محدود نہیں رہا بلکہ کئی معاملات میں باقاعدہ دشمنی کا رنگ اختیار کرتا جا رہا ہے، جس کے اثرات جمہوری عمل، حکمرانی اور ملکی معیشت پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔
موجودہ صورتحال میں سیاسی مفاہمت اور مذاکرات کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ محسوس کی جا رہی ہے، تاہم عملی طور پر اس راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ سیاسی فریقین کے درمیان اعتماد کا فقدان ہے۔ مفاہمت صرف مذاکرات کی دعوت دینے سے ممکن نہیں ہوتی بلکہ اس کے لیے فریقین کو ایک دوسرے کے سیاسی وجود اور اختلافِ رائے کو تسلیم کرتے ہوئے سیاسی گنجائش پیدا کرنا پڑتی ہے۔
حکومت اور حزب اختلاف دونوں کی ذمہ داری ہے کہ سیاسی اختلافات کو اس حد تک نہ بڑھنے دیں جہاں واپسی کا راستہ مشکل ہوجائے۔ اقتدار میں موجود قوتوں کو یہ حقیقت بھی پیش نظر رکھنا ہوگی کہ سیاسی حالات مستقل نہیں ہوتے۔ آج جو جماعت یا قیادت اقتدار میں ہے، اسے مستقبل میں اپوزیشن کا کردار بھی ادا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اسی طرح اپوزیشن کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ سیاسی تبدیلی کا پائیدار راستہ مسلسل تصادم کے بجائے جمہوری اور آئینی طریقہ کار میں موجود ہے۔
مذاکرات کے ساتھ عملی اقدامات بھی ضروری
حکومت کی جانب سے قومی معاملات اور بلوچستان کی صورتحال پر وسیع تر مذاکرات کی تجاویز اصولی طور پر مثبت قدم ہیں، تاہم اپوزیشن کی جانب سے یہ سوال بھی اہم ہے کہ اگر ایک طرف مذاکرات کی پیشکش کی جائے اور دوسری جانب سیاسی کشیدگی برقرار رہے تو بات چیت پر اعتماد کیسے پیدا ہوگا۔
ماہرین کے مطابق مذاکرات اس وقت نتیجہ خیز ہوسکتے ہیں جب انہیں محض سیاسی بیانات کے بجائے عملی اقدامات کا سہارا حاصل ہو۔ سیاسی قیدیوں، عدالتی معاملات، انتخابی شفافیت، سیاسی آزادیوں اور پارلیمانی امور سمیت حساس معاملات پر واضح اور قابلِ عمل پیش رفت اعتماد سازی میں مدد دے سکتی ہے۔
اس تناظر میں عدالتوں کو سیاسی معاملات سے الگ رکھتے ہوئے قانون اور آئین کے مطابق آزادانہ فیصلوں کا موقع دینا بھی ضروری ہے۔ سیاسی تنازعات کا حل عدالتی عمل، پارلیمان اور سیاسی مذاکرات کے آئینی دائرہ کار میں تلاش کیا جانا چاہیے، نہ کہ سیاسی دباؤ یا طاقت کے استعمال کے ذریعے۔
اپوزیشن کے لیے بھی تصادم سے نکلنے کا چیلنج
اپوزیشن خصوصاً پاکستان تحریک انصاف کے لیے بھی موجودہ صورتحال میں سیاسی حکمت عملی پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔ احتجاج، لانگ مارچ اور مزاحمتی سیاست سیاسی دباؤ پیدا کرنے کا ذریعہ ہوسکتے ہیں، لیکن اگر مسلسل تصادم سیاسی نظام کو مفلوج کرنے لگے تو اس کے اثرات پوری ریاست اور معاشرے پر پڑتے ہیں۔
اسی طرح دیگر اپوزیشن جماعتوں کا ایک دوسرے کے قریب آنا اگر صرف حکومت مخالف اتحاد تک محدود رہا تو سیاسی تقسیم مزید گہری ہوسکتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اپوزیشن جماعتیں حکومت سے اختلاف کے ساتھ ساتھ قومی معاملات پر متبادل اور قابلِ عمل ایجنڈا بھی سامنے لائیں۔
قومی مسائل کو جماعتی مفادات سے بالاتر رکھنے کی ضرورت
پاکستان اس وقت سیاسی تنازعات کے ساتھ ساتھ معاشی، آئینی، قانونی، سلامتی اور علاقائی نوعیت کے متعدد چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے حالات میں قومی مسائل کو محض سیاسی لڑائی کے تناظر میں دیکھنا مزید پیچیدگیاں پیدا کرسکتا ہے۔
ملکی معیشت کی بحالی، دہشت گردی کا مقابلہ، صوبائی مسائل کا حل، سیاسی استحکام اور اداروں پر عوامی اعتماد کی بحالی ایسے شعبے ہیں جہاں سیاسی جماعتوں کے درمیان کم از کم بنیادی اتفاقِ رائے ضروری ہے۔
سیاسی قیادت کو ذاتی اور جماعتی اختلافات سے اوپر اٹھ کر یہ طے کرنا ہوگا کہ کون سے معاملات ایسے ہیں جنہیں اقتدار کی سیاست سے الگ رکھ کر قومی پالیسی کا حصہ بنایا جاسکتا ہے۔
قومی ایجنڈے کی تشکیل ناگزیر
موجودہ سیاسی بحران سے نکلنے کے لیے ایک وسیع تر قومی ایجنڈے کی ضرورت ہے جس میں آئین و قانون کی بالادستی، آزاد اور شفاف انتخابات، الیکشن کمیشن کی مؤثر خودمختاری، غیر جانب دار احتساب، پارلیمان کی مضبوطی اور سیاسی انتقام کے خاتمے جیسے بنیادی نکات شامل ہوں۔
اگر سیاسی جماعتیں ان معاملات پر مشترکہ اصول طے کرلیں تو حکومتیں تبدیل ہونے کے باوجود ریاستی نظام میں تسلسل برقرار رکھا جاسکتا ہے۔ یہی تسلسل سیاسی استحکام اور معاشی ترقی کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔
طاقت کے بجائے سیاسی راستہ تلاش کرنا ہوگا
موجودہ صورتحال کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ ریاست اور حکومت کے خلاف سیاسی یا سماجی ردعمل کو صرف طاقت کے ذریعے قابو کرنے کی کوشش مسائل کو کم کرنے کے بجائے مزید بڑھا سکتی ہے۔ جو گروہ یا سیاسی قوتیں حکومتی نظام سے اختلاف رکھتی ہیں، ان کے لیے آئینی اور سیاسی راستے کھلے رکھنا جمہوری نظام کی مضبوطی کی علامت ہے۔
اگر سیاسی اختلاف کو مکمل طور پر دشمنی میں تبدیل کردیا جائے تو ہر فریق اپنے مخالف کو ختم کرنے کی کوشش کرے گا اور یوں سیاسی عمل مسلسل انتقامی چکر کا شکار رہے گا۔
پاکستان کی داخلی کمزوریوں سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرنے والی بیرونی قوتوں کے لیے بھی سیاسی عدم استحکام سازگار ماحول پیدا کرسکتا ہے۔ اس لیے داخلی سیاسی استحکام کو قومی سلامتی اور معاشی ترقی سے الگ کرکے نہیں دیکھا جاسکتا۔
اصل سوال سیاسی ارادے کا ہے
موجودہ بحران کا بنیادی سوال یہ نہیں کہ مذاکرات کی دعوت کون دے رہا ہے یا کون قبول کررہا ہے، بلکہ یہ ہے کہ کیا تمام سیاسی اور بااثر فریق واقعی مفاہمت کے لیے ضروری سیاسی قیمت ادا کرنے کو تیار ہیں؟
مفاہمت کا مطلب کسی ایک جماعت کی مکمل کامیابی یا دوسرے فریق کی شکست نہیں۔ اس کا بنیادی مقصد ایسا سیاسی ماحول پیدا کرنا ہے جہاں اختلاف موجود رہتے ہوئے بھی نظام چلتا رہے، مخالف سیاسی قوتوں کو اپنا کردار ادا کرنے کا حق حاصل ہو اور قومی معاملات پر کم از کم مشترکہ بنیاد قائم کی جاسکے۔
پاکستان کو اگر مسلسل سیاسی محاذ آرائی، معاشی بے یقینی اور ادارہ جاتی کمزوری سے باہر نکلنا ہے تو حکومت، اپوزیشن اور دیگر بااثر حلقوں کو اپنی اپنی پوزیشن میں لچک پیدا کرنا ہوگی۔ سیاسی دروازے بند کرنے کے بجائے بات چیت کے راستے کھولنا ہوں گے۔
موجودہ بحران کا حل کسی ایک فریق کی فتح میں نہیں بلکہ ایسے سیاسی سمجھوتے میں ہے جو آئین، قانون، جمہوریت اور قومی مفاد کو بنیادی حوالہ بنائے۔ سوال صرف یہ ہے کہ کیا ہماری سیاسی قیادت اور حکومتی نظام اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے عملی قدم اٹھانے کے لیے تیار ہیں؟









