
ذیابیطس ٹائپ 2 کو عام طور پر ایک طویل مدتی بیماری سمجھا جاتا ہے، تاہم ایک نئی طبی تحقیق میں اشارہ ملا ہے کہ غذائی عادات میں تبدیلی کے ذریعے بعض افراد میں بلڈ شوگر کو معمول کی سطح پر لانے میں مدد مل سکتی ہے۔
امریکا کی واشنگٹن یونیورسٹی اسکول آف میڈیسن سے وابستہ محققین نے کم کاربوہائیڈریٹ والی غذا کے اثرات کا جائزہ لیا۔ تحقیق میں موٹاپے، بلند بلڈ شوگر اور جگر پر چربی کے مسائل کا سامنا کرنے والے 42 افراد کو شامل کیا گیا۔
شرکا کو مختلف غذائی منصوبوں میں تقسیم کیا گیا، جن میں کیٹو ڈائٹ، Mediterranean ڈائٹ اور کم چکنائی و زیادہ نباتاتی غذاؤں پر مبنی خوراک شامل تھی۔ یہ غذائیں تقریباً پانچ ماہ تک تحقیقاتی ٹیم کی نگرانی میں فراہم کی گئیں۔
تحقیق کے نتائج کے مطابق کیٹو ڈائٹ استعمال کرنے والے شرکا میں بلڈ شوگر کنٹرول میں نمایاں بہتری دیکھی گئی اور اس گروپ کے تمام افراد میں شوگر کی سطح بہتر ہونے کے آثار سامنے آئے۔ دیگر غذائی گروپس میں یہ بہتری نسبتاً کم افراد میں دیکھی گئی۔
محققین نے یہ بھی مشاہدہ کیا کہ کم کاربوہائیڈریٹ والی غذا سے جسمانی وزن میں کمی ہوئی اور جگر میں جمع اضافی چربی بھی نمایاں طور پر کم ہوئی۔ کیٹو ڈائٹ والے گروپ میں جگر کی چربی میں تقریباً 67 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ دوسرے گروپس میں یہ کمی تقریباً 45 فیصد رہی۔
ماہرین کے مطابق کیٹو ڈائٹ کے دوران جسم توانائی کے لیے گلوکوز کے بجائے چربی کو زیادہ استعمال کرتا ہے۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ اس غذا کے استعمال سے glucagon نامی ہارمون کی سطح میں اضافہ ہوا، جو جسم میں چربی کے استعمال اور جگر کے میٹابولزم میں کردار ادا کرتا ہے۔
تحقیق میں شامل افراد میں زیادہ چکنائی والی غذا استعمال کرنے کے باوجود خون میں چکنائی اور کولیسٹرول کی سطح میں نمایاں اضافہ نہیں دیکھا گیا۔
محققین کا کہنا ہے کہ نتائج اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہیں کہ مخصوص غذائی حکمت عملی ذیابیطس ٹائپ 2 اور جگر میں چربی جیسے میٹابولک مسائل پر مثبت اثر ڈال سکتی ہے۔
تاہم ماہرین کے مطابق ذیابیطس کے مریضوں کو کیٹو ڈائٹ یا کسی بھی سخت غذائی منصوبے کا آغاز ڈاکٹر یا ماہر غذائیت کے مشورے کے بغیر نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ ہر مریض کے لیے اس کے اثرات یکساں نہیں ہوتے۔
تحقیق کے نتائج طبی جریدے Cell Metabolism میں شائع کیے گئے۔









