کراچی: حمل کی جعلی رپورٹس پر مبینہ سی سیکشن، آپریشن کے بعد حقیقت سامنے آگئی

0
8
کراچی: حمل کی جعلی رپورٹس پر مبینہ سی سیکشن، آپریشن کے بعد حقیقت سامنے آگئی

کراچی کے ایک نجی اسپتال میں زچگی کے ایک مبینہ واقعے نے طبی غفلت اور الٹراساؤنڈ رپورٹس کی تصدیق کے حوالے سے اہم سوالات کھڑے کردیے۔

ذرائع کے مطابق ایک خاتون گزشتہ سال حمل ضائع ہونے کے بعد دوبارہ حاملہ نہیں ہوسکی تھی۔ مبینہ طور پر معاشرتی دباؤ اور بے اولادی کے طعنوں سے بچنے کے لیے حمل سے متعلق جعلی الٹراساؤنڈ رپورٹس تیار کروائی گئیں۔

خاتون کو زچگی کے لیے کراچی کے نجی اسپتال لایا گیا، جہاں وہ کئی گھنٹے زیرِ نگرانی رہی۔ الزام ہے کہ اسپتال میں پیش کی گئی رپورٹس کی مکمل تصدیق کیے بغیر اسے حاملہ تصور کیا گیا اور سی سیکشن کا فیصلہ کیا گیا۔

تاہم آپریشن کے دوران صورتِ حال واضح ہوئی کہ خاتون حاملہ نہیں تھی، جس کے بعد معاملہ سنگین نوعیت اختیار کرگیا۔

اس واقعے کے بعد یہ سوالات اٹھ رہے ہیں کہ الٹراساؤنڈ رپورٹس کی تصدیق کے لیے مقررہ طبی طریقہ کار پر عمل کیوں نہیں کیا گیا اور آپریشن سے قبل حمل کی حتمی تصدیق کس بنیاد پر کی گئی۔

پولیس کے مطابق متاثرہ خاندان کی جانب سے تاحال تحریری درخواست موصول نہیں ہوئی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ باقاعدہ درخواست ملنے کے بعد واقعے کی تحقیقات کی جائیں گی اور شواہد کی بنیاد پر ذمہ دار افراد کے خلاف قانونی کارروائی کا فیصلہ ہوگا۔

تحقیقات میں اسپتال کا طبی ریکارڈ، الٹراساؤنڈ رپورٹس، متعلقہ ڈاکٹرز کے بیانات اور دیگر دستیاب شواہد شامل کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ یہ بھی معلوم کیا جائے گا کہ مبینہ طور پر جعلی رپورٹس کہاں تیار ہوئیں اور اسپتال میں ان کی جانچ کس طرح کی گئی۔

اس معاملے کی ایک اہم کڑی دو روز قبل سامنے آنے والا وہ الزام بھی ہے جس میں ایک شہری نے ناظم آباد کے ایک نجی اسپتال پر دعویٰ کیا تھا کہ اس کی اہلیہ کے آپریشن کے بعد نومولود بچہ غائب کردیا گیا۔ شہری کے مطابق اس کے پاس حمل کے دوران کیے گئے الٹراساؤنڈز اور 38 ہفتوں کا طبی ریکارڈ موجود تھا۔

دوسری جانب اسپتال کے گائنی وارڈ کی سربراہ ڈاکٹر انجم آرا حسن نے خاتون کے حاملہ ہونے کی تردید کی تھی۔ ان کے مطابق خاتون پہلی مرتبہ فروری میں معائنے کے لیے آئی تھیں اور اس وقت کیے گئے الٹراساؤنڈ میں حمل کی تصدیق نہیں ہوئی تھی۔

ڈاکٹر انجم آرا حسن کے مطابق مریضہ کی فائل میں شامل بعض رپورٹس مشکوک تھیں، جبکہ ایک دوسرے اسپتال کی الٹراساؤنڈ رپورٹ بھی مبینہ طور پر جعلی نکلی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایمرجنسی میں موجود ڈاکٹر نے فراہم کردہ رپورٹ اور ضروری ٹیسٹوں کی بنیاد پر آپریشن کیا، جس کے دوران حمل موجود نہ ہونے کا انکشاف ہوا۔

واقعے کی اصل حقیقت اور ذمہ داری کا تعین پولیس کی تحقیقات اور دستیاب طبی شواہد کی روشنی میں ہی ممکن ہوگا۔

Leave a reply