پمز نرسری آتشزدگی: ابتدائی انکوائری میں فائر سیفٹی کی سنگین خامیوں کا انکشاف

اسلام آباد: پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کی نرسری میں پیش آنے والے آتشزدگی کے المناک واقعے کی ابتدائی انکوائری مکمل کرکے وزیراعظم شہباز شریف کو بھجوا دی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی رپورٹ وزیراعظم کے مشیر توقیر شاہ کے دفتر میں جمع کرائی، جہاں سے اسے وزیراعظم تک پہنچایا گیا۔ رپورٹ پر کمیٹی کے تمام ارکان کے دستخط موجود ہیں، تاہم اسے عوام کے سامنے لانے کا فیصلہ وزیراعظم کریں گے۔
ابتدائی رپورٹ میں پمز کے فائر سیفٹی انتظامات پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اسپتال میں حفاظتی اقدامات عالمی معیار کے مطابق نہیں تھے۔ کمیٹی نے اسپتال انتظامیہ، طبی عملے، فائر بریگیڈ اور ریسکیو اہلکاروں سمیت مختلف متعلقہ افراد کے بیانات بھی ریکارڈ کیے۔
رپورٹ میں امدادی کارروائیوں کے دوران پیش آنے والی مشکلات اور واقعے کے وقت ڈیوٹی سے غیر حاضر متعلقہ عملے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ کمیٹی نے ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی سفارش بھی کی ہے۔
اس سے قبل سی ڈی اے کی فائر انسیڈنٹ رپورٹ میں بھی اسپتال کے ہنگامی اخراج کے راستے سے متعلق سوالات اٹھائے گئے تھے۔ رپورٹ کے مطابق ایک فائر ایگزٹ بند حالت میں تھا، جبکہ فائر بریگیڈ کے ابتدائی رسپانس کے دوران سیکیورٹی سے متعلق رکاوٹوں کا بھی ذکر کیا گیا۔
واقعے کے حوالے سے حکام اور عینی شاہدین کے بیانات میں بھی فرق سامنے آیا۔ وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کے مطابق آگ ممکنہ طور پر ایئر کنڈیشنر سے نکلنے والی چنگاری کے باعث لگی اور وارڈ میں موجود آکسیجن نے آگ کے پھیلاؤ کو تیز کیا۔ ان کے مطابق نرسری میں خودکار اسپرنکلر نظام موجود نہیں تھا۔
پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر رانا عمران سکندر نے فائر ایگزٹ پر تالے کی تردید کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ بچوں کی چوری کے سابقہ واقعات کے باعث رسائی کو محدود رکھا جاتا تھا، تاہم دروازے پر تالا نہیں لگایا گیا تھا۔
امدادی کارروائیوں میں مبینہ تاخیر کے حوالے سے بعض لواحقین اور عینی شاہدین نے بھی تحفظات کا اظہار کیا، جبکہ وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ اطلاع ملنے کے چند منٹ کے اندر ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچ گئی تھیں۔
حکام کے مطابق حادثے میں جاں بحق ہونے والے بچوں کی شناخت شناختی بینڈز، طبی ریکارڈ اور دستیاب فرانزک طریقہ کار کے ذریعے مکمل تصدیق کے بعد کی گئی اور میتیں لواحقین کے حوالے کی گئیں۔
تحقیقاتی عمل میں اب یہ بھی دیکھا جائے گا کہ ہنگامی راستوں کی صورتحال کیا تھی، ڈیوٹی پر موجود عملے نے کس طرح ردعمل دیا اور آگ لگنے کے بعد ریسکیو اقدامات میں کوئی انتظامی یا عملی کوتاہی ہوئی یا نہیں۔
رپورٹ کی سفارشات کی روشنی میں ذمہ دار افراد کے خلاف انتظامی اور قانونی کارروائی کا امکان ہے۔









