وینزویلا کے تیل پر امریکی گرفت مضبوط، ٹرمپ کا بڑے معاہدے کا اعلان

0
9
وینزویلا کے تیل پر امریکی گرفت مضبوط، ٹرمپ کا بڑے معاہدے کا اعلان

واشنگٹن/کاراکاس: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا کے ساتھ ایک بڑے توانائی معاہدے کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت امریکا وینزویلا کے بڑے تیل ذخائر کی ترقی اور آپریشنز میں نمایاں کنٹرول حاصل کرے گا۔

ٹرمپ کے مطابق کئی ہفتوں تک جاری رہنے والے مذاکرات کے نتیجے میں طے پانے والے معاہدے کا بنیادی مقصد امریکی ریفائنریوں کو زیادہ خام تیل فراہم کرنا، ایندھن کی قیمتوں میں کمی لانا اور خطے میں امریکی اثر و رسوخ بڑھانا ہے۔

امریکی صدر کا کہنا ہے کہ معاہدے کے نتیجے میں وینزویلا کے 65 ارب بیرل سے زائد کے ثابت شدہ تیل ذخائر کی ترقی میں امریکی حکومت اور نجی شعبہ اہم کردار ادا کریں گے۔ ان کے بقول اس منصوبے سے امریکا کی مجموعی تیل دستیابی میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے معاہدے کو دونوں ملکوں کے لیے معاشی فائدے کا منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وینزویلا میں تقریباً 100 ارب ڈالر کی نجی سرمایہ کاری متوقع ہے، جس سے روزگار کے مواقع پیدا ہونے اور ملکی معیشت کی بحالی میں مدد مل سکتی ہے۔

وینزویلا کی عبوری صدر ڈیلسی روڈریگز نے بھی معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے۔ ان کے مطابق منصوبے میں 17 اہم آئل فیلڈز کی ترقی شامل ہے جبکہ مجموعی سرمایہ کاری 100 ارب ڈالر سے تجاوز کر سکتی ہے۔ وینزویلا کو طویل مدت میں ٹیکسوں اور دیگر محصولات کی مد میں 209 ارب ڈالر سے زیادہ آمدنی حاصل ہونے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔

معاہدے کے تحت وینزویلا میں ایک نجی توانائی کمپنی کے ساتھ مشترکہ منصوبہ قائم کیے جانے کی اطلاعات ہیں، جس میں امریکی حکومت 55 فیصد کنٹرول برقرار رکھے گی۔ ایک امریکی اہلکار کے مطابق وینزویلا کی جانب سے اس منصوبے کے لیے طویل مدتی آپریشنل اجازت بھی دی گئی ہے۔

تاہم اس معاہدے کی قانونی حیثیت پر سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ واضح ہونا ابھی باقی ہے کہ وینزویلا کے آئین اور حالیہ ہائیڈرو کاربن قوانین کے تحت امریکی حکومت کو براہِ راست اس نوعیت کا کنٹرول حاصل کرنے کی اجازت کس حد تک حاصل ہے۔

وینزویلا کی تیل صنعت کئی دہائیوں سے ریاستی کنٹرول میں ہے۔ ملک نے 1970 کی دہائی میں تیل کے شعبے کو قومی تحویل میں لیا تھا جبکہ بعد میں ہوگو چاویز کے دور میں ریاستی نگرانی مزید مضبوط ہوئی۔ اس پالیسی کے نتیجے میں متعدد غیر ملکی کمپنیوں کو ریاستی شراکت داری کے ماڈل کے تحت کام کرنا پڑا اور بعض منصوبے حکومتی تحویل میں بھی لیے گئے۔

نئے معاہدے سے امریکی کمپنیوں اور حکومت کا وینزویلا کی توانائی صنعت میں کردار بڑھنے کا امکان ہے، تاہم منصوبے میں شریک کمپنیوں، سرمایہ کاری کے مکمل مالیاتی ڈھانچے اور عملی طور پر کنٹرول منتقل کرنے کے طریقہ کار کی تمام تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئی ہیں۔

واشنگٹن کی دلچسپی ایسے وقت میں بڑھ رہی ہے جب امریکا وینزویلا سے خام تیل کی سپلائی میں اضافہ چاہتا ہے۔ امریکی انتظامیہ کو ملک میں ایندھن کی قیمتوں کے حوالے سے بھی سیاسی دباؤ کا سامنا ہے، اس لیے وینزویلا کی پیداوار میں اضافے کو امریکی مارکیٹ کے لیے ایک ممکنہ سہارا سمجھا جا رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر منصوبہ عملی شکل اختیار کرتا ہے تو وینزویلا کی تیل پیداوار میں اضافے سے عالمی منڈی میں اضافی خام تیل دستیاب ہو سکتا ہے، تاہم پیداوار بڑھانے کے لیے خستہ حال انفراسٹرکچر، توانائی کے مسائل، سرمایہ کاری اور سیاسی و قانونی رکاوٹوں کو دور کرنا ضروری ہوگا۔

امریکا اپنے اسٹریٹجک پٹرولیم ریزرو کو دوبارہ بھرنے کے لیے بھی مختلف آپشنز پر غور کر رہا ہے، جن میں ملکی تیل پیدا کرنے والوں کے ساتھ خام تیل کے تبادلے جیسے طریقے شامل ہیں۔

Leave a reply