ایران جنگ کے چھ ماہ: ہلاکتیں 7,900 سے تجاوز، امریکی اخراجات 37.5 ارب ڈالر تک پہنچ گئے

ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان جاری جنگ کو چھ ماہ مکمل ہوگئے ہیں، تاہم فریقین اب تک کسی ایسے مستقل سمجھوتے تک نہیں پہنچ سکے جس کے نتیجے میں لڑائی کا مکمل خاتمہ ممکن ہوسکے۔
28 فروری 2026 کو امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی شروع کی تھی۔ حملوں میں ایرانی عسکری اور جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ ایران کی اعلیٰ قیادت میں بھی اہم جانی نقصان ہوا۔ جواباً ایران نے خطے میں امریکی و اسرائیلی مفادات اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا، جبکہ حزب اللہ اور دیگر علاقائی گروہوں کی کارروائیاں بھی تنازع کا حصہ بن گئیں۔
ہلاکتیں 7,900 سے زیادہ
دستیاب سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ چھ ماہ کے دوران ایران، لبنان، اسرائیل، خلیجی ممالک اور امریکی فوج سمیت مختلف فریقوں کے کم از کم 7,900 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق ایرانی حملوں میں 60 اسرائیلی اور 18 امریکی فوجی ہلاک جبکہ 757 امریکی اہلکار زخمی ہوئے۔
لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں کے نتیجے میں کم از کم 4,350 افراد جان سے گئے، جبکہ ایران میں ہلاکتوں کی تعداد 3,527 بتائی گئی ہے۔ خلیجی ممالک میں بھی 28 افراد ہلاک ہوئے۔
حکام کے مطابق جنگ جاری رہنے کے باعث یہ اعداد و شمار مزید تبدیل ہوسکتے ہیں۔
ساڑھے پانچ ہزار سے زائد حملے
جنگی سرگرمیوں کی نگرانی کرنے والے ادارے آرمڈ کانفلکٹ لوکیشن اینڈ ایونٹ ڈیٹا کے مطابق چھ ماہ کے دوران امریکا اور اسرائیل نے ایران میں 3,580 حملے کیے۔
دوسری جانب ایران نے خلیجی ممالک اور مشرق وسطیٰ کے مختلف علاقوں میں امریکی و اسرائیلی اہداف کو کم از کم 2,053 مرتبہ نشانہ بنایا۔
یوں ریکارڈ کیے گئے حملوں کی مجموعی تعداد 5,500 سے تجاوز کرگئی ہے۔
آبنائے ہرمز عالمی معیشت کے لیے بڑا چیلنج
جنگ کے سب سے نمایاں عالمی اثرات میں آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک کی شدید کمی شامل ہے۔
جنگ سے قبل روزانہ تقریباً 100 یا اس سے زیادہ تجارتی اور تیل بردار جہاز اس اہم آبی گزرگاہ سے گزرتے تھے، لیکن جنگ کے دوران یہ تعداد انتہائی کم ہوگئی۔
ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش کے اعلان کے بعد ایرانی پاسداران انقلاب نے بحری آمدورفت پر سخت پابندیاں عائد کیں۔ بعض اوقات روزانہ صرف پانچ جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی گئی۔
17 جون کے عبوری معاہدے کے بعد بحری ٹریفک میں عارضی بہتری آئی اور روزانہ گزرنے والے جہازوں کی تعداد تقریباً 20 تک پہنچ گئی، تاہم بعد میں ناکہ بندی دوبارہ شروع ہونے سے آمدورفت پھر محدود ہوگئی۔
چھ ماہ کی مجموعی صورتحال میں آبنائے ہرمز سے روزانہ اوسطاً تقریباً سات جہاز گزر سکے، جو جنگ سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں انتہائی کم تعداد ہے۔
جہازوں پر درجنوں حملے
بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن کے مطابق 26 اگست تک آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں سے متعلق 70 تصدیق شدہ حملے یا واقعات ریکارڈ کیے گئے۔
ان واقعات میں کم از کم 19 ملاحوں کی ہلاکت بھی رپورٹ ہوئی ہے۔
امریکا کے جنگی اخراجات میں مسلسل اضافہ
ایران جنگ امریکا کے لیے بھی انتہائی مہنگی ثابت ہوئی ہے۔
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کے مطابق جنگ پر امریکی اخراجات 37.5 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں۔ اس سے قبل اپریل کے اختتام پر یہ لاگت تقریباً 25 ارب ڈالر جبکہ جولائی میں تقریباً 30 ارب ڈالر بتائی گئی تھی۔
اس تخمینے میں فوجی اہلکاروں کے اخراجات، آپریشنز، دیکھ بھال اور مالی سال کے اختتام تک متوقع لاگت شامل ہے۔
امریکی میڈیا میں پینٹاگون کے اندرونی اندازوں کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اگر فوجی تنصیبات کی مرمت، تباہ ہونے والے طیاروں کی جگہ نئے طیارے اور استعمال کیے گئے ہتھیاروں کے ذخائر کی دوبارہ فراہمی کو شامل کیا جائے تو مجموعی لاگت 80 سے 100 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔
عالمی تیل مارکیٹ بھی متاثر
جنگ کے دوران عالمی توانائی کی منڈی میں بھی نمایاں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔
برینٹ خام تیل کی قیمت جنگ سے قبل 72.48 ڈالر فی بیرل تھی، جو 30 اپریل کو بڑھ کر 120.88 ڈالر تک پہنچ گئی۔ یہ جنگ سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں تقریباً 67 فیصد اضافہ تھا۔
بعد میں قیمتوں میں کمی آئی، تاہم رپورٹ کے مطابق موجودہ قیمت اب بھی جنگ سے پہلے کے مقابلے میں بلند ہے۔
امریکی ہنگامی تیل ذخائر میں نمایاں کمی
عالمی تیل کی فراہمی برقرار رکھنے کے لیے امریکا نے اپنے اسٹریٹجک پیٹرولیم ریزرو سے بھی بڑی مقدار میں خام تیل جاری کیا۔
امریکی ہنگامی ذخائر میں تقریباً 290 ملین بیرل تیل باقی رہ گیا ہے، جبکہ ذخیرے کی مجموعی گنجائش تقریباً 714 ملین بیرل ہے۔
یہ سطح نومبر 1982 کے بعد امریکی اسٹریٹجک پیٹرولیم ریزرو کی کم ترین سطح قرار دی جارہی ہے۔
مارچ میں بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے 32 رکن ممالک نے عالمی سپلائی کو سہارا دینے کے لیے مجموعی طور پر 400 ملین بیرل ہنگامی تیل جاری کرنے پر اتفاق کیا تھا۔
لبنان بھی جنگ کی زد میں
ایران اور اسرائیل کے درمیان تنازع کے اثرات لبنان تک پہنچے، جہاں حزب اللہ کی کارروائیوں کے بعد اسرائیلی فوج نے بڑے پیمانے پر حملے کیے۔
17 اپریل کو اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی ہوئی، جس کی جون میں تجدید بھی کی گئی، تاہم اسرائیلی فوج کی لبنان کے بعض علاقوں میں موجودگی برقرار رہی۔
لبنان کی وزارت صحت کے مطابق گزشتہ چھ ماہ میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 4,350 افراد ہلاک اور 12,510 زخمی ہوئے۔
امریکا میں ٹرمپ کی مقبولیت بھی متاثر
جنگ کے سیاسی اثرات امریکی سیاست میں بھی نمایاں ہوئے ہیں۔
رائٹرز اور اِپسوس کے حالیہ سروے کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کارکردگی کی منظوری کی شرح 33 فیصد رہ گئی جبکہ 65 فیصد امریکیوں نے ان کی کارکردگی سے عدم اطمینان کا اظہار کیا۔
سروے میں 80 فیصد امریکیوں نے رائے دی کہ ایران میں امریکی مداخلت طویل عرصے تک جاری رہ سکتی ہے۔ ڈیموکریٹس اور ری پبلکنز دونوں کے نمایاں حصے نے بھی اسی خدشے کا اظہار کیا۔
جنگ کے اثرات عالمی سطح پر پھیل گئے
چھ ماہ کے دوران ایران جنگ کا دائرہ ایران اور اسرائیل تک محدود نہیں رہا بلکہ لبنان، خلیجی ممالک اور مشرق وسطیٰ کے دیگر حصوں تک پھیل گیا۔
آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی کمی نے عالمی توانائی کی ترسیل اور شپنگ کو متاثر کیا، جبکہ تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ نے مہنگائی اور عالمی معیشت پر دباؤ بڑھایا۔
جنگ کے موجودہ اعداد و شمار یہ ظاہر کرتے ہیں کہ تنازع نے صرف بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہی نہیں کیا بلکہ اس کے مالی، توانائی اور جغرافیائی سیاسی اثرات بھی مسلسل وسیع ہوتے جارہے ہیں۔ مذاکرات کے باوجود اب تک کوئی ایسا مستقل فارمولہ سامنے نہیں آسکا جو چھ ماہ سے جاری اس جنگ کو مکمل طور پر ختم کرسکے۔









