نیپال اور تبت میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 359 تک پہنچ گئیں، سینکڑوں افراد بدستور لاپتا

0
42
نیپال اور تبت میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 359 تک پہنچ گئیں، سینکڑوں افراد بدستور لاپتا

اسلام آباد: نیپال اور چین کے سرحدی علاقے تبت میں اچانک آنے والے تباہ کن سیلاب اور ملبے کے ریلوں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے، جس کے نتیجے میں مجموعی طور پر 359 افراد ہلاک جبکہ ایک ہزار سے زائد افراد کے لاپتا ہونے کی اطلاعات ہیں۔

نیپال میں امدادی اداروں نے متاثرہ علاقوں میں سرچ آپریشن تیز کردیا ہے۔ ہیلی کاپٹروں کے ذریعے دشوار گزار علاقوں میں پھنسے افراد کی تلاش کے ساتھ خوراک، ادویات اور دیگر ضروری سامان بھی پہنچایا جا رہا ہے۔

حکام کے مطابق سیلاب کے بعد متعدد دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا ہے، جبکہ کئی سڑکیں اور پل ملبے اور پانی کے باعث تباہ یا ناقابل استعمال ہوچکے ہیں۔ بعض علاقوں میں دریا کے ساتھ ملبہ جمع ہونے سے نئی جھیلیں بن گئی ہیں، جس کے باعث مزید سیلاب کا خطرہ برقرار ہے۔

نیپالی حکام نے دریائے بھوٹیکوشی کے اطراف رہنے والے افراد اور امدادی کارکنوں کو محتاط رہنے اور ممکنہ خطرے کی صورت میں محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی ہے۔ خدشہ ہے کہ ملبے سے بننے والی جھیل کا بند ٹوٹنے کی صورت میں دریائے کے نچلے علاقوں میں پانی کا شدید ریلا آسکتا ہے۔

ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ لاپتا افراد کی تلاش اس وقت سب سے بڑی ترجیح ہے۔ متاثرین میں غیر ملکی شہریوں کی بھی بڑی تعداد شامل ہے، جن میں بھارتی، امریکی، ملائیشین، آسٹریلوی، برطانوی اور کینیڈین شہری موجود ہیں۔

چین کے تبت خطے میں بھی صورتحال انتہائی سنگین ہے۔ سرکاری میڈیا کے مطابق گیئرونگ کاؤنٹی میں 558 افراد تاحال لاپتا ہیں، جبکہ تین ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی ہے۔ لاپتا افراد میں غیر ملکی شہری بھی شامل ہیں۔

ماہرین کے مطابق شدید پہاڑی علاقوں میں برفانی تودے، گلیشیئر کے ملبے اور چٹانوں کے کھسکنے سے پانی اور کیچڑ کا انتہائی تیز ریلا پیدا ہوا، جس نے چند ہی لمحوں میں آبادیوں، سڑکوں اور سرحدی تنصیبات کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

چینی حکام نے ایک ملبے سے بند ہونے والی جھیل کے باعث بھی خطرے کی نشاندہی کی ہے۔ بارش کی مزید پیش گوئی کے باعث جھیل میں پانی کی سطح بڑھنے کا امکان ہے، جس سے اس کا بند ٹوٹنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں کیلاش مانسروور جانے والے یاتری بھی بڑی تعداد میں موجود تھے۔ اس کے باعث مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے خاندان اپنے پیاروں کی خیریت کے بارے میں شدید تشویش میں مبتلا ہیں۔

نیپالی حکام کے مطابق متاثرہ علاقوں میں تباہی کی مکمل شدت کا اندازہ امدادی کارروائیوں اور رسائی بحال ہونے کے بعد ہی ممکن ہوگا۔ ریسکیو ٹیمیں ملبے اور تیز بہاؤ کے باوجود لاپتا افراد کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں۔

Leave a reply