نیپال چین سرحد پر تباہ کن سیلاب، بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان

0
41
نیپال چین سرحد پر تباہ کن سیلاب، بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان

نیپال اور چین کی سرحدی ہمالیائی علاقے میں مٹی کے تودے اور چٹانیں دریا میں گرنے کے بعد آنے والے اچانک سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے۔ دونوں جانب متعدد بستیاں، سڑکیں، پل اور بجلی کے منصوبے متاثر ہوئے ہیں، جبکہ ہلاکتوں اور لاپتہ افراد کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے۔

نیپالی حکام کے مطابق سیلاب کے بعد اب تک 95 لاشیں برآمد کی جاچکی ہیں، تاہم ان میں سے بیشتر کی شناخت کا عمل جاری ہے۔ کم از کم 85 سکیورٹی اہلکار بھی تاحال لاپتہ ہیں۔ حکام کے مطابق سیکڑوں افراد سے رابطہ نہیں ہو سکا، جن میں بڑی تعداد غیر ملکی سیاحوں کی بھی شامل ہے۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق مٹی اور برف کے بڑے تودے دریائے لینڈے میں جاگرے، جس سے پانی کا بہاؤ متاثر ہوا اور اچانک شدید سیلاب آیا۔ جرمن ماہرین ارضیات کے مطابق واقعے سے کچھ دیر قبل علاقے میں 4.4 شدت کا زلزلہ بھی ریکارڈ کیا گیا تھا۔

سیلابی ریلے نے گھروں، سڑکوں اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا۔ تقریباً 40 کلومیٹر سڑکیں اور 19 پل متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں۔ حکام نے دریائے لینڈے کے بالائی حصے میں جمع ملبے کے باعث مزید سیلابی ریلوں کا خطرہ بھی ظاہر کیا ہے۔

چین کی جانب سرحدی علاقے گیئرونگ میں بھی تباہی ہوئی ہے، جہاں ابتدائی طور پر تین افراد کے ہلاک اور سیکڑوں کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ چینی حکام کے مطابق سرحدی بندرگاہ، سڑکوں، مواصلاتی نظام اور بجلی کے ڈھانچے کو نقصان پہنچا ہے۔ امدادی کارروائیوں کے لیے ہیلی کاپٹر، طیارے اور ڈرونز استعمال کیے جارہے ہیں۔

سیلاب کے ممکنہ اثرات کے پیش نظر بھارت کی ریاستوں اتر پردیش اور بہار میں بھی الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ بہار میں ہزاروں افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جاچکا ہے جبکہ مزید انخلا کی تیاری جاری ہے۔

واقعے کے بعد بھارت، یورپی یونین اور دیگر ممالک نے نیپال سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے امداد کی پیشکش کی ہے۔ یورپی یونین نے متاثرہ علاقوں کی نقشہ سازی اور امدادی سرگرمیوں میں معاونت کے لیے اپنے سیٹلائٹ نگرانی پروگرام کو فعال کردیا ہے، جبکہ ریڈ کراس نے بھی ہنگامی امداد کے لیے فنڈز جاری کرنے کا اعلان کیا ہے۔

نیپال اور چین کی سرحدی پٹی میں گزشتہ برس بھی شدید سیلاب آیا تھا، جس میں جانی نقصان کے ساتھ دونوں ممالک کے درمیان اہم زمینی رابطہ متاثر ہوا تھا۔ ماہرین کے مطابق ہمالیائی خطے میں گلیشیئرز کے پگھلنے اور ان سے بننے والی جھیلوں میں پانی کے دباؤ کے باعث ایسے واقعات کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔

Leave a reply