ترکیہ اور اسرائیل میں براہِ راست تصادم کا خدشہ، خفیہ رابطے قائم

0
19
ترکیہ اور اسرائیل میں براہِ راست تصادم کا خدشہ، خفیہ رابطے قائم

شام میں حالیہ اسرائیلی فضائی کارروائی کے بعد ترکیہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوگیا ہے۔ دونوں ممالک نے ممکنہ براہِ راست فوجی ٹکراؤ سے بچنے کے لیے پسِ پردہ رابطوں کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق شمالی شام میں ادلب کے قریب واقع ابو الظہور فوجی اڈے پر اسرائیلی حملے کے بعد صورتحال مزید حساس ہوگئی۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ تل ابیب ترکیہ کو اپنا دشمن نہیں بنانا چاہتا اور کسی ممکنہ تصادم سے گریز کے لیے دونوں جانب پیغامات کا تبادلہ جاری ہے۔

اسرائیلی سکیورٹی ذرائع کے مطابق شام میں مزید کارروائی کا امکان مکمل طور پر خارج نہیں کیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی پیغامات مؤثر ثابت نہ ہوئے تو اسرائیل اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے مزید اقدامات کرسکتا ہے۔

دوسری جانب شام کے لیے امریکی خصوصی ایلچی ٹام بارک نے اسرائیلی حملے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کو کارروائی سے قبل اس بارے میں آگاہ نہیں کیا گیا تھا۔ ان کے مطابق یہ واقعہ ترکیہ کے ساتھ کشیدگی بڑھانے کا باعث بن سکتا ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ابو الظہور اڈے کو اس لیے نشانہ بنایا گیا کیونکہ دمشق کی جانب سے وہاں ترک فوجیوں کی ممکنہ تعیناتی ایک طے شدہ انتظام کی خلاف ورزی بن سکتی تھی۔

اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے بھی ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان پر شام میں خطرناک پالیسی اختیار کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل اپنی سلامتی کے لیے کسی بھی ممکنہ خطرے کو نظر انداز نہیں کرے گا۔

ابو الظہور ایئر بیس ترکیہ کی سرحد سے تقریباً 80 کلومیٹر دور واقع ہے اور ادلب، حماہ اور حلب کے درمیان اس کا محلِ وقوع اسے عسکری اعتبار سے اہم بناتا ہے۔

موجودہ صورتحال میں دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست جنگ کا امکان فوری طور پر واضح نہیں، تاہم شام میں فوجی سرگرمیوں اور باہمی خدشات کے باعث خطے میں کشیدگی میں مزید اضافے کا خطرہ برقرار ہے۔

Leave a reply