
انسان نے مصنوعی ذہانت کو اپنی ذہانت کا سب سے شاندار شاہکار سمجھ لیا ہے۔ مشینیں سوچ رہی ہیں، تصویریں بنا رہی ہیں، ویڈیوز تخلیق کر رہی ہیں، زبانیں سمجھ رہی ہیں اور چند لمحوں میں وہ کام انجام دے رہی ہیں جن کے لیے کبھی انسان کو گھنٹوں، دنوں بلکہ برسوں کی محنت درکار ہوتی تھی۔
ہم خوش ہیں۔ بہت خوش۔
مگر اس جشن کے پردے کے پیچھے ایک ایسی کہانی بھی لکھی جا رہی ہے جس کے حروف پانی، بجلی، زمین اور آخرکار انسانی بقا سے بنے ہیں۔
ہمیں اکثر بتایا جاتا ہے کہ زمین کا 71 فیصد حصہ پانی ہے۔ یہ عدد سن کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے پانی کبھی ختم ہی نہیں ہو سکتا۔ مگر اس وسیع نیلے سیارے پر انسانی استعمال کے قابل میٹھا پانی انتہائی محدود ہے۔ بہت سا پانی گلیشیئرز، برفانی ذخائر اور زیرزمین تہوں میں قید ہے، جبکہ ہماری روزمرہ زندگی کے لیے دستیاب پانی کا حصہ حیرت انگیز حد تک کم ہے۔
اور اسی محدود سرمائے کے سامنے اکیسویں صدی کی ایک نئی پیاسی مخلوق کھڑی ہے: اے آئی۔
یہ مخلوق گوشت پوست کی نہیں۔ اس کے ہاتھ، پاؤں اور معدہ نہیں۔ مگر اسے چلانے کے لیے ایسے ڈیٹا سینٹرز درکار ہیں جو بجلی بھی پیتے ہیں اور پانی بھی۔
رپورٹس کے مطابق 2030 تک اے آئی ڈیٹا سینٹرز کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے کھربوں لیٹر پانی درکار ہو سکتا ہے۔ یہ مقدار کروڑوں نہیں، اربوں انسانوں کی بنیادی ضروریات کے برابر پہنچ سکتی ہے۔
ذرا منظر کا تصور کیجیے۔
ایک طرف کسی غریب بستی میں عورت پانی کے چند برتن اٹھائے کئی کلومیٹر چل رہی ہے۔ دوسری طرف دنیا کے کسی جدید ڈیٹا سینٹر میں ہزاروں سرور مسلسل گرم ہو رہے ہیں اور انہیں ٹھنڈا رکھنے کے لیے پانی گردش کر رہا ہے۔
ادھر انسان پیاسا ہے۔
ادھر مشین گرم ہے۔
اور دونوں کے درمیان کھڑا ہے ہمارا نعرہ:
ترقی۔
ہمیں جواب مل جاتا ہے، بل نہیں
آپ چیٹ بوٹ سے پوچھتے ہیں: ’’میرے لیے ایک نظم لکھ دو۔‘‘
چند لمحوں بعد نظم حاضر ہے۔
آپ کہتے ہیں: ’’ایک تصویر بنا دو۔‘‘
تصویر بھی تیار۔
آپ کہتے ہیں: ’’ایک منٹ کی ویڈیو بنا دو۔‘‘
ویڈیو بھی سامنے۔
مگر اس جواب کے پیچھے کیا ہوا؟
کہیں سرور چلے۔ کہیں چپس نے بے شمار حساب کیے۔ کہیں بجلی استعمال ہوئی۔ کہیں حرارت پیدا ہوئی۔ کہیں کولنگ سسٹم سرگرم ہوا اور کہیں پانی نے اس حرارت کو اپنے اندر سمیٹ کر بخارات کی شکل اختیار کی۔
ہمیں صرف نتیجہ نظر آتا ہے۔
ماحولیاتی رسید نظر نہیں آتی۔
یہی مصنوعی ذہانت کی سب سے خوبصورت اور شاید سب سے خطرناک خصوصیت ہے: اس کی قیمت ہماری آنکھوں سے اوجھل رہتی ہے۔
ایک تصویر کتنی بجلی پیتی ہے؟
اے آئی کی اصل قیمت سمجھنے کے لیے کبھی کبھی ایک معمولی سا تقابل کافی ہوتا ہے۔
ایک اے آئی تصویر بنانے میں استعمال ہونے والی توانائی تقریباً 10 واٹ کے ایل ای ڈی بلب کو کئی منٹ روشن رکھ سکتی ہے، جبکہ مختصر اے آئی ویڈیو کی توانائی کی ضرورت کہیں زیادہ بڑھ جاتی ہے۔
یعنی جس ویڈیو کو ہم موبائل اسکرین پر چند لمحے دیکھ کر آگے بڑھ جاتے ہیں، اس کے پیچھے توانائی کا ایک ایسا خرچ ہو سکتا ہے جس کا ہمیں اندازہ تک نہیں ہوتا۔
اور ویڈیو کی کہانی صرف بجلی پر ختم نہیں ہوتی۔
پانی بھی اس کہانی کا کردار ہے۔
یہاں اے آئی کے خلاف ہونے کی ضرورت نہیں۔ مسئلہ ٹیکنالوجی نہیں، مسئلہ اس کا بے حساب استعمال ہے۔
اگر مشین ہماری پیداواری صلاحیت بڑھا رہی ہے تو بہت خوب۔
لیکن اگر وہ ہماری فضول خواہشات بھی ہزاروں گنا بڑھا رہی ہے تو پھر ہمیں رک کر سوچنا ہو گا۔
اے آئی ایک نیا ملک بن رہی ہے
فرض کیجیے دنیا کے تمام بڑے اے آئی ڈیٹا سینٹرز کو ایک ملک تصور کر لیا جائے۔
اس ملک کے شہری سرور ہوں۔
اس کی زبان الگورتھم ہو۔
اس کی معیشت ڈیٹا ہو۔
اس کی صنعت کمپیوٹ ہو۔
اور اس کی سب سے بڑی درآمدات ہوں: بجلی، پانی اور معدنیات۔
اس ملک کی کوئی پارلیمنٹ نہیں، مگر اس کے اثرات عالمی پالیسیوں پر پڑ رہے ہیں۔
کوئی جھنڈا نہیں، مگر اس کے لیے پاور پلانٹس بن رہے ہیں۔
کوئی سرحد نہیں، مگر اس کا ماحولیاتی بوجھ دنیا کے مختلف خطوں میں پھیل رہا ہے۔
اور سب سے عجیب بات؟
اس ملک کے شہری یعنی سرور نہ کھانا مانگتے ہیں، نہ چھٹی، نہ تنخواہ۔
وہ صرف ایک چیز مانگتے ہیں:
مزید کمپیوٹ۔
آئرلینڈ کا الارم
آئرلینڈ اس آنے والے بحران کی ایک جھلک دکھا چکا ہے۔
2023 میں وہاں کے ڈیٹا سینٹرز نے ملک کی بجلی کی پیداوار کا تقریباً پانچواں حصہ استعمال کیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ گریٹر ڈبلن میں نئے ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر پر پابندی کو 2028 تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔
یہ واقعہ صرف آئرلینڈ کے لیے اہم نہیں۔
یہ ایک سوال ہے:
اگر کسی ملک کی بجلی کا اتنا بڑا حصہ ڈیٹا سینٹرز کھانے لگے تو عام گھروں، صنعتوں اور مستقبل کی ضروریات کے لیے کیا بچے گا؟
آج ڈبلن ہے۔
کل کوئی اور شہر ہو گا۔
اور اگر ہم نے منصوبہ بندی نہ کی تو پرسوں شاید وہ شہر ہمارا ہو۔
اے آئی کی دنیا بھی برابر نہیں
مصنوعی ذہانت نے دنیا کو صرف ذہین نہیں کیا، اس نے ایک نئی عالمی تقسیم بھی پیدا کر دی ہے۔
چند طاقتور ممالک کے پاس جدید چپس، بڑے ڈیٹا سینٹرز، سرمایہ اور بے مثال کمپیوٹنگ طاقت ہے۔ دوسری طرف دنیا کے بہت سے ممالک اے آئی کے صارف تو ہیں، مگر اس کے بنیادی ڈھانچے کے مالک نہیں۔
یہ وہ مقام ہے جہاں پرانی ڈیجیٹل تقسیم ایک نئی شکل اختیار کرتی دکھائی دیتی ہے۔
پہلے سوال تھا:
کس کے پاس انٹرنیٹ ہے؟
اب سوال بنتا جا رہا ہے:
کس کے پاس اے آئی کی طاقت ہے؟
اور اس کے ساتھ ایک اور تلخ سوال بھی کھڑا ہے:
اے آئی کے فوائد کون لے گا، اور اس کی قیمت کون ادا کرے گا؟
نایاب دھاتیں غریب خطوں سے نکالی جا سکتی ہیں۔
ہارڈویئر کہیں اور تیار ہو سکتا ہے۔
کچرا کسی کمزور ماحولیاتی قوانین والے ملک میں پہنچ سکتا ہے۔
پانی کسی خشک خطے سے لیا جا سکتا ہے۔
بجلی کسی دوسرے خطے سے حاصل کی جا سکتی ہے۔
اور آخر میں پوری سہولت ہمارے موبائل کی اسکرین پر چند سیکنڈ میں نمودار ہو جاتی ہے۔
ہم صرف آخری سرا دیکھتے ہیں۔
پوری زنجیر نہیں۔
سمندر بھی پناہ گاہ نہیں
جب زمین کا پانی دباؤ میں آیا تو انسان نے سمندر کی طرف دیکھنا شروع کیا۔
کچھ کمپنیاں سمندر میں ڈیٹا سینٹرز کے تجربات کر رہی ہیں۔ تصور یہ ہے کہ سمندر کے نسبتاً ٹھنڈے ماحول سے کولنگ کا فائدہ اٹھایا جائے اور زمینی میٹھے پانی کا استعمال کم کیا جائے۔
خیال سننے میں شاندار ہے۔
لیکن سمندر خالی کولنگ ٹینک نہیں۔
وہ ایک زندہ دنیا ہے۔
اس میں مچھلیاں ہیں، مرجان ہیں، نباتات ہیں، خرد حیاتیات ہیں اور ایک پیچیدہ ماحولیاتی نظام ہے۔ اگر ہم زمین کا پانی بچانے کے لیے سمندر میں اضافی حرارت منتقل کرنے لگیں تو ممکن ہے ہم ایک مسئلے کو دوسرے مسئلے میں تبدیل کر دیں۔
ہماری تہذیب اکثر یہی کرتی ہے:
ایک مسئلہ حل کرتی ہے، دوسرا پیدا کر دیتی ہے۔
پھر کچرا کہاں جائے گا؟
ہر طاقت کے ساتھ اس کا فضلہ بھی پیدا ہوتا ہے۔
اے آئی کے لیے طاقتور چپس چاہییں۔ بڑے سرور چاہییں۔ بیٹریاں، کیبلز، کولنگ سسٹمز اور بے شمار الیکٹرانک اجزا چاہییں۔
اور ہر چیز کی ایک عمر ہوتی ہے۔
جب یہ سب اپنی عمر پوری کریں گے تو ان کا کیا ہو گا؟
دنیا پہلے ہی جانتی ہے کہ الیکٹرانک کچرے کا بڑا مسئلہ کیا ہے۔ خطرہ یہ ہے کہ ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانے والے امیر معاشرے اس کے معاشی ثمرات سمیٹیں اور اس کا زہریلا ملبہ کمزور ماحولیاتی قوانین والے خطوں تک پہنچ جائے۔
یہ ترقی کی مساوی تقسیم نہیں۔
یہ وسائل اور فضلے کی غیر مساوی تقسیم ہے۔
کارکردگی کا فریب
اے آئی کے حامی بجا طور پر کہتے ہیں کہ ٹیکنالوجی وقت کے ساتھ زیادہ مؤثر ہو گی۔
چپس بہتر ہوں گے۔
ماڈلز زیادہ طاقتور اور کم وسائل میں کام کرنے والے ہوں گے۔
کولنگ سسٹم بہتر ہوں گے۔
یہ سب اچھی خبریں ہیں۔
مگر ایک مسئلہ پھر بھی باقی ہے:
اگر کارکردگی بڑھنے سے استعمال اس سے بھی زیادہ تیزی سے بڑھ جائے تو مجموعی کھپت کہاں جائے گی؟
ایک گاڑی پہلے کے مقابلے میں کم پٹرول استعمال کرے، مگر گاڑیوں کی تعداد دس گنا بڑھ جائے تو ضروری نہیں کہ دنیا کم پٹرول استعمال کرے۔
اے آئی کے ساتھ بھی یہی خطرہ ہے۔
آج ہم ایک تصویر بناتے ہیں۔
کل ایک شخص سو بنائے گا۔
آج چند لوگ مصنوعی ویڈیو بناتے ہیں۔
کل ہر موبائل صارف شاید روزانہ درجنوں ویڈیوز بنائے گا۔
کارکردگی اپنی جگہ۔
مانگ اپنی جگہ۔
اور کبھی کبھی مانگ کارکردگی کو شکست دے دیتی ہے۔
ہم نے مشین کو سوچنا سکھا دیا، مگر خود کب سوچیں گے؟
یہاں آ کر اصل سوال اے آئی نہیں رہتا۔
اصل سوال انسان بن جاتا ہے۔
ہم نے فطرت کو ہمیشہ ایک خام مال سمجھا۔
پانی چاہیے؟ لے لو۔
زمین چاہیے؟ استعمال کر لو۔
معدنیات چاہیے؟ پہاڑ کھود لو۔
توانائی چاہیے؟ پیدا کر لو۔
اب ہمیں ایک نئی چیز چاہیے:
کمپیوٹ۔
اور ہم وہی پرانی منطق لے کر اس نئی ضرورت کے پیچھے بھی دوڑ پڑے ہیں:
لے لو۔
استعمال کرو۔
پھینک دو۔
پھر مزید حاصل کرو۔
مگر زمین کوئی لامحدود گودام نہیں۔
اس کی ایک حد ہے۔
اس کے دریاؤں کی ایک حد ہے۔
اس کے زیرزمین پانی کی ایک حد ہے۔
اس کے سمندروں کی ایک حد ہے۔
اس کے ماحول کی ایک حد ہے۔
اور شاید ہماری خواہشات کی کوئی حد نہیں۔
یہی اصل خطرہ ہے۔
مصنوعی ذہانت شاید انسان کو وہ مسائل حل کرنے میں مدد دے جنہیں آج ہم ناقابلِ حل سمجھتے ہیں۔ ممکن ہے یہی ٹیکنالوجی پانی بچانے، توانائی بہتر بنانے، بیماریوں کا علاج دریافت کرنے، زراعت کو مؤثر بنانے اور موسمیاتی بحران سے نمٹنے میں انقلاب برپا کر دے۔
مگر اس کے لیے ایک شرط ہے:
اے آئی کو زمین سے بڑا نہ سمجھا جائے۔
اگر مصنوعی ذہانت کو چلانے کے لیے ہم وہی پانی، بجلی، معدنیات اور ماحول ختم کر دیں جن پر ہماری زندگی قائم ہے تو پھر ہماری ذہانت کا حاصل کیا ہو گا؟
ہم مشین کو زیادہ ذہین بناتے جائیں گے۔
اور دنیا کو رہنے کے لیے زیادہ مشکل۔
آخرکار شاید وہ دن آئے جب مصنوعی ذہانت کے پاس ہمارے ہر سوال کا جواب ہو گا۔
وہ ہمیں بتائے گی کہ موسم کیسا ہو گا۔
کہاں بارش ہو گی۔
کون سی فصل اگانی ہے۔
کون سی بیماری کا علاج کیا ہے۔
کون سی جنگ کیسے جیتنی ہے۔
کون سی تصویر کتنی خوبصورت بنانی ہے۔
مگر انسان اس سے ایک سوال پوچھے گا:
’’پانی کہاں ہے؟‘‘
اور مشین، جس نے دنیا کا تقریباً ہر ڈیٹا پڑھ رکھا ہو گا، شاید جواب دے:
’’آپ نے بہت دیر کر دی۔‘‘
ہم نے مشین کو سوچنا سکھا دیا ہے۔
اب وقت ہے کہ ہم خود بھی سوچنا شروع کریں۔









