پاکستان کہاں کھڑا ہے؟

چودہ اگست آتا ہے تو گلیاں جھنڈوں سے سج جاتی ہیں، فضائیں ملی نغموں سے گونجتی ہیں، سبز ہلالی پرچم چھتوں پر لہراتے ہیں اور ہر طرف ایک ہی صدا سنائی دیتی ہے: پاکستان زندہ باد!
مگر ذرا ٹھہریے!
اگر پاکستان زندہ ہے تو پھر اس کے شہری اتنے بے چین کیوں ہیں؟ نوجوان مستقبل سے خوف زدہ کیوں ہیں؟ انصاف کے لیے دروازے کھٹکھٹانے والے مایوس کیوں لوٹتے ہیں؟ اور وہ ملک جس کے قیام پر ہمارے بزرگوں نے اپنا سب کچھ قربان کردیا، وہاں قانون کی بالادستی اب بھی ایک خواب کیوں دکھائی دیتی ہے؟
یہ وہ سوالات ہیں جن سے ایک زندہ قوم بھاگ نہیں سکتی۔
علامہ اقبال کونسل کی یومِ آزادی کی تقریب میں بھی جشن کے ساتھ خود احتسابی کی آواز بلند ہوئی۔ یہی اس تقریب کی اصل معنویت تھی۔ آزادی صرف جشن منانے کا نام نہیں؛ آزادی اپنے گریبان میں جھانکنے کا حوصلہ بھی مانگتی ہے۔
ہمیں یہ حقیقت کبھی نہیں بھولنی چاہیے کہ غلامی انسان سے صرف زمین نہیں چھینتی، اعتماد، شناخت اور آواز بھی چھین لیتی ہے۔ آج جب ہم دنیا کے مختلف حصوں میں مسلمانوں کی حالت جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں تو آزادی کی قدر پہلے سے کہیں زیادہ محسوس ہوتی ہے۔
یہ ملک ہمیں مفت میں نہیں ملا۔
اس کے پیچھے ہجرت کے قافلے ہیں، اجڑے ہوئے گھر ہیں، خون سے رنگی ہوئی پٹڑیاں ہیں، بچھڑنے والوں کی چیخیں ہیں اور ان لاکھوں لوگوں کی قربانیاں ہیں جنہوں نے ایک آزاد وطن کے لیے اپنی زندگیاں قربان کردیں۔
اور پھر اس خواب کو فکری سمت دینے والے علامہ محمد اقبال اور سیاسی منزل تک پہنچانے والے قائداعظم محمد علی جناح تھے۔
اقبال نے خواب دیکھا، جناح نے اسے سیاسی حقیقت بنایا۔
مگر سوال یہ ہے کہ ہم نے اس پاکستان کے ساتھ کیا کیا؟
ہم نے ایٹمی قوت بننے کا اعزاز حاصل کیا، دفاعی میدان میں غیر معمولی صلاحیت پیدا کی، کروڑوں انسانوں کو ایک آزاد ریاست میں اپنی مذہبی اور ثقافتی شناخت کے ساتھ زندگی گزارنے کا موقع ملا۔ عام آدمی کی زندگی میں بھی کئی حوالوں سے تبدیلی آئی ہے۔ دیہات میں پکے مکانات، موٹر سائیکلیں، موبائل فون، تعلیم اور جدید سہولیات اس تبدیلی کے مظاہر ہیں۔
تو پھر یہ کہنا کہ “ہمیں 78 برس میں کچھ نہیں ملا” بھی حقیقت سے آنکھیں چرانا ہے۔
ہمیں بہت کچھ ملا ہے۔
لیکن…
یہی وہ مقام ہے جہاں جشن ختم اور خود احتسابی شروع ہوتی ہے۔
کیونکہ ایک ملک صرف میزائلوں، موٹرویز، بلند عمارتوں اور معاشی اعدادوشمار سے عظیم نہیں بنتا۔ عظیم ریاست وہ ہوتی ہے جہاں عام شہری کو یقین ہو کہ قانون طاقتور اور کمزور دونوں کے لیے ایک ہے۔
یہ یقین ہمارے ہاں کمزور پڑ چکا ہے۔
ہم نے حکومتیں بدلیں، چہرے بدلے، نعرے بدلے، مگر قانون کی حکمرانی کا خواب آج بھی تشنہ ہے۔ ہماری سیاسی تاریخ میں بڑے بڑے نام آئے، مگر اقتدار میں آنے کے بعد اکثر سیاست قانون کی بالادستی کے بجائے سیاسی مصلحتوں کے تابع ہوتی رہی۔
یہ صرف سیاست دانوں کا مسئلہ نہیں۔
ریاست کے ادارے بھی اسی بحران کا حصہ ہیں۔
پارلیمنٹ کا وقار، عدلیہ کا اعتماد، انتظامیہ کی غیر جانب داری، پولیس کی پیشہ ورانہ حیثیت اور میڈیا کی آزادی—یہ سب ایک مضبوط ریاست کے ستون ہیں۔ اگر ان میں سے ہر ستون سیاسی وابستگی، ذاتی مفاد یا مصلحت کا شکار ہوجائے تو عمارت خواہ کتنی ہی خوبصورت کیوں نہ ہو، اندر سے کمزور ہوجاتی ہے۔
اور پھر معاشرہ چیخ اٹھتا ہے۔
مہنگائی صرف جیب نہیں کاٹتی، مایوسی بھی پیدا کرتی ہے۔
ناانصافی صرف حق نہیں چھینتی، ریاست پر اعتماد بھی ختم کرتی ہے۔
میرٹ کی پامالی صرف ایک نوجوان کا مستقبل نہیں برباد کرتی، پوری نسل کو مایوس کرتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ہمارے نوجوان سوال کر رہے ہیں: اگر محنت کا صلہ میرٹ نہیں بلکہ تعلق ہے تو ہم کیوں رکیں؟
اور پھر ایک ایک کرکے باصلاحیت لوگ ملک چھوڑنے لگتے ہیں۔
یہ کسی بھی قوم کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔
ہمیں اپنی قومی زبان کے ساتھ بھی اپنے رویے پر غور کرنا ہوگا۔ انگریزی سیکھنا ترقی کی علامت ہے، مگر اردو سے شرمندہ ہونا احساسِ کمتری کی علامت ہے۔ جس قوم کو اپنی زبان، تاریخ اور تہذیب پر اعتماد نہ ہو، وہ دوسروں سے مقابلہ کیسے کرے گی؟
مگر اس سارے منظرنامے کے باوجود پاکستان سے مایوس ہوجانا بھی مسئلے کا حل نہیں۔
پاکستان مسئلہ نہیں، پاکستان ہمارا موقع ہے۔
یہ وہ سرزمین ہے جسے بہتر بنانے کی ذمہ داری کسی ایک وزیراعظم، ایک جنرل، ایک جج، ایک صحافی یا ایک ادارے پر نہیں۔
یہ ذمہ داری ہم سب کی ہے۔
استحکام صرف طاقت سے نہیں آتا، رواداری سے آتا ہے۔
امن صرف بندوق سے نہیں آتا، انصاف سے آتا ہے۔
ترقی صرف بجٹ سے نہیں آتی، میرٹ سے آتی ہے۔
اور ریاست صرف آئین کی کتاب سے مضبوط نہیں ہوتی، آئین پر عمل کرنے سے مضبوط ہوتی ہے۔
ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم ہر چودہ اگست کو صرف جھنڈے لہرائیں گے یا اپنے کردار کا پرچم بھی بلند کریں گے؟
ہم حکومت سے سوال کریں گے تو اپنے آپ سے بھی سوال کریں گے۔
ہم سیاست دانوں کا احتساب مانگیں گے تو اپنے رویوں کا احتساب بھی کریں گے۔
ہم کرپشن کے خلاف تقریر کریں گے تو دفتر میں رشوت لینے سے بھی انکار کریں گے۔
ہم میرٹ کا مطالبہ کریں گے تو اپنے بچوں اور عزیزوں کے لیے سفارش کی لائن بھی نہیں لگائیں گے۔
کیونکہ قومیں نعروں سے نہیں، کردار سے بنتی ہیں۔
آج پاکستان کو ایک اور قرارداد، ایک اور نعرے یا ایک اور تقریر سے زیادہ ضرورت ہے ایک اجتماعی عہد کی۔
ایسا عہد جس میں طاقتور قانون کے سامنے جھکے، کمزور کو انصاف ملے، نوجوان کو امید ملے، اداروں کو وقار ملے اور اختلاف کو دشمنی نہ سمجھا جائے۔
اندھیرے بہت ہیں۔
لیکن تاریخ گواہ ہے کہ اندھیرے ہمیشہ روشنی سے شکست کھاتے ہیں۔
اس لیے اگر ہم واقعی پاکستان سے محبت کرتے ہیں تو صرف یہ نہ کہیں:
پاکستان زندہ باد!
بلکہ اپنے عمل سے ثابت کریں کہ:
قانون زندہ باد۔
میرٹ زندہ باد۔
انصاف زندہ باد۔
برداشت زندہ باد۔
اور سب سے بڑھ کر—پاکستان کا خواب زندہ باد!
کیونکہ دنیا بھر کے اندھیرے مل کر بھی ایک سچی شمع کو بجھا نہیں سکتے۔
اب سوال صرف یہ نہیں کہ پاکستان کہاں کھڑا ہے؟
اصل سوال یہ ہے:
پاکستان کو جہاں کھڑا ہونا چاہیے، وہاں پہنچانے کے لیے ہم میں سے ہر شخص کیا کرنے کو تیار ہے؟









