بنگلادیش کا معاہدۂ مکہ کے ممکنہ دفاعی فریم ورک میں شمولیت پر مثبت اشارہ

0
9
بنگلادیش کا معاہدۂ مکہ کے ممکنہ دفاعی فریم ورک میں شمولیت پر مثبت اشارہ

بنگلادیش نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان قائم ممکنہ اقتصادی یا دفاعی تعاون کے فریم ورک میں شامل ہونے کے امکان کو مثبت قرار دیا ہے۔

بنگلادیشی وزیراعظم کے مشیر ہمایوں کبیر کے مطابق حکومت اس معاملے کا جائزہ اپنے قومی مفادات، عالمی معاشی حالات اور تجارتی ترجیحات کو مدنظر رکھتے ہوئے لے رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ علاقائی اور عالمی صورتحال کا مزید جائزہ لینے کے بعد ہی کسی حتمی فیصلے تک پہنچا جائے گا۔

ہمایوں کبیر نے پاکستان اور بنگلادیش کے دوطرفہ تعلقات پر بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان عملی تعاون میں اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ عوامی سطح پر روابط کو مزید بہتر بنانے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ بنگلادیشی وزیراعظم طارق رحمان آئندہ دنوں میں سعودی عرب کا دورہ کریں گے، جہاں دوطرفہ تعلقات کے علاوہ علاقائی اور دیگر باہمی دلچسپی کے امور پر بھی بات چیت متوقع ہے۔

بنگلادیش کے اس ممکنہ فیصلے پر بھارت کی جانب سے بھی ردعمل سامنے آیا ہے۔ بھارتی حکام کے مطابق وہ خطے میں ہونے والی پیش رفت پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے 7 اگست کو مکہ مکرمہ میں مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ معاہدے میں اجتماعی دفاع کا اصول شامل ہے، جس کے تحت کسی ایک رکن ملک کے خلاف جارحیت کو تمام فریقوں کے خلاف حملہ تصور کرنے کی بات کی گئی ہے۔

تاہم بنگلادیش کی جانب سے فی الحال اس فریم ورک میں شمولیت کی صرف امکان کے طور پر بات کی گئی ہے اور کوئی باضابطہ فیصلہ سامنے نہیں آیا۔

Leave a reply