وکالت کے مقدس پیشے پر کس کا سایہ؟

وکالت کے مقدس پیشے پر کس کا سایہ؟

تحریر:محمد رشید

عدالتیں محض عمارتیں نہیں ہوتیں بلکہ انصاف، قانون کی حکمرانی اور شہریوں کی امید کی علامت ہوتی ہیں۔ روزانہ بڑی تعداد میں شہری اپنے مسائل کے حل کے لیے عدالتوں کا رخ کرتے ہیں۔ کسی کو بچوں سے ملاقات کا مسئلہ درپیش ہوتا ہے، کوئی نان و نفقہ یا وراثت کا حق مانگتا ہے، کوئی جائیداد کے تنازع میں انصاف چاہتا ہے اور کوئی کسی زیرِ حراست شخص کی قانونی داد رسی کے لیے عدالت پہنچتا ہے۔ ایسے میں اگر عدالتیں ہڑتال یا احتجاج کے باعث بند ہوں تو اس کا براہِ راست اثر عام سائلین اور خود وکلا پر پڑتا ہے۔
گزشتہ برسوں میں عدالتی ماحول میں مختلف مسائل نمایاں ہوئے ہیں۔ وکلا تنظیموں کے انتخابات میں گروہی سیاست، مالی اثرورسوخ اور ذاتی مفادات کے الزامات کے ساتھ ساتھ جعلی قانونی دستاویزات، غیر قانونی طریقوں سے مقدمات نمٹانے اور سائلین کو ہراساں کرنے جیسے واقعات بھی تشویش کا باعث بنے ہیں۔ ان مسائل سے نہ صرف عدالتی نظام بلکہ پورے وکالتی شعبے کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔
ہڑتالوں کا بڑھتا ہوا رجحان بھی ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے۔ بعض اوقات ایسے معاملات پر بھی عدالتوں کے بائیکاٹ کا اعلان کیا جاتا ہے جن کا براہِ راست عدلیہ یا وکالت کے پیشے سے تعلق نہیں ہوتا۔ پولیس سے تنازع، کسی افسر کے تبادلے، مقدمہ درج نہ ہونے یا کسی انتظامی معاملے پر احتجاج کے نتیجے میں عدالتی کارروائیاں رک جاتی ہیں، جس سے مقدمات مزید تاخیر کا شکار ہوتے ہیں۔
عدالتی مقدمات کی ڈائری میں صرف اس بنیاد پر کیس ملتوی ہونا کہ بار نے ہڑتال کر رکھی ہے، انصاف کی فراہمی کے بنیادی تصور پر سنجیدہ سوال اٹھاتا ہے۔ وکلا چونکہ قانون اور آئین کی بالادستی کے محافظ سمجھے جاتے ہیں، اس لیے ان سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اختلافات کے حل کے لیے قانونی اور پُرامن راستے اختیار کریں گے۔
کراچی بار سمیت ملک کی مختلف بار ایسوسی ایشنز نے ماضی میں آئین، قانون اور عدلیہ کی آزادی کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے۔ وکلا برادری نے جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کی جدوجہد میں قربانیاں بھی دی ہیں۔ اسی تاریخی کردار کو سامنے رکھتے ہوئے آج بھی سینئر وکلا اور بار قیادت پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ پیشہ ورانہ نظم و ضبط کو مضبوط کریں اور ایسے طرزِ عمل کی حوصلہ شکنی کریں جو وکالت کے وقار کو نقصان پہنچاتا ہے۔
عدالتوں، پولیس اور وکلا کے درمیان تصادم کی صورت حال مزید تشویش ناک ہے۔ عدالتیں کسی بھی فریق کی طاقت کے مظاہرے کا میدان نہیں بن سکتیں۔ اگر اختلافات مسلسل کشیدگی، لڑائی جھگڑے اور تصادم کی طرف بڑھتے رہے تو اس کے نتائج نہ صرف عدالتی نظام بلکہ معاشرے کے امن کے لیے بھی خطرناک ہو سکتے ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ بار اور بینچ باہمی احترام، قانون کی پاسداری اور ادارہ جاتی نظم و ضبط کو ترجیح دیں۔ احتجاج اور اختلافِ رائے ہر معاشرے میں ایک جائز حق ہو سکتا ہے، لیکن ایسا طرزِ عمل جو سائلین کو انصاف سے محروم کر دے، اس پر سنجیدگی سے نظرثانی ضروری ہے۔
وکالت ایک باوقار اور ذمہ دار پیشہ ہے۔ وکیل سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ دلیل، برداشت، آئین اور قانون کی حکمرانی کا نمائندہ بنے۔ اگر وکلا برادری اپنے اندر موجود مسائل کا احتساب اور اصلاح خود کرنے میں کامیاب ہو جائے تو نہ صرف عدالتوں کا وقار بحال ہوگا بلکہ عام شہری کا نظامِ انصاف پر اعتماد بھی مضبوط ہوگا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ بار، بینچ اور سینئر وکلا مل کر ایسا ماحول تشکیل دیں جہاں اختلاف ہو مگر تصادم نہ ہو، احتجاج ہو مگر انصاف کا راستہ بند نہ ہو، اور سب سے بڑھ کر قانون کی بالادستی ہر فرد اور ادارے کے لیے مقدم رہے۔

Leave a reply