مشرقِ وسطیٰ کی شطرنج: مہرے بدل رہے ہیں، بازی کس کے ہاتھ میں ہے؟

مشرقِ وسطیٰ میں جنگ اب صرف بموں، میزائلوں اور تباہ شدہ عمارتوں کی کہانی نہیں رہی۔ یہ ایک ایسا بھڑکتا ہوا شعلہ بن چکی ہے جس کی تپش غزہ سے لبنان، لبنان سے ایران اور ایران سے نکل کر آبنائے ہرمز تک محسوس کی جا رہی ہے۔ اور ہرمز صرف پانی کی ایک گزرگاہ نہیں؛ یہ عالمی معیشت کی وہ شہ رگ ہے جس پر ذرا سا دباؤ پوری دنیا کی نبض تیز کر سکتا ہے۔
آج سوال یہ نہیں کہ اگلی میزائل کہاں گرے گی۔ اصل سوال یہ ہے کہ اگلا بحران کہاں پھٹے گا؟
غزہ کے ملبے میں دبے انسان، لبنان کی سرحد پر خوفزدہ آبادی، ایران پر بڑھتا ہوا دباؤ اور خلیج میں موجود تجارتی جہاز ایک ہی خطرے کی مختلف تصویریں بن چکے ہیں۔ ایک طرف جنگ بندی کی باتیں ہیں، دوسری طرف فضائی حملے؛ ایک طرف امن کے منصوبے ہیں، دوسری طرف ان کی مخالفت؛ اور درمیان میں کروڑوں عام انسان ہیں جو طاقتور ریاستوں کی حکمت عملی کی قیمت ادا کر رہے ہیں۔
پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ، متحدہ عرب امارات، مصر، انڈونیشیا، اردن اور قطر کا مشترکہ مؤقف اسی لیے اہم ہے کہ اس نے مسئلے کو محض جنگ بندی تک محدود نہیں کیا۔ فلسطینی ریاست، 1967 کی سرحدیں اور مشرقی یروشلم کو دارالحکومت بنانے کا مطالبہ دراصل یہ سوال اٹھاتا ہے کہ کیا بندوقیں خاموش کرا دینا ہی امن ہے، یا انصاف کے بغیر امن صرف اگلی جنگ کا وقفہ ہوتا ہے؟
یہی وہ سوال ہے جس سے عالمی سفارت کاری برسوں سے نظریں چراتی رہی ہے۔
غزہ میں عمارتیں دوبارہ بنائی جا سکتی ہیں۔ سڑکیں دوبارہ تعمیر ہو سکتی ہیں۔ بجلی اور پانی کا نظام بحال کیا جا سکتا ہے۔ لیکن اگر فلسطینیوں کے سیاسی مستقبل کا سوال جوں کا توں رہا تو تعمیر نو کے نیچے اگلے تصادم کے بیج بھی دفن ہوں گے۔
اور پھر سوال امریکا کا ہے۔
واشنگٹن کے پاس اسرائیل پر اثر ڈالنے کے لیے سیاسی، عسکری اور اقتصادی طاقت موجود ہے۔ اگر امریکا امن چاہتا ہے تو اسے صرف امن منصوبوں کی حمایت نہیں کرنا ہوگی، بلکہ ان پالیسیوں کے خلاف بھی عملی قدم اٹھانا ہوگا جو امن کو ناکام بناتی ہیں۔ سفارت کاری اس وقت بے معنی ہو جاتی ہے جب طاقتور فریق کو معلوم ہو کہ مذاکرات کی میز پر کیے گئے وعدوں کی خلاف ورزی کی کوئی قیمت نہیں۔
امن صرف کمزوروں سے قربانی مانگنے کا نام نہیں؛ طاقتوروں کو بھی اپنی طاقت کی حدود تسلیم کرنا پڑتی ہیں۔
غزہ کے بعد جنوبی لبنان کی صورت حال اس پورے بحران کو مزید خطرناک بنا رہی ہے۔ جنگ بندی کے باوجود اگر حملے جاری رہیں، اگر سرحدی علاقوں میں شہری محفوظ نہ ہوں اور اگر لبنان مسلسل فوجی دباؤ میں رہے تو جنگ ختم نہیں ہوتی، صرف اپنا لباس بدلتی ہے۔
لبنان پہلے ہی سیاسی کمزوری اور اقتصادی مشکلات کا شکار ہے۔ اسے مزید عدم استحکام کی طرف دھکیلنا صرف لبنان کو کمزور نہیں کرے گا بلکہ پورے خطے میں ایک نئے تصادم کے امکانات بڑھائے گا۔
مگر اصل دھماکا شاید میدانِ جنگ سے زیادہ عالمی معیشت میں سنائی دے۔
آبنائے ہرمز پر نظر ڈالیں۔
یہ وہ مقام ہے جہاں مشرقِ وسطیٰ کا جغرافیہ عالمی معیشت کے مستقبل سے جا ملتا ہے۔ خلیج سے نکلنے والی توانائی کی ترسیل میں یہ راستہ غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ یہاں کشیدگی بڑھی تو مسئلہ صرف ایران، امریکا یا خلیجی ریاستوں تک محدود نہیں رہے گا۔ اس کے اثرات ایشیا کے کارخانوں، یورپ کی منڈیوں، افریقہ کی معیشتوں اور پاکستان جیسے درآمدی توانائی پر انحصار کرنے والے ممالک کے گھروں تک پہنچ سکتے ہیں۔
تیل کی قیمت میں اضافہ صرف پٹرول پمپ پر نظر نہیں آتا۔
یہ ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں آتا ہے۔
بجلی کی لاگت میں آتا ہے۔
زراعت کے اخراجات میں آتا ہے۔
کارخانوں کی پیداواری لاگت میں آتا ہے۔
اور آخرکار عام آدمی کے دسترخوان تک پہنچ جاتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ پاکستان سے ہزاروں کلومیٹر دور ہونے کے باوجود پاکستان کے گھر کے اندر موجود خطرہ ہے۔
پاکستان کے لیے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ وہ اس بحران میں جذبات کے ساتھ چلے گا یا حکمت کے ساتھ؟
اسلام آباد کو فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کی اصولی حمایت جاری رکھنی چاہیے، لیکن کسی ایسے جنگی بلاک کا حصہ بننے سے گریز کرنا چاہیے جو پاکستان کو ایک وسیع تر علاقائی تصادم میں کھینچ لے۔ سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ بڑھتے ہوئے دفاعی تعلقات اہم ہیں، مگر ان تعلقات کو اقتصادی، سفارتی اور توانائی کے تعاون سے جوڑنا زیادہ دانش مندانہ ہوگا۔
پاکستان کو یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ آج کی دنیا میں قومی سلامتی صرف سرحدوں پر فوج کھڑی کرنے سے محفوظ نہیں ہوتی۔ توانائی، معیشت، خوراک، تجارت اور سفارت کاری بھی قومی سلامتی ہیں۔
ادھر خلیجی ممالک کے رویے میں بھی ایک خاموش تبدیلی دکھائی دے رہی ہے۔
سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت اور بحرین اب بھی امریکا کو اہم دفاعی شراکت دار سمجھتے ہیں، مگر بڑھتی ہوئی امریکا-ایران کشیدگی نے ایک بنیادی سوال ضرور پیدا کیا ہے: کیا کسی ایک بیرونی طاقت پر انحصار مستقبل کی سلامتی کے لیے کافی ہے؟
شاید اسی لیے خطے کی ریاستیں اب ایک ہی طاقت کے سائے میں کھڑے رہنے کے بجائے متعدد طاقتوں اور علاقائی شراکت داروں کے ساتھ تعلقات بڑھانے کی طرف بڑھ رہی ہیں۔
یہ لازماً امریکا مخالف صف بندی نہیں۔
یہ شاید اس سے زیادہ اہم چیز ہے۔
یہ اسٹرٹیجک خود اعتمادی کی تلاش ہے۔
سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان دفاعی تعاون اسی وسیع تر تبدیلی کا ایک حصہ سمجھا جا سکتا ہے۔ اگر اسے اقتصادی اور سفارتی تعاون سے جوڑ دیا جائے تو مسلم دنیا کے اہم ممالک اپنے لیے ایک ایسا علاقائی نظام تشکیل دے سکتے ہیں جس میں سلامتی صرف بیرونی طاقتوں کی ضمانت پر منحصر نہ ہو۔
لیکن اس کے لیے صرف مشترکہ بیانات کافی نہیں۔
غزہ کی تعمیر نو کے لیے مشترکہ فنڈ چاہیے۔
انسانی امداد کے لیے مؤثر نظام چاہیے۔
جنگ بندی کی نگرانی کے لیے قابلِ اعتماد میکنزم چاہیے۔
فلسطینی سیاسی مستقبل کے لیے مشترکہ سفارت کاری چاہیے۔
اور سب سے بڑھ کر خطے کے لیے ایسا سلامتی کا ڈھانچہ چاہیے جس میں جنگ کے بجائے مذاکرات ریاستوں کے لیے زیادہ فائدہ مند راستہ بن جائیں۔
یہی وہ مقام ہے جہاں مسلم دنیا کا اصل امتحان شروع ہوتا ہے۔
کیا وہ ہر نئے حملے کے بعد مذمتی بیان جاری کرتی رہے گی؟
یا پہلی بار ایک ایسا ادارہ جاتی اور سفارتی کردار ادا کرے گی جو بحران کے خاتمے میں عملی اثر ڈال سکے؟
تاریخ کے بڑے موڑ ہمیشہ توپوں کی آواز سے نہیں آتے۔ کبھی کبھی وہ سفارت کاری کے ایک فیصلے، ایک معاہدے یا ایک ایسے لمحے سے آتے ہیں جب طاقتور فریق یہ تسلیم کر لیتا ہے کہ مزید جنگ کی قیمت فتح سے زیادہ ہے۔
مشرقِ وسطیٰ آج اسی موڑ پر کھڑا ہے۔
غزہ، لبنان، ایران اور ہرمز کو الگ الگ بحران سمجھنے کی غلطی اب دنیا کو بہت مہنگی پڑ سکتی ہے۔ یہ سب ایک ہی زنجیر کی کڑیاں ہیں۔ ایک کڑی ٹوٹی تو دوسری پر دباؤ بڑھے گا، اور اگر پوری زنجیر ٹوٹ گئی تو اس کے جھٹکے صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے۔
آج غزہ میں دھواں اٹھ رہا ہے۔ کل یہی دھواں عالمی معیشت کے آسمان پر چھا سکتا ہے۔
تیل مہنگا ہوگا تو مہنگائی بڑھے گی۔ تجارت متاثر ہوگی تو صنعت دباؤ میں آئے گی۔ توانائی کا بحران گہرا ہوگا تو سیاسی بے چینی بڑھے گی۔ اور اگر سفارت کاری ناکام رہی تو ایک علاقائی جنگ عالمی طاقتوں کی کشمکش میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
پھر سوال یہ نہیں ہوگا کہ جنگ کس نے شروع کی۔
سوال یہ ہوگا کہ اسے روکنے میں سب ناکام کیوں ہوئے؟
مشرقِ وسطیٰ کو آج فاتح نہیں، امن کا معمار چاہیے۔
فلسطینیوں کو صرف ملبے سے نکلنے کا راستہ نہیں، سیاسی مستقبل چاہیے۔
لبنان کو صرف جنگ بندی نہیں، ریاستی استحکام چاہیے۔
ایران کو صرف دباؤ نہیں، سفارتی راستہ چاہیے۔
خلیج کو صرف فوجی اڈے نہیں، قابلِ اعتماد علاقائی سلامتی چاہیے۔
اور دنیا کو صرف سستا تیل نہیں، محفوظ تجارت اور مستحکم عالمی معیشت چاہیے۔
طاقت کے پاس جنگ جیتنے کے وسائل ہو سکتے ہیں، مگر امن پیدا کرنے کے لیے بصیرت چاہیے۔
اگر آج یہ بصیرت پیدا نہ ہوئی تو تاریخ شاید یہ لکھے گی کہ دنیا نے جنگ کو روکنے کا موقع اس وقت گنوا دیا تھا جب خطرہ ابھی غزہ، لبنان اور ہرمز کے نقشے تک محدود تھا۔
آگ کبھی سرحدوں کا احترام نہیں کرتی۔
اور اگر سفارت کاری نے اسے نہ روکا تو کل یہ آگ صرف مشرقِ وسطیٰ کے دروازے پر نہیں ہوگی—یہ عالمی معیشت، عالمی سیاست اور ہماری اپنی دہلیز پر دستک دے رہی ہوگی۔









