دوسری جنگِ عظیم کے بعد ایک اور بڑا انقلاب؟

دوسری جنگِ عظیم کے بعد ایک اور بڑا انقلاب؟

تحریر:عبداللہ

وزیراعظم شہباز شریف نے یومِ آزادی کے موقع پر یادگارِ فتح کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مکہ مکرمہ میں ہونے والے دفاعی معاہدے کو مسلم دنیا کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا۔ ان کے مطابق پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان تعاون کا یہ نیا باب خطے میں امن، استحکام، اتحاد اور ترقی کی بنیاد مضبوط کرنے کی سمت ایک اہم قدم ہے۔
حکومتی حلقوں کے مطابق معاہدے کی اہمیت صرف دفاعی تعاون تک محدود نہیں بلکہ اس کے وسیع تر علاقائی اور تزویراتی اثرات بھی سامنے آ سکتے ہیں۔ اس پیش رفت کو ایسے وقت میں اہم قرار دیا جا رہا ہے جب مشرق وسطیٰ میں طاقت کا توازن، علاقائی سلامتی اور بیرونی قوتوں کے کردار پر نئی بحث جاری ہے۔
معاہدے کے حوالے سے یہ مؤقف بھی سامنے آیا ہے کہ خطے کے ممالک اب اپنی سلامتی اور مستقبل سے متعلق فیصلوں میں زیادہ خودمختاری چاہتے ہیں۔ پاکستان اور ترکیہ کو سعودی عرب کے قابلِ اعتماد شراکت داروں کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، جبکہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان حالیہ سفارتی قربت کو بھی مشرق وسطیٰ کی بدلتی سیاست کا اہم عنصر سمجھا جا رہا ہے۔
اس تناظر میں مکہ معاہدہ مسلم ممالک کے درمیان دفاعی اور سیاسی تعاون کو فروغ دینے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اس کے حامیوں کا کہنا ہے کہ باہمی تعاون بڑھنے سے خطے میں کشیدگی کم کرنے، مشترکہ سلامتی کے اقدامات مضبوط بنانے اور اقتصادی ترقی کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
تاہم اس معاہدے کے حقیقی اثرات کا اندازہ اس کے عملی نفاذ اور آنے والے برسوں میں پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور دیگر علاقائی ممالک کے باہمی تعلقات کی سمت سے ہی ہو سکے گا۔
تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو مکہ دفاعی معاہدہ مسلم دنیا میں تعاون، علاقائی خودمختاری اور مشترکہ سلامتی کے نئے تصور کی جانب ایک اہم پیش رفت کے طور پر زیرِ بحث رہے گا۔ اس کے بنیادی مقاصد کو مختصراً امن، استحکام، اتحاد اور ترقی کے عنوان سے بیان کیا جا سکتا ہے۔

Leave a reply