کیوبا میں ایندھن بحران شدت اختیار کر گیا، ملک بھر میں بدترین بلیک آؤٹ

کیوبا کے وزیر توانائی ویسینٹ ڈی لا او نے ہنگامی بیان میں انکشاف کیا ہے کہ ملک میں ڈیزل اور فیول آئل کے ذخائر مکمل طور پر ختم ہو چکے ہیں، جس کے باعث دارالحکومت ہوانا سمیت پورے ملک میں شدید بجلی بحران پیدا ہو گیا ہے۔
سرکاری میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر توانائی نے کہا کہ ملک کے پاس نہ صرف ایندھن ختم ہو چکا ہے بلکہ کسی قسم کے محفوظ ذخائر بھی موجود نہیں، جس سے قومی پاور گرڈ انتہائی نازک صورتحال سے دوچار ہے۔
حکام کے مطابق حالیہ ہفتوں میں بجلی کی بندش میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے اور کئی علاقوں میں روزانہ بیس سے بائیس گھنٹے تک لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے۔
وزیر توانائی نے بتایا کہ ملک پہلے ہی خوراک، ادویات اور ایندھن کی قلت کا سامنا کر رہا ہے، جبکہ حالیہ بلیک آؤٹ نے شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت کیوبا کا پاور گرڈ مقامی خام تیل، قدرتی گیس اور شمسی توانائی کے ذریعے چلایا جا رہا ہے۔ حکومت نے گزشتہ دو برسوں کے دوران تیرہ سو میگاواٹ شمسی توانائی کے منصوبے نصب کیے، تاہم ایندھن کی کمی کے باعث بجلی کے نظام میں عدم استحکام برقرار ہے۔
کیوبا نے عالمی منڈی سے ایندھن درآمد کرنے کے لیے مختلف ممالک سے مذاکرات جاری رکھنے کی تصدیق کی ہے، تاہم عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں اور نقل و حمل کے اخراجات میں اضافے نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق رواں برس امریکی پابندیوں کے سخت ہونے کے بعد میکسیکو اور وینزویلا جیسے ممالک نے بھی کیوبا کو تیل کی فراہمی محدود کر دی ہے، جبکہ دسمبر کے بعد صرف روس کے ایک بحری جہاز نے محدود امداد فراہم کی۔
اقوام متحدہ نے بھی اس صورتحال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ پابندیوں کے باعث کیوبا میں خوراک، صحت اور تعلیم سمیت بنیادی شعبے متاثر ہو رہے ہیں۔









