
لاہور: بعض صارفین کو شکایت رہتی ہے کہ بجلی کا استعمال کم ہونے کے باوجود ماہانہ بل توقع سے زیادہ موصول ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس کی وجہ جاننے کے لیے صرف استعمال ہونے والے یونٹس پر نظر ڈالنا کافی نہیں، بلکہ بل میں شامل دیگر تفصیلات بھی دیکھنا ضروری ہیں۔
بجلی کے بل میں یونٹس کے علاوہ مختلف نوعیت کے فکسڈ چارجز، ٹیکسز اور دیگر قابلِ اطلاق رقوم شامل ہوسکتی ہیں، جس کے باعث کم یونٹس استعمال کرنے کے باوجود مجموعی بل زیادہ بن سکتا ہے۔
گھر کا بجلی کا لوڈ بھی اہم ہے
وقت کے ساتھ گھروں میں بجلی سے چلنے والے آلات کی تعداد بڑھتی جاتی ہے۔ پنکھوں اور لائٹس کے ساتھ اگر اے سی، واٹر پمپ، گیزر، مائیکروویو، واشنگ مشین یا دیگر بھاری برقی آلات استعمال ہونے لگیں تو بجلی کی مجموعی کھپت میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
صارفین کو چاہیے کہ وہ اپنے کنکشن کے منظور شدہ لوڈ اور موجودہ استعمال کا جائزہ لیں۔ ضرورت پڑنے پر متعلقہ بجلی کمپنی سے کنکشن اور لوڈ کی تفصیلات بھی معلوم کی جاسکتی ہیں۔
صرف یونٹس دیکھنا کافی نہیں
اگر موجودہ ماہ کے یونٹس گزشتہ ماہ کے مقابلے میں تقریباً یکساں ہوں لیکن بل کی رقم میں نمایاں اضافہ ہو تو دیگر چارجز کا جائزہ لینا ضروری ہے۔
صارف کو بل میں درج فکسڈ چارجز، ٹیکسز، ایڈجسٹمنٹس، سابقہ بقایا جات اور بلنگ کی مدت کو بھی چیک کرنا چاہیے۔ اس کے علاوہ میٹر پر موجود ریڈنگ اور بل پر درج ریڈنگ کا موازنہ کرنا بھی اہم ہے۔
بھاری آلات بیک وقت چلانے کا اثر
اے سی، گیزر، استری، واٹر پمپ اور دیگر زیادہ بجلی استعمال کرنے والے آلات ایک ہی وقت میں چلانے سے بجلی کی طلب بڑھ سکتی ہے۔ اگر ایسے آلات طویل دورانیے تک استعمال ہوں تو مجموعی کھپت میں بھی اضافہ ہوسکتا ہے۔
بل زیادہ آئے تو کیا کریں؟
اگر کسی ماہ بجلی کا بل غیر معمولی طور پر بڑھ جائے تو صارف کو گھبرانے کے بجائے گزشتہ چند ماہ کے بلوں سے اس کا موازنہ کرنا چاہیے۔ یونٹس کے ساتھ میٹر ریڈنگ، بلنگ کے دن، ٹیکسز، فکسڈ چارجز اور کسی بھی اضافی رقم کو غور سے دیکھیں۔
اگر بل میں درج میٹر ریڈنگ اصل میٹر سے مختلف ہو، یونٹس معمول سے کہیں زیادہ ہوں یا کسی چارج کی وضاحت سمجھ نہ آئے تو متعلقہ بجلی کمپنی سے تصدیق یا شکایت کی جا سکتی ہے۔
بجلی کا خرچ کم کرنے کے لیے غیر ضروری لائٹس اور پنکھے بند رکھنا، اے سی کو مناسب درجہ حرارت پر استعمال کرنا اور زیادہ بجلی خرچ کرنے والے آلات کو بلا ضرورت چلانے سے گریز کرنا مفید اقدامات ہیں۔
ماہرین کے مطابق بجلی کا بل سمجھنے کے لیے صرف یونٹس پر توجہ دینا کافی نہیں۔ بل میں موجود تمام چارجز اور کنکشن کی تفصیلات کا جائزہ لینے سے صارف کو اصل وجہ معلوم کرنے میں مدد مل سکتی ہے کہ اضافی رقم زیادہ استعمال کی وجہ سے بڑھی ہے یا دیگر چارجز نے بل پر اثر ڈالا ہے۔









