
ارجنٹینا کے عظیم فٹبالر لیونل میسی آج قومی ٹیم کی جانب سے اپنے کیریئر کا آخری میچ کھیلنے میدان میں اتریں گے، جس کے ساتھ ہی ان کا دو دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط بین الاقوامی سفر اختتام کو پہنچ جائے گا۔
بیونس آئرس کے مونومینٹل اسٹیڈیم میں بینن کے خلاف ہونے والا یہ مقابلہ میسی کے لیے محض ایک میچ نہیں بلکہ ارجنٹینا کے ساتھ ان کے پیچیدہ مگر یادگار تعلق کی آخری کڑی بھی ہوگا۔
ابتدا میں میسی کو پذیرائی نہیں ملی
میسی نے کم عمری میں ارجنٹینا چھوڑ کر اسپین میں بارسلونا کی مشہور اکیڈمی لا ماسیا کا رخ کیا۔ اسی دوران اسپین نے بھی انہیں اپنی قومی ٹیم کے لیے کھیلنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی، جبکہ ارجنٹینا میں اس نوجوان ٹیلنٹ کے بارے میں زیادہ معلومات موجود نہیں تھیں۔
2003 کے انڈر 17 ورلڈ کپ کے دوران ارجنٹینا اور اسپین کے درمیان سیمی فائنل ہوا۔ اسپین کی ٹیم میں میسی کے بارسلونا کے ساتھی سیسک فیبریگاس بھی شامل تھے۔ مقابلے کے بعد ارجنٹائن کے وفد کو یہ احساس دلایا گیا کہ ان کی ٹیم کا ایک غیر معمولی کھلاڑی بارسلونا میں موجود ہے۔
ارجنٹینا کے حکام کے لیے دلچسپ صورت حال اس وقت پیدا ہوئی جب انہوں نے میسی کے خاندان سے رابطہ کرنے کی کوشش کی۔ ایک موقع پر ان کا نام بھی غلط سمجھا گیا اور بعد ازاں فٹبال حکام کی جانب سے بھیجے گئے ایک فیکس میں ان کا نام غلط اسپیلنگ کے ساتھ درج ہوا۔
قومی ٹیم میں جگہ بنانے کے بعد بھی سوالات برقرار رہے
میسی نے 2004 میں ارجنٹینا کی انڈر 20 ٹیم کے لیے کھیلنا شروع کیا، لیکن قومی ٹیم کے ساتھ ان کا سفر ابتدا ہی سے آسان نہیں تھا۔
چونکہ وہ طویل عرصے سے اسپین میں رہ رہے تھے اور بارسلونا کے لیے کھیلتے تھے، اس لیے ارجنٹینا کے بعض حلقوں میں یہ سوال بھی اٹھتا رہا کہ آیا وہ قومی ٹیم کے حقیقی نمائندے ہیں یا نہیں۔
2005 کے انڈر 20 ورلڈ کپ میں بھی میسی کو ابتدا میں بینچ پر رکھا گیا۔ بعد میں انہوں نے اپنی صلاحیتوں کا بھرپور اظہار کیا اور ارجنٹینا کو ٹورنامنٹ میں اہم کامیابیاں دلانے میں کردار ادا کیا۔
سینئر ٹیم میں بھی میسی کو مسلسل بارسلونا جیسی کارکردگی دکھانے کی توقعات کا سامنا رہا۔ جب وہ ہر میچ میں ویسی کارکردگی پیش نہ کر سکے تو بعض شائقین نے انہیں ”پیچو فریو“ یعنی جذبے کی کمی رکھنے والا کھلاڑی قرار دیا۔
2011 میں تعلق بدلنے لگا
ارجنٹینا اور میسی کے درمیان تعلق میں نمایاں تبدیلی 2011 میں کولمبیا کے خلاف ورلڈ کپ کوالیفائر کے دوران نظر آئی۔
مشکل مقابلے میں میسی نے ٹیم کو شکست کے خطرے سے نکالنے میں اہم کردار ادا کیا۔ شدید تھکن کے باوجود ان کی جدوجہد نے شائقین کے رویے میں تبدیلی پیدا کی اور انہیں قومی ٹیم کے لیے ایک ایسے کھلاڑی کے طور پر دیکھا جانے لگا جو آخری لمحے تک لڑتا ہے۔
یہی وہ مرحلہ تھا جہاں میسی اور ارجنٹائن کے عوام کے درمیان فاصلہ بتدریج کم ہونا شروع ہوا۔
شکستوں کے باوجود عوام نے میسی کا ساتھ دیا
2016 میں کوپا امریکا کے فائنل میں چلی کے ہاتھوں شکست کے بعد میسی نے بین الاقوامی فٹبال سے عارضی ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا۔
تاہم اس بار ارجنٹائن کے عوام کا ردعمل ماضی سے بالکل مختلف تھا۔ شائقین نے میسی کو تنقید کا نشانہ بنانے کے بجائے ان سے قومی ٹیم میں واپس آنے کی اپیل کی۔
لوگوں کو یہ احساس ہونے لگا تھا کہ میسی نے ارجنٹینا کو مسلسل بڑے ٹورنامنٹس کے فائنلز تک پہنچایا، اس لیے ہر شکست کی ذمہ داری صرف ان پر عائد کرنا درست نہیں۔
اسکالونی کے دور میں میسی کا نیا کردار
لیونل اسکالونی کے کوچ بننے کے بعد ارجنٹینا کی ٹیم نے ایک نئے دور میں قدم رکھا۔ میسی بھی محض ایک اسٹار کھلاڑی کے بجائے ٹیم کے مرکزی قائد کے طور پر ابھرے۔
ان کی قیادت میں ارجنٹینا نے کوپا امریکا کے ٹائٹلز جیتے اور 2022 میں قطر میں ہونے والے فیفا ورلڈ کپ میں بھی کامیابی حاصل کی۔
ورلڈ کپ کی فتح نے میسی اور ارجنٹائن کے درمیان تعلق کو ایک نئی بلندی دے دی۔ وہ کھلاڑی جسے کبھی قومی ٹیم میں جذبے کی کمی کا طعنہ دیا جاتا تھا، اب ملک کے سب سے محبوب کھیلوں کے ہیروز میں شمار ہونے لگا۔
میراڈونا اور میسی کا موازنہ
میسی کے قائدانہ کردار میں اضافے کے ساتھ ان کا موازنہ ارجنٹینا کے لیجنڈری فٹبالر ڈیاگو میراڈونا سے بھی کیا جاتا رہا ہے۔
تاہم فٹبال مبصرین کے مطابق دونوں کھلاڑیوں کی عظمت کو ان کے اپنے اپنے ادوار کے تناظر میں دیکھنا زیادہ مناسب ہے۔ میراڈونا کو ارجنٹینا میں غیر معمولی عوامی محبت فوری طور پر حاصل ہوئی، جبکہ میسی کے معاملے میں یہ تعلق کئی سال کی جدوجہد، تنقید، شکستوں اور بالآخر کامیابیوں کے بعد مضبوط ہوا۔
آج جب میسی ارجنٹینا کے لیے آخری بار میدان میں اتریں گے تو ایک ایسے سفر کا اختتام ہوگا جو کئی اتار چڑھاؤ سے گزرا۔
ایک ایسا نوجوان، جس کے بارے میں کبھی ارجنٹینا کے فٹبال حکام کو بنیادی معلومات تک درست طور پر معلوم نہیں تھیں، وقت کے ساتھ اسی ملک کا کپتان بنا، ورلڈ کپ جیتا اور اپنی کارکردگی سے ارجنٹائن کے عوام کے دلوں میں مستقل مقام حاصل کر لیا۔









